Mashriqiyat

مشرقیات

عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آیا ہے کہ خواتین زندگی میں حق وراثت نہ لیں تو اولاد دعویٰ نہیں کر سکتی قانون کا فیصلہ درست ہی ہو گا وراثت سے ہٹ کر بھی بڑے مسائل ہیں سچ پوچھیں تو بیٹی کی پیدائش ہی کو اکثر مسئلہ سمجھا جاتا ہے آخر کیوں بیٹیوں کے بارے میں دو باتیں ہر کسی کی زبان پر ہوتی ہیں ۔بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں ،جتنی جلدی اتر جائے اچھا ہے۔ بیٹیاں پرایادھن ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔کتنی ہی بیٹیاں جہیز نہ دینے کی وجہ سے معاشرے کی نظر میں اپنے والدین کے کندھوں کا بوجھ بن کر رہ جاتی ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ لڑکی والوں کو وہ چیزیں بھی بیٹی کو جہیز میں دینے پر مجبور ہوتی ہیںجو خود ان کے اپنے گھر میں بھی موجود نہیں ہوتیں۔جہیز کے نام پر جو شادی بیاہ میں اخراجات ہوتے ہیں وہ ناقابل بیان ہے لڑکی اپنے والدین سے کچھ مطالبہ کرے تو کر سکتی ہے کیونکہ یہ تواس کا پیدائشی حق ہے مگر ہونے والے داماد اور اس کے گھر والوں کو یہ حق کس نے دیا کہ جہیز کے نام پر لڑکی کے گھر والوں سے فرمائش کریں یہ تو ایک قسم کی محض بھیک ھو گی۔پر آج بھی معاشرے میں کئی افراد اس بات کو نہیں سمجھتے
دیکھی جو گھر کی غربت تو چپکے سے مرگئی
ایک بیٹی اپنے باپ پہ احسان کر گئی۔
بیٹے اور بیٹی کے حوالے سے ہم خود بھی امتیازی سلوک کرتے ہیںبیٹی گھر سے باہر جانا چاہے تو ہم اسے نہیں جانے دیں گے بلکہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر گھر بٹھا دیں گے حالانکہ گھر سے باہر کی دنیا میں خطرات ایک لڑکے کے لئے بھی اتنے ہی ہیں جتنے لڑکی کے لئے آپ کے بیٹے کے ساتھ بھی باہر کئی طرح کا ظلم ہو سکتا ہے بیٹی کے ساتھ ہم نے اپنی عزت جوڑلی ہے لہٰذا اس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہوتا ہے ایسا کرنا مجبوری بن گئی ہے لیکن مشکل امر یہ ہے کہ اس حفاظت کے نام پر ہم اپنی بیٹی کو کمزور بناتے چلے جاتے ہیں کیوں کہ ہم اسے اِس قابل نہیں بناتے کہ وہ اپنی حفاظت خود کرسکے بلکہ ہم اس کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے سر لیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ساری زندگی اس کے ساتھ اس کی حفاظت کے لیے نہیں رہ سکتے اگر ہم اسے اپنی حفاظت کے قابل بنا دیں تو وہ زیادہ محفوظ رہے گی اور کسی پر بوجھ نہیں بنے گی آخر وہ بیٹی ہے بوجھ تو نہیں اگر ہم بیٹے کی پرورش بھی ویسے ہی کریں جیسے بیٹیوں کی کرتے ہیں اور وہی روک ٹوک بیٹوں کے ساتھ کریں تو لڑکے بھی دنیا پر بوجھ بن کر رہ جائیں گے۔اِسی لئے ہمیں اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت اور حوصلہ افزائی ٹھیک اسی طریقے سے کرنی چاہیے جس طرح ہم اپنے بیٹوں کی کرتے ہیں تاکہ وہ معاشرے پر خود کو بوجھ نہ سمجھیں بلکہ اپنی ایک الگ پہچان بنا سکیں۔