mashriq-logo

وزیر اعلیٰ کے اقدام پر لبیک کہا جائے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے میں بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ پر وفاق کو خط لکھ کر صوبے کے عوام کی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے۔وزیراعلیٰ محمود خان نے خط میں لکھا ہے کہ صوبہ بجلی اور گیس پیدا کرتا ہے اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس کی وجہ سے صوبے کی معاشی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے محمود خان پورے صوبے کے متفقہ نمائندے کی حیثیت رکھتے ہیں جن کی ذمہ داریاں اور فرائض کے مطابق عوام بلا امتیاز ان سے اپنے مسائل کے حل او رصوبے کے حقوق کے حوالے سے ممکنہ اقدامات کی توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کے اس اقدام کو صوبہ بھر میں عوامی اور سیاسی دونوں سطح پر سراہنا فطری امر ہے اور اس حوالے سے ان کو بھر پور سیاسی و عوامی حمایت بھی حاصل ہو گی اس ضمن میں سربراہ حکومت کی جانب سے اقدام کے بعد اب یہ جملہ سیاسی و عوامی نمائندوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کی آواز میں اپنی آواز شامل کریں اور وفاق کو اس امر پر مجبور کیاجائے کہ وہ صوبے کے حقوق خواہ وہ وسائل کی صورت میں ہوں یا پھر توانائی کے ذرائع کی صورت ہوں آئین و قانون کے تحت صوبے کے عوام کو تمام حقوق دیئے جائیں ضم اضلاع کے لئے این ایف سی میں حصہ دینے میں اب مزید تاخیر نہ کی جائے۔
سودی قرض اور اتنی کڑی شرائط؟
سٹیٹ بینک نے صارف قرضوں پرمزیدکڑی شرائط کے تحت صارف قرض کی صلاحیت50 سے کم کر کے40فیصد کردی جبکہ گاڑی کے قرض کے لئے30فیصد ڈائون پیمنٹ دینا ہوگی بینکوں سے قرض لینے کا عمل پہلے ہی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا بینک قرض کے لئے درخواست دینے والوںپر جس طرح کڑی شرائط عائد کرتے ہیں اور سراسریکطرفہ شرائط طے کئے جاتے ہیں قرض خواہ کو اس قدر پابند کیا جاتا ہے کہ خود ان کا حق تک ساقط ہو جاتا ہے اب مزید شرائط اور قرض خواہ کے حصے میں اضافہ و بینک کے شیئر میں کمی اور اسے محدود کرنا خود بینکنگ کے نظام کو خطرے میں ڈالنے کا باعث ہو گاجس کے باعث بینکوں سے قرض لینے کے لئے رجوع کرنے کے رجحان میں کمی آسکتی ہے اس طرح کی کڑی شرائط اور قرض خواہ سے خاطر خواہ وصولی کا عمل قرض لینے والوں کے لئے مشکلات اور حوصلہ شکنی کا باعث ہو گا اتنی شرائط پر عملدرآمد کے ساتھ سودی قرضہ لینے سے نہ لینا بہتر فیصلہ ہو گا۔