قارئین کرام ! ہمیشہ خوش رہا کریں

ایک بڑھیا بڑی دیر تک اپنی عینک ڈھونڈ رہی تھی۔کسی نے پوچھا کہ کیا تلاش کر رہی ہو تو بتایا ، میری عینک کھو گئی ہے۔ سوال کرنے والا ہنسا اور کہا کہ عینک تو آپ نے پہن رکھی ہے۔ اس چینی کہاوت کا نتیجہ یہ نکالا گیا ہے کہ خوشی انسان کے اپنے پاس ہوتی ہے جبکہ وہ کہیں اور تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ دُنیا میں ہر دورکا انسان خوشی کا متمنی رہاہے ۔وہ چاہتا ہے کہ اسے خوشیاں اور کامیابیاں حاصل ہوں۔ یوں بھی اگر انسانی سرگرمیوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر انسان ایک پر سکون زندگی بسر کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں لوگوں کی ایک اکثریت خاصی بیزاری کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ آپ کہیں بھی چلے جائیں،آپ کا واسطہ ضرور کسی ناخوش اور الگ تَھلگ رہنے والے آدمی سے ہوگا ۔ ایسا اس لئے ہے کہ بیشتر انسان خوش رہنے کی محض تمنا کرتے ہیں، خوشی کو یقینی بنانے کے لئے عملی سطح پر کچھ کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ محض خواہش کرلینے سے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ مسرت تلاش کرنے اور پانے کی چیز ہے ہی نہیں۔ ہم جانتے ہی نہیں کہ خوشی کسے کہتے ہیں ؟ یہ تو پیدا یا خلق کرنے کا معاملہ ہے۔ باطنی زندگی سے دوری ہی نے ہمیں خوشی سے دور کر دیا ہے ۔اگر انسان اپنی ذات کی آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس کے یے خوشی کا حصول بھی آسان ہو سکتا ہے۔ ہم تشویش اور پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور مسلسل کڑھتے بھی رہتے ہیں۔ جتنی شکایتیں بڑھتی جاتی ہیں،اسی قدر زندگی میں خوشی کا عنصر بھی کم ہوتا جاتا ہے۔
جو لوگ خوش رہنے پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے ذہنی ماحول کو پریشان کن باتوں سے خراب ہونے نہیں دیتے تواُن کا پُرمسرت رویہ ہی ان کے وجود بلکہ پوری زندگی کو پُرسکون بنائے رکھتا ہے۔ خوشی کہیں بھی مکمل اور حتمی حالت میں نہیں ملتی۔ یہی سبب ہے کہ بڑے بڑے دولت مند افراد بھی ضرورت پڑنے پر حقیقی مسرت خرید نہیں پاتے۔ اگر مسرت خریدی جاسکتی تو آج بھری دنیا میں کوئی بھی رنجیدہ و مغموم نہ ہوتا۔ خوشی و غم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور زندگی میں ہر آدمی کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔حقیقی خوشی زندگی کی خوشیوں اور غموں کے ساتھ نباہ کرنے میں ہے۔
اسی طرح اگر ہم اپنے علاوہ دوسرے افراد کے نقطہ نظر کو اہمیت دینے پر آمادہ ہوں اور اُن کی ذات کو تسلیم کریں تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں دیگر لوگ بھی ہماری طرح خوشی و غم سے دوچار ہوتے ہیں ۔اس سے وہ سماجی معاونت حاصل ہوتی ہے جو ایک دوسرے کی بیزاری اور مایوسی کوکم کر دیتی ہے۔اپنی زندگی کو پُرمسرت بنانے میں وہی لوگ کامیاب ہو پاتے ہیں جو اپنے شب و روز کسی واضح مقصد کے تحت بسر کرتے ہیں۔ کامیابی کی طرح مسرت بھی کسی منزل کا نام نہیں بلکہ سفر ہی کو منزل کا درجہ دے کر مطمئن ہو رہنے کا نام ہے ۔اپنی بہت سی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ بھی خوش ہونے سے طبیعت باغ و بہار رہتی ہے۔ جب انسان بے جا طور پر رنجیدہ رہنے اور بلا جواز کڑھن محسوس کرنے سے گریز کرے تو ایک انجانی سی راحت محسوس کرنے لگتا ہے۔ اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو انسان کو حقیقی مسرت سے ہم کنار کرسکتے ہیں۔ انسان کو خوشی کسی بھی بات سے مل سکتی ہے۔ کوئی جملہ، کوئی گیت، کوئی کہانی، کوئی قصہ، کوئی فلم، کوئی ڈراما،غرض یہ کہ کوئی بھی چیز انسان کو نمایاں طور پر مسرت سے ہم کنار کرسکتی ہے۔ مطالعہ بھی انسان کے مزاج کو خوشگوار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر آپ دلجمعی سے تلاش کریں گے تو اپنے ماحول میں ایسے لوگ مل جائیں گے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اپنے تمام معاملات میں خاطر خواہ دلچسپی لیتے ہیں۔ خوش مزاج لوگوںکی صحبت انسان کو ہر دم خوش رکھتی ہے۔ احباب کا انتخاب بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر آپ خوش باش لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی عادت ڈالیں گے تو زندگی میں زیادہ معنویت پیدا ہوگی ۔ہر وقت بھی خوش نہیںرہا جاسکتا کیونکہ انسان کو رنجیدہ کرنے والے حالات اور مایوس کن معاملات سے نمٹنا پڑتا ہے ۔ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی مشکل صورتِ حال میں بھی ذہن کو پُرسکون رکھنے اور خوش رہنے کی کوشش ضرور کی جانی چاہیے جس سے فکر و عمل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خوش رہنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں مگر ایک معیاری طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش کی جائے اور اُن کی خوشی میں خوش رہا جائے۔ دوسروں کی خاطر خوش رہنے والوں کو سبھی پسند کرتے ہیں۔ اُنہیں لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں اپنا وجود زیادہ بامعنی معلوم ہوتا ہے۔ کوئی کسی کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتے ہوئے اُس میں شریک ہوتویہ بڑے ظرف کی علامت ہے مگرایسے لوگ خال خال ہوتے ہیں ۔ خوش رہنے سے مثبت سوچ پروان چڑھتی ہے۔ انسان معنویت اور مقصدیت کی طرف بڑھتا ہے، زندگی مفید سے مفید تر ہوتی جاتی ہے اور یوں جینے میں زیادہ لطف محسوس ہوتا ہے۔