Idhariya

افغانستان کے حالات اور عالمی برادری کی ذمہ داریاں

وزیر اعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کا فیصلہ کیوںکیا اور بھارتی وزیر اعظم کی طرح وہاں جا کر سفارتی تعلقات میں اضافہ اور عالمی رہنمائوں سے براہ راست ملاقات کے موقع کو کیوں اہمیت نہ دی اس سے قطع نظر وزیراعظم کا خطاب جامع اور اہم مسئلوں کی طرف دنیا کی توجہ دلانے اور پاکستان کا نقطہ نظر مدلل طور پر پیش کرنے کے حوالے سے اہم تھا ۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے افغانستان کے معاملے کو خاص اہمیت دی وزیراعظم عمران خان نے بجا طور پر کہا کہ دو راستے ہیں جو ہم اختیار کر سکتے ہیں، اگر ہم ابھی افغانستان کو نظرانداز کر دیتے ہیں تو اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کے نصف لوگ پہلے ہی انتہائی غریب ہیں اور اگلے سال تک افغانستان میں تقریباً 90 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے، وہاں پر ایک بڑا انسانی بحران منڈلا رہا ہے اور اس کے نہ صرف افغانستان کے پڑوسیوں بلکہ ہر جگہ سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔عمران خان نے کہا کہ ایک غیر مستحکم، افراتفری کا شکار افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا اور اسی وجہ سے امریکا، افغانستان آیا تھا۔وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو بالکل درست راستہ دکھایا ہے اور صورتحال کی بروقت اور احسن نشاندہی کی ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے رمیز الاکبروف سے ملاقات میں افغان وزیر خزانہ نے ان کو بتایا تھا کہ افغانستان میں مسائل بڑھ رہے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ افغان حکومت کی مشکلات میں خود بخود اضافہ ہو گا۔ اگرچہ بعض ممالک کی جانب سے افغان عوام کے لئے امدادی کاموں اور عطیہ دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے لیکن یہ کافی نہیں اسے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق ہی قرار دیا جا سکتا ہے افغانستان کو ایک انار سو بیمار کی کیفیت کا سامنا ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا فراخدلانہ امداد پر توجہ دے ۔ مشکل امر یہ ہے کہ اس قدر سنگین حالات کے باوجود مغربی طالبان حکومت کو مالی امداد دینے کے بارے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکے ہیںحالانکہ جنگ زدہ ملک افغانستان کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے، خوراک کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور کئی لاکھ افراد شدید غربت کا شکار ہیں۔ لیکن امریکا اور مغربی ممالک طالبان کو تب تک امداد نہیں دینا چاہتے، جب تک کہ وہ انسانی حقوق اور خاص کر خواتین کے حقوق کی فراہمی کی یقین دہانی نہیں کراتے۔افغانستان کے دس ارب ڈالر کے غیر ملکی اثاثے بھی بیرون ملک منجمد ہیں۔ اقوام متحدہ کی سکریٹری جنرل کی نمائندہ برائے افغانستان ڈوبورا لینز نے گزشتہ ہفتے سکیورٹی کونسل کو بتایاکہ طالبان حکومت کو پیسہ نہ دینے کا اثر یہ ہو گا کہ اس ملک کی مالی حالت مزید ابتر ہو جائے گی اور کئی لاکھ افراد غربت اور بھوک کا شکار ہو جائیں گے اور افغانستان سے مہاجرین کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملے گی افغانستان کئی عشرے پیچھے جا سکتا ہے۔وزیراعظم کے خطاب میں بھی انہی عوامل کی نشاندہی اور اعادہ ہے ۔امر واقعہ یہ ہے کہ امریکا اور نیٹو افواج پر گزشتہ بیس سالوں کے دوران جو اربوں ڈالر خرچ کئے گئے اور اس سارے عرصے میں افغانستان کے جو داخلی اقتصادی اور معاشی معاملات اصلاح پذیر ہوئے حالات کا تقاضا ہے کہ طالبان حکومت سے اختلافات اور اسے تسلیم نہ کرنے کے باوجودکوشش کی جائے کہ وہ ساری محنت اور وسائل کا استعمال رائیگان نہ جانے دیا جائے۔ جس کا تقاضا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت کی دل کھول کر اقتصادی و مالی مدد کی جائے تاکہ یہ ملک معاشی عدم استحکام کے باعث داخلی عدم استحکام کا شکار نہ ہو جائے اور افغان عوام معاشی بدحالی کے باعث مفلوک الحال نہ ہوں افغانستان میں طالبان حکومت کو سہارا دینا خود دنیا کے مفاد میں ہے ناکامی کی صورت میں ان کے پاس مزید شدت پسند ی ا ختیار کرنے اور انتقام و نفرت کی راہ پر چلنے کے کوئی اور چارہ کار باقی نہ رہے گا ایسے میں افغانستان جس انسانی المیہ سے دو چار ہو گا اس کا ازالہ ممکن نہ ہوگا۔طالبان حکومت کو یہ مشورہ بھی دینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اب مزید ان کی وکالت کرکے دنیا کی نظروں میں آنے اور شکوک و شبہات و تنقید برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا لہٰذا بہتر ہو گا کہ طالبان حکومت اب دنیا سے اپنے روابط کو مربوط بنانے کا آغاز کرے اور اپنا موقف آپ پیش کرنے اور منوانے کی سعی کرے اس ضمن میں دنیا کے مطالبات اور تقاضوں کو سمجھنے کی بھی سعی کی جائے جس کے بغیر معاشی و اقتصادی تعاون کی امید عبث ہے مدعی سست گواہ چست کا عمل مناسب نہیں اس کا جتنا جلد ادراک ہو اتنا ہی اچھا ہو گا۔
حکمت و بصیرت سے کام لینے کی ضرورت
ایک سینئرافغان طالبان رہنما کی جانب سے اسلامی اور شرعی سزائوں کے حوالے سے بیان افغان حکومت کی پالیسی ہے یا یہ ان کی ذاتی رائے ہے اس سے قطع نظر بطور مسلمان کوئی بھی شرعی سزائوں سے انکار نہیں کر سکتا البتہ سزا دینے کے مراحل جرم ثابت کرنے کا عدالتی عمل اور اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار سے اختلاف اور اس پر بحث کی پوری گنجائش ہے ۔چور کا منہ کالا کرکے گھمانے کاعمل کس حد تک شرعی ہے اور کیا اس کی گنجائش ہے اور کس قدر مال چرانے پر قطع ید کی سزا لاگو ہوتا ہے بہت سارے معاملات ہیں جس کے بارے میں علمائے کرام کی رہنمائی مطلوب ہے شرعی سزائوں پر معترض ہونے کا کسی کو حق نہیں البتہ اس امر میں حددرجہ احتیاط کا مظاہرہ ضروری ہے کہ سزائوں کے نفاذ میں کسی قسم کی غلطی کا ارتکاب نہ ہو اس ضمن میں قرآن و سنت اور خلفائے راشدین کے دور تک اس حوالے سے نفاذ و شرائط وا حوال سبھی عوامل
کا تفصیلی احتیاط اور باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہو گی جہاں تک شرعی سزائوں کے سخت ہونے کے اعتراض کا سوال ہے یہ محض مخالفین کا پروپیگنڈہ ہے بہت سے ممالک میں ایسی سزائیں دینے کی مثالیں دی جا سکتی ہیں جو تو ہین انسا نیت کے زمرے میں آتے ہیں خود طالبان رہنمائوں سے گوانتاناموبے میں جو سلوک روا رکھا گیا کیا دنیا اس کا جواب دے گی۔ سعودی عرب میں جو سخت سزائیں دی جارہی ہیں اور سخت قوانین موجود ہیں ان کا دنیاکس حد تک نوٹس لے رہی ہے ۔مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور سرے سے حقوق غضب کرنے اور کسی عدالت اور قانون تو کجا اخلاقیات تک کا جو جنازہ نکالا جارہا ہے دنیا اس کی روک تھام کے لئے کتنی سنجیدہ اور مشوش ہے اس کا تذکرہ ہی عبث ہے ۔ حالات وقت اور مصلحت کا تقاضا جو بھی ہو افغانستان میں شرعی سزائوں کے نفاذ میں اگر احتیاط اور عدل کے تقاضے پورے کئے جائیں گے تو کسی کو ان پر اعتراض کی گنجائش نہیں البتہ ایک جانب اپنی کرنے اور دوسری جانب دنیا کو منوانے کے دوہرے کردار کی گنجائش نہیں ہوگی جس کا ادراک ہونا چاہئے۔طالبان رہنما ایک جانب دنیا کو تبدیل ہونے اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے کا تاثر دے رہے ہیں اور دوسری طرف ساری باتیں چھوڑ کرایک ایسے موضوع کے منصوبہ بندی سے کئے جانے والے سوالات کے ایسے جوابات دے رہے ہیں جو ان کی زبان سے کہلوانا رابطہ کا ر کا مقصد ہوتا ہے ان چالوں کو سمجھنے اور حکمت و بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اپنا موقف دہرانے کی ضرورت ہے تاکہ یکطرفہ معانی نہ نکالے جا سکیں اور شرعی سزائوں کے وقوف اور نفاذ کے پورے عمل کی صراحت سے وضاحت بھی ہو۔