mashriq

طالبان حکومت کی دستگیری کی ضرورت

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے رمیز الاکبروف سے ملاقات میں افغان وزیر خزانہ نے ان کو بتایا کہ افغانستان میں مسائل بڑھ گئے تو نقصان پوری دنیا میں محسوس کیا جائے گا ۔مغربی ممالک جہاں طالبان حکومت کو مالی امداد دینے کے بارے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکے، وہیں افغانستان کے پڑوسی ممالک چین اور پاکستان نے افغانستان کی مالی امداد کرنا شروع کر دی ہے جبکہ روس بھی جلد ہی ایسا کرے گا۔امر واقع یہ ہے کہ جنگ زدہ ملک افغانستان کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے، خوراک کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور کئی لاکھ افراد شدید غربت کا شکار ہیں۔ لیکن امریکا اور مغربی ممالک طالبان کو تب تک امداد نہیں دینا چاہتے، جب تک کہ وہ انسانی حقوق اور خاص کر خواتین کے حقوق کی فراہمی کی یقین دہانی نہیں کراتے۔افغانستان کے دس ارب ڈالر کے غیر ملکی اثاثے بھی بیرون ملک منجمد ہیں۔ اقوام متحدہ کی سکریٹری جنرل کی نمائندہ برائے افغانستان ڈوبورا لینز نے گزشتہ ہفتے سکیورٹی کونسل کو بتایامقصد طالبان حکومت کو پیسہ نہ دینے کا اثر یہ ہو گا کہ اس ملک کی مالی حالت مزید ابتر ہو جائے گی اور کئی لاکھ افراد غربت اور بھوک کا شکار ہو جائیں گے اور افغانستان سے مہاجرین کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملے گی افغانستان کئی عشرے پیچھے جا سکتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ امریکا اور نیٹو افواج پر گزشتہ بیس سالوں کے دوران جو ارب ڈالر خرچ کئے گئے اور اس سارے عرصے میں افغانستان کے جو داخلی اقتصادی اور معاشی معاملات اصلاح پذیر ہوئے حالات کا تقاضا ہے کہ طالبان حکومت سے اختلافات اور اسے تسلیم نہ کرنے کے باوجودکوشش کی جائے کہ وہ ساری محنت اور وسائل کا استعمال رائیگان نہ جائے جس کا تقاضا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت کی اقتصادی و مالی مدد کی جائے تاکہ یہ ملک معاشی عدم استحکام کے باعث داخلی عدم استحکام کا شکار نہ ہو جائے اور افغان عوام معاشی بدحالی کے باعث مفلوک الحال نہ ہوں افغانستان میں طالبان حکومت کو سہارا دینا خود دنیا کے مفاد میں ہے ناکامی کی صورت میں ان کے پاس مزید شدت پسند ی ا ختیار کرنے اور انتقام و نفرت کی راہ پر چلنے کے کوئی اور چارہ کار باقی نہ رہے گا ایسے میں افغانستان جس انسانی المیہ سے دو چار ہو گا اس کا ازالہ ممکن نہ ہوگا۔
ایک ملک دو قانون کیوں؟
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے نام پر جعلی کورونا ویکسینیشن سے متعلق خبروں کے بعد حکومت پنجاب کے محکمہ صحت نے تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) سائبر کرائم سے رجوع قانون کاتقاضا ہے ایک ملک میں دو قوانین کی تحریک انصاف ہمیشہ سے شاکی رہی ہے پنجاب میں جو اقدام اٹھایا گیا ہے وہ سیاسی سبکی کا غصہ ہے یاواقعی قانون کی پاسداری مقصود ہے اس سے قطع نظر خیبر پختونخوا میں اسی طرح کا جو مضحکہ خیزاور بڑے پیمانے پر ایک سے زائد ہسپتالوں اور علاقوں میں جعلی ویکسی نیشن سرٹیفیکیٹ کے اجراء اور ویکسین کی تعداد سے کہیں زیادہ افراد کو ویکسین لگانے کی فہرستیں سامنے آئی تھیں نیز جن کا سرکاری طور پر اعتراف بھی کیا گیا تھا اس کے ذمہ دار افراد اور ان کی نگرانی کرنے والے حکام کے خلاف ابھی تک کوئی مقدمہ درج کرکے تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟بہتر ہو گا کہ ان سوالات کا جواب دیاجائے اور اس کی وضاحت کی جائے یا پھر اب تک ہونے والی کارروائی کے نتائج سے عوام کو آگاہ کیا جائے تو بہتر ہو گا جو قانون کی بالادستی اور پورے ملک میں یکساں قوانین اور اس پرعملدرآمد کے تاثر کے لئے بھی اہم ہو گا۔
وراثت کی بلاتاخیرتقسیم ہونی چاہئے
سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کی وراثت کے حوالے سے پشاور کی رہائشی خواتین کے بچوں کا نانا کی جائیداد میں حق دعویٰ مسترد کرتے ہوئے قراردینا کہ کہ خواتین کو وراثت میں حق اپنی زندگی میں ہی لینا ہوگا، خواتین زندگی میں اپنے حق نہ لیں تو ان کی اولاد دعویٰ نہیں کر سکتیاس کے قانونی پہلو جو بھی ہوں اس سے قطع نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے کے بعد خواتین کو اپنی وراثت کے حوالے سے بروقت فیصلہ کرنے اور اپنے حق کے حصول کو خود ہی ترجیح دینا چاہئے معاشرے میں وراثت کی تقسیم اور وراثت میں اپنا حصہ مانگنے کو جس طرح معیوب بنا دیا گیا ہے خاص طور پر خواتین کو حق سے محروم رکھنے کا جو رویہ ہے اسے تبدیل کرنے کے لئے باقاعدہ مہم کی ضرورت ہے اس حوالے سے علمائے کرام میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کواپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ جہاں تک قانون کا سوال ہے ورثاء کی اب نادرا کے کمپیوٹرائزڈ نظام میں شناخت اور تعین کوئی مشکل معاملہ نہیں نیز پٹواریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ورثاء کا شجرہ اور دستاویزات کسی شخص کی وفات کے فوراً بعد ہی اس کی وراثت بصورت اراضی منتقل کرنے کی ذمہ داری ایمانداری سے نبھائیں جبکہ کاروبار اور دیگر مالیاتی حساب کتاب میں حصہ داری کے تعین میں خود ورثاء کی جانب سے تعین و تقسیم کو ایک خاص مدت کے اندر مکمل کرکے رجسٹرڈ کرنے کو قانون بنایا جائے تاکہ حقداروں کو حق ملنے میں تاخیر اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔