mashriq-logo

گیس قیمتوں میں اضافے سے گریز کی ضرورت

گیس کے گھریلو صارفین کیلئے 35فیصد تک اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے، مجوزہ اضافہ ان چار ماہ کیلئے کئے جانے کا امکان ہے جن میں زیادہ سردی پڑتی ہے، نومبر سے فروری تک گیس کا گھریلو استعمال دیگر مہینوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے، اگر ان مہینوں میں گیس کی قیمتوں میں 35فیصد اضافہ کر دیا گیا تو گھریلو صارفین کیلئے مشکلات بڑھ جائیں گی، پٹرولیم ڈویژن کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز کو سلیب کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے سلیب کی وضاحت یوں بیان کی جاتی ہے کہ زیادہ استعمال والے صارفین کو مہنگی گیس دستیاب ہو گی جب کہ کم استعمال والے صارفین کو سستی گیس فراہم کی
جائے گی، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ سردیوں میں اول تو گیس کی قلت پیدا ہو جاتی ہے، جب کہ گیس بحران کے باوجود سردیوں میں گیس بل میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔ عام شہری اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ سو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی قوت سکت اور موجودہ مہنگائی کو مدِنظر رکھتے ہوئے گیس کی قیمتوں پر اضافے کی تجویز پر عمل نہ کیا جائے، حتمی فیصلہ چونکہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ وہ ایسی تجویز پر مکمل عمل درآمد کا فیصلہ نہیں کرے گی جو عوام کیلئے مشکلات کا باعث بنتا ہو ۔ یہ درست ہے کہ وفاقی کابینہ کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کی وجہ سے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ آئی ایم ایف کی ایماء پر عوام پر پہلے ہی بہت زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے، اگر نامساعد حالات میں بھی عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا تو ان کی قوت خرید جواب دے دے گی۔ اس لیے مناسب ہے کہ خسارے کو دیگر ذرائع سے پورا کرنے کی کوشش کی جائے اور گیس قیمتوں میں اضافے سے گریز کیا جائے۔
ڈینگی خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات
پشاور کی ضلعی انتظامیہ ڈینگی کے خلاف متحرک ہو گئی ہے، یہ اہم پیش رفت ہے کیونکہ گنجان آباد شہر ہونے کی وجہ سے پشاور کو ہر دور میں وبائی و موسمی امراض کے اعتبار سے حساس تصور کیا گیا ہے، گذشتہ دو تین سالوں میں ڈینگی کے پھیلائو میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔ جب تک کورونا کی وباء نہیں آئی تھی تب ہر سال برسات کے موسم میں ڈینگی سے بچائو اور تدارک کے لیے تسلی بخش اقدامات کیے جاتے رہے ہیں، امسال محکمہ صحت کی ساری توجہ چونکہ کورونا پر تھی اس لیے برسات کے موسم میں ڈینگی کے خلاف تسلی بخش اقدامات اٹھانے میں کسی قدر تاخیر ہو گئی ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈینگی متاثرین سامنے آنا شروع ہو گئے، لیکن قابل اطمینان امر یہ ہے کہ ڈینگی متاثرین سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت متحرک ہو گیا اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات اٹھائے گئے، اگر ڈینگی متاثرین سامنے آنے کے بعد مزید تاخیر کر دی جاتی تو عوام اس کے بھیانک نتائج بھگت رہے ہوتے۔ چونکہ پشاور گنجان آباد شہر ہے اور طبی ماہرین کے مطابق نومبر تک ڈینگی کی افزائش ہوتی رہتی ہے ، اس کے پیشِ نظر پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختلف علاقوں میں میڈیکل کیمپ ، ڈینگی ٹیسٹ کی سہولت ، طبی عملے کی موجودگی اور محکمہ صحت کی ٹیموں کا گھروں میں ڈینگی سپرے کرنا اہم پیش رفت ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈینگی کے خلاف محکمہ صحت اس وقت تک بیداری کا مظاہرہ کرے جب تک ڈینگی کے لیے خطرناک قرار دیے جانے والے ماہ ختم نہیں ہو جاتے۔
تجاوزات خاتمے کے لیے کارروائی کی ضرورت
تجاوزات پشاور کا مستقل مسئلہ بن چکا ہے،جس سے راہ گیروں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی طرف سے ہر کچھ عرصے کے بعد تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ مگر چند دنوں کے بعد ہی تجاوزات دوبارہ قائم ہو جاتی ہیں۔چیف ٹریفک آفیسر کی نگرانی میں سٹی ٹریفک پولیس نے پشاور سے تجاوزات خاتمے کیلئے نقصانات بارے آگاہی فراہم کی، تاہم تجاوزات مافیا کی جانب سے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔جس پر سٹی ٹریفک پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر کے ہتھ ریڑھیاں قبضہ میں لیکر جرمانے عائد کیے ہیں، لیکن ہمارے خیال میں تجاوزات خاتمے کا یہ مستقل حل نہیں ہے کیونکہ یہ عمل تو ہر کچھ عرصہ کے بعد دہرایا جاتا ہے ۔اس ضمن میں اگر دو اقدامات اٹھائے جائیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ بڑی حد تک تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے ۔ایک یہ کہ تجاوزات والی اہم جگہوں پر سٹی ٹریفک پولیس ہلکاروں کو تعینات کیا جائے اور انہیں اس بات کا پابند بنایا جائے کہ اگر متعلقہ علاقے میں تجاوزات قائم ہوگئیں تو پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسی طرح تجاوزات مافیا کے خلاف کیے جانے والے جرمانوں میں اضافہ کر دیا جائے، ایک ممکنہ حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ریڑھی والوں کے لیے ہر شہر کے مختلف علاقوں میں جگہ مختص کر دی جائے تاکہ ان کا روزگار ختم نہ ہو۔