Idhariya

بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں بڑے بڑے مافیا بیٹھے ہوئے ہیں، قانون سے بالاتر ہیں، قانون کی بالادستی قائم نہیں ہونے دیتے ،آج سسٹم اور ان مافیاز کے خلاف جو جنگ ہم لڑ رہے ہیں اس میں کامیاب ہوں گے وزیر اعظم اکثر اپنی تقاریر میں مافیاز کو شکست دینے کے عزم کا اعادہ کرتے رہتے ہیں تازہ ترین خطاب میں بھی انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے مافیا کی اصطلاح میں وسعت ہے لیکن وزیر اعظم کی پرانی تقاریر اور موقف کا جائزہ لیا جائے تو ان کی نظر میں مافیا کا مطلب ان کے متمول سیاسی مخالفین اور خاص طور پر دو بڑی سیاسی جماعتیں اور بالخصوص ان کے قائدین ہیںسیاسی طور پر دیکھا جائے تو عام انتخابات میں وہ ان کو شکست دے کر اقتدار میں آچکے ہیں لیکن اگر ان کی مکمل بیخ کنی مطلوب ہے تو ایسا ممکن نہیں بلکہ دیکھا جائے تو اب الٹا وہ وزیر اعظم پر وہ الزامات لگا رہے ہیں جوکبھی تحریک انصاف کے جلسوں میں مخالفین پرلگتے رہے ہیں ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں تازہ وجہ غیر ملکی تحائف کے حصول کی تفصیلات کو پوشیدہ رکھنا ہے جس سے اس امر کا اظہار ہو رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے معاملات شفاف ہوتے تو رازداری برتنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ مافیا کی ا صطلاح کی عوامی تشریح کی بجائے تو اس کے کارندے خود وزیر اعظم کے ارد گرد موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی کون کرے گا ‘کیسے کرے گا اس کا وزیر اعظم کو جواب دینا چاہئے نہ صرف جواب بلکہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کے بعد ہی وزیر اعظم مافیا دشمن اور عوام دوست کہلا پائیں گے فی الوقت صورتحال مختلف ہے وزیراعظم دعوئوں اور اعلانات سے کب آگے بڑھتے ہیں اس کا فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے البتہ اب دن گھٹتے جارہے ہیں اور دم آخر کی ایسی کوئی سعی وقت نزاع کے توبے کی ہو گی اس لئے وزیر اعظم اگر سنجیدہ ہیں تو انہیں بلآتاخیر قدم اٹھانا ہو گا۔کسی ریاست کے نظام میں تبدیلی کی علامت یہیں سے ظاہر ہو سکتی ہے کہ ماضی کے مقابلے میں وہاں کے نظام میں کس حد تک شفافیت پیدا ہوئی۔ تحریک انصاف کی حکومت کا نصب العین بھی یہی تھا جس کے لیے تبدیلی کا ماٹو استعمال کیا گیا موجودہ حکومت کے مدت اقتدار کے اب تک کے عرصے کا جائزہ لیں تو اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی سرکاری اداروں میں ہر لحاظ سے پہلے جیسی صورتحال جوں کی توں بد عنوانی اور لاقانونیت جیسے مسائل بدرجہ اتم موجود ہیںحکومت کے تین برس بعد بھی اگر وزیر اعظم مافیاز کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل پر شاکی ہیں تو کیا یہ سوال پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ اگر مافیاز آج بھی سسٹم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور قانون کی بالا دستی پیدا نہیں ہونے دیتے تو پھر ان تین برسوں میں ہوا کیا؟۔حکومت کا فرض منصبی ہی یہ ہے کہ ریاست اور عوام کے مفادات کی حفاظت کرے اور نظام کو درست طریقے سے آئین اور قانون کے مطابق چلائے۔ اگر حکومت ہی نظام کو چلانے اور انتظام حکومت کی ذمہ داری احسن طریقہ سے پوری نہیں کر پارہی ہے مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن جانے کی شکایت توپیدا ہو گی۔ ریاست کے اندر سبھی اختیارات حکومت کو حاصل ہیں ہر طرح کی انتظامی مشینری اس کے پاس ہے وہ اس مشینری کو اپنی بہترین صلاحیت اور نصب العین کے ساتھ بروئے کار لانا چاہے تو اصولی طور پر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں امر واقع یہ ہے کہ حکمران جماعت اپنے انتخاب سے بھی پہلے سے مافیاز کی نشاندہی کرتی اور ان سے نمٹنے کے ارادے باندھتی ہوئی محسوس ہوتی تھی اپنے اقتدار کے تین سال میں بھی کیوں کچھ ایسا نہیں کر سکی جس سے مافیا کی گرفت کمزور ہو؟ اس سلسلے میں اب تک کیا کیا گیا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں؟ عوام کی نظر میں سب سے بڑا مافیا وہی ہے جو ان کی خوراک کی بنیادی اشیا کی قیمتیں دیکھتے ہی دیکھتے بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کے بار بار کے عزم کے اعادے اور نتیجہ صفر ہونا ان کے عزم اور حکومت بارے اچھے تاثرات کا باعث نہیں وزیر اعظم اگر پرعزم ہیں تو سربراہ حکومت ہونے کے ناتے ان کے ہاتھ کسی نے نہیں باندھے ہیں عدالتیں بھی مافیاز کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے عوام کو انصاف دینے کے عزائم کا اظہار کرتی ہیںاگردیکھا جائے تو مافیا کی اصطلاح عدالتی کارروائی کے دوران استعمال ہونے کے بعد ہی یہ لفظ کوٹھوں چڑھی لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جن کے خلاف مقدمے میں یہ اصطلاح استعمال ہوئی اسی کے خلاف کارروائی نہ ہوسکی ساتھ ساتھ اسی کے ہم پلہ شخصیت کے خلاف بھی مقدمات کی سماعت سے زیادہ کچھ نہ ہوسکا اب ایسا لگتا ہے کہ دفتر ہی لپیٹے جا چکے ہیں اس کے باوجود عوام وزیر اعظم سے بجا طور پر امیدیں وابستہ ہیں کہ حکومت عوام سے کئے گئے وعدے ضرور پورا کرے گی اور مافیاز سے ان کو نجات دلائی جائے گی۔