پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان بڑھتی قربتیں

پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سنٹر میں ائیروایشیائی ممالک کے درمیان بڑھتے روابط کی اہمیت کے حوالے سے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی گئی ۔ کانفرنس میں ازبکستان، قازقستان ،کرغیزستان، تاجکستان اور بیلاروس کے سفیروں کے علاوہ ملک بھر سے آئے ہو ئے تحقیق کاروں اور ماہرین نے افغانستان کے اندر حالیہ سیاسی پیش رفت کے تناظر میں علاقائی ریاستوں کے درمیان سیاسی اور تجارتی روابط بڑھانے کو وقت کا اہم تقاضا قراردیا۔ایریا سٹدی سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شبیر احمد خان کے مطابق کانفرنس کا مقصد علاقائی ریاستوں کے درمیان تجارتی اور سیاسی روابط بڑھانے کیلئے عملی تجاویز کو سامنے لانا تھا۔ پاکستان اور وسطی ایشیائی مما لک کے درمیان معاشی، ثقافتی، سائینسی اورتعلیمی لحاظ سے باہمی تعاون کے بڑے مواقع موجود ہیں لیکن افغانستان کے اندر سلامتی کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر پچھلے تقریباً تین دہائیوں کے دوران پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ تجارتی طورپر قریب ہونے کا موقع نہیں ملا ۔ اب جبکہ افغانستان سے قیام امن کے حوالے سے اچھی خبریں آرہی ہیں لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ان مواقع سے بھرپوراستفادہ کیا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے پچھلے ہفتے تاجکستان کے دارلحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کی سربراہی اجلاس کے دوران ان ممالک کے سربراہان سے ممکنہ باہمی تعاون پر تفصیل سے بات کی۔ وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ظہیرالدین بابر کی زندگی پر پاکستان میں ایک فلم بنائیں گے۔اس کیلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے ۔ اس کمیٹی کے ایک ممبر پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ اور سیاسیات کے چیرمین محبوب حسین نے ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ وہ مستقبل میں وسطی ایشیائی ممالک اور پاکستان کے باہمی اشتراک سے علامہ اقبال اور مرزا غالب کے علاوہ پشتو کے مشہور شعرا رحمن بابا اور خوشحال خان خٹک پر بھی اسی طرح کی فلم اور ڈرامے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان سے طلبہ کو وہاں جاکر اس تاریخی خطے کی ثقافت، سماج، رسم ورواج اور معیشت کے بارے میں آگاہی ہوسکے گی۔جس طرح ازبکستان کے شہروں تاشقند اور ثمرقند کو ہمارے ہاں مقبولیت حاصل ہے اسی طرح امام بخاری کی مناسبت سے بخارا کو بھی وہی احترام ملتا ہے۔دوہزار اٹھارہ تک پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً چالیس ملین ڈالر تھا لیکن سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب یہ حجم ایک سو بیس ملین ڈالر ہوچکا ہے۔ ازبکستان کے سفیر نے توقع ظاہر کی کہ اسی سال یہ حجم ایک سو پچاس ملین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے ترمیز اور خیبر پختونخوا کے پشاور کو جڑواں شہر اعلان کرنے کیلئے بھی بھر کوششیں جاری ہیں۔ انہی کوششوں کے سلسلے میں یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے اندر اییوریشین انڈسٹریل اینٹگریشن سنٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔اس سنٹر کا مقصد پاکستان اور وسطی ایشیائی ملکوں کے درمیان صنعت کے میدان میں ایک دوسرے کے وسائل اور صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہے۔ شہر اقبال سیالکوٹ میں اس وقت تقریبا پانچ سو کے قریب چھوٹے بڑے کارخانے ہیں جو دو سو ستر کروڑ روپے سالانہ کے حساب سے پورے ملک کے برآمدات میں تقریبا نو فیصد کاحصہ ڈالتاہے۔ انہی قانونی پیچیدگیوں کوبیرونی سرمایہ کاروں کیلئے سہل بنانے کیلئے حکومت نے پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سنٹر میں ایک لیگل فریم ور ک سنٹر بھی قائم کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اربوں ڈالر پر مشتمل دنیا کے کئی بڑے بڑے پروجیکٹس اس خطے میں اپنی تکمیل کیلئے افغانستان کے اندر امن کے قیام کی منتظر ہیں۔ انہی پرجیکٹس میں روڈ اینڈ بیلٹ انیشی ایٹیو (بی آر آئی)، چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک)، بجلی ااور گیس کے بڑے بڑے منصوبے کاسا 1000 اور (Tapi) شامل ہیں ۔وقت کا تقاضا ہے کہ ان ممالک کی سیاسی لیڈرشپ سر جوڑکر بیٹھے اور ایک دوسرے کے وسائل اور صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔اسکے لئے ضروری ہے کہ ان ممالک کے عوام کے درمیان قریبی روابط استوار کئے جائیں۔ وہاں سے لوگ یہاں آئیں اور یہاں سے وہاں جائیں تاکہ ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں اور اسکے لئے مشترکہ لائحہ عمل تجویز کریں۔ اسی طرح ایکیڈیمیا، بزنس کمیونٹی، طلبا ، سیاستدانوں، ادبی شخصیات کے وفود کا تبادلہ ہو ۔ اسکے ساتھ ہی میڈیا کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ علاقائی ریاستوں کے درمیان موجود مسائل کی نشاندہی کرے اور ان کے حل کیلئے عملی تجاویز سامنے لے کے آئے۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہی خوابوں کی سچی تعبیر تب ہی ممکن ہے جب افغانستان میں امن ہو لہٰذا دنیا کوافغانستان کی مالی اور اخلاقی مدد کیلئے آگے آنا چاہے ۔