syed-zeshan-kazmi-column

مودی کی عالمی سطح پر رسوائی

بھارت کو افغانستان میں جو ناکامی اور ہزیمت اٹھانی پڑی ہے اس کا پہلا اظہار بھارتی وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کیا ہے، چونکہ بھارت کے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں ہے اس لئے مودی نے بدحواسی میں بے تکی باتیں کر کے خفت مٹانے کی کوشش کی ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ دنیا کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ افغانستان دہشت گردی پھیلانے کا ذریعہ نہ بنے، موجودہ دور میں دنیا کو انتہا پسند سوچ کا سامنا ہے۔مودی نے مزید کہا کہ افغانستان کی خواتین، بچوں اور اقلیتوں کو مدد کی ضرورت ہے اور ہم سب کو افغانستان کے لوگوں کی مدد کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب مودی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہا تھا تو عین اس موقع پر نیویارک اور وائٹ ہاوس کے باہر مودی مخالف نعرے گونج رہے تھے، یوں اقلیتوں پر زندگی اجیرن کرنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا امریکا میں مظاہروں سے استقبال کیا گیا۔ سکھوں اور کشمیریوں نے مودی کی آمد پر وائٹ ہاوس کے باہر احتجاج کیا۔ فضا مودی مخالف نعروں سے گونجتی رہی۔ مظاہرین کا کہنا تھا، اقلیتوں پر ظلم ڈھانے والے مودی کا دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر پیچھا کریں گے۔ بیس سال تک بھارت افغانستان میں امریکہ کا فرنٹ لائن کا اتحادی رہا ہے، اس وقت بھی افغانستان کے حالات موجودہ حالات سے مختلف نہ تھے، مودی دنیا کو آج جو بھاشن دے رہا ہے اگر گزشتہ بیس سال کو دیکھا جائے تو افغانستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار بھارت بھی ہے۔ مودی کو اس وقت خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے جب امریکی صدرجوبائیڈن اور نائب صدرکمیلاہیرس نے ملاقات کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوریت پرسوال اٹھایا۔ مودی کو امریکی صدر کی جانب سے اس قسم کی سوالات کی توقع نہیں تھی سو مودی چپ چاپ سنتے رہے۔ اسی طرح پاکستان کی جانب سے مودی کے بیان پر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر سخت ردعمل دیا گیا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی بیان پر جوابی ردعمل دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات پیش کر دی ہے۔ خاتون سفارت کارصائمہ سلیم نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق حقائق پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ نہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس پر بھارت نے بزور اسلحہ قبضہ کیا ہوا ہے، کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت ہمیشہ پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے۔ یورپی یونین کی ڈس انفولیب کے انکشافات سامنے آچکے ہیں، بھارت نے پاکستان کے خلاف غلط معلومات کے ٹولز استعمال کیے۔ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر درجنوں رپورٹس موجود ہیں، انسانی حقوق کے ہائی کمشنرکی 2 رپورٹس میں تفصیلات بھی درج ہیں، اس میں پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔بھارت کے پاس اگر چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے توبھارت کو اقوام متحدہ کی انکوائری کو قبول کرنا چاہیے، بھارت خود خطے میں دہشت گردی کا اصل مجرم اور مالی معاون ہے، بھارت کم ازکم 4 مختلف اقسام کی دہشت گردی میں ملوث ہے، 1989 سے اب تک بھارتی افواج نے 96 ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا، بھارت ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کر رہا ہے، ہزاروں پاکستانی بھارتی سرپرستی میں دہشت گرد حملوں میں جانیں گنوا چکے ہیں، پاکستان نے دہشت گردی میں بھارتی مداخلت کے شواہد شیئرکیے، پاکستان میں گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کا اعتراف کیا ہے۔
افغانستان میں بھارت کے منفی کردار کی وجہ سے پورے خطے میں اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، اب بھارت سہارے کی تلاش میں امریکہ کی گود میں جا گرا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی نائب صدر سے ملاقات کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس حوالے سے 9 ٹوئٹ کیے جبکہ کملا ہیرس نے ایک بھی ٹوئٹ نہیں کیا۔ کملا ہیرس مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی پر بھی تنقید کرچکی ہیں، کملا ہیرس بھارت میں شہریت کے نئے قانون کے بھی خلاف ہیں۔ بھارت نے گزشتہ بیس برسوں میں جو بویا تھا اسے سود سمیت کاٹنے کا وقت آ چکا ہے، جس کا پہلا مرحلہ خطے میں بھارت کی پستی ہے جبکہ کشمیر، سکھ تحریک سمیت بھارت کی علیحدگی پسند تنظیمیں بھی وقت آنے پر بھارت کیلئے مشکلات پیدا کریں گی، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مودی کے بارے جو عمومی خیال تھا یہ بھارت کیلئے مسیحا ثابت ہو گا، مودی کے اقدامات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں، اب تو بھارت کے اندر سے آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ اگر چند سال مزید مودی اقتدار میں رہا تو بھارت کے کئی ٹکڑے ہو چکے ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو دو طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایک یہ کہ جب بھارت اپنے زخموں پر مرہم رکھنے میں مصروف ہو گا تو پاکستان اپنی ساری توجہ معیشت کی بحالی کی طرف مبذول کر سکے گا، دوسری صورت بھیانک ہو سکتی ہے وہ یہ کہ بھارت کو افغانستان میں جس خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ اپنا غصہ پاکستان پر اتارنے کی کوشش کرے گا ،فی الوقت بھارت خاموش ہے تو ہمیں اس پر خوشی کے شادیانے بجانے کی بجائے بھارت کے شر سے بچنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے، کیونکہ بزدل دشمن زیادہ سفاک ہوتا ہے وہ میدان میں مقابلہ کرنے کی بجائے پیٹھ پیچھے وار کر کے اپنی جیت کا اعلان کرتا ہے۔مودی کے حالیہ دورہ امریکہ کے پس پردہ حقائق اور مقاصد بھی پاکستان کے خلاف ہو سکتے ہیں، ہمارے سکیورٹی ادارے یقیناً بھارت کی اس خصلت سے بخوبی آگاہ ہیں اور انہوں نے متوقع حالات سے نمٹنے کی تیاری بھی کر رکھی ہوگی، مگر اس سے کہیں بڑھ کر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندرونی مسائل پر قابو پائیں اور جس مضبوط سفارت کاری کے ذریعے ہم نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہا کیا ہے اس تسلسل کوبرقرار رکھا جائے۔