مہنگائی کی دہائی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستانی معیشت کے بارے میںاپنی جاری کردہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں رواںمالی سال میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔ملک میں گندم چینی اور دیگر اشیائے خورد ونوش کی قیمت میں اضافہ مزید مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے ۔وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانا مہنگائی کہ وجہ ہے ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اشیائے خور دونوش کی قیمتیں دنیا بھر میں بڑھی ہیں۔یوں لگتا ہے کہ اب وزرائے خزانہ کاکام عوام کو مہنگائی کی وجوہات بتانا اور گردوپیش کا حوالہ دے کر مہنگائی میں اضافے کا دفاع کرنا ہی رہ گیا ہے ۔عوام کو ان الف لیلوی داستانوں اور مجبوری کی کہانیوں سے کیا سروکار انہیں مہنگائی سے نجات نہیں تو کم از کم ریلیف چاہئے جس کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ایک کے بعد دوسرا وزیر خزانہ آتا ہے جن میں صرف شکل وشباہت کا فرق ہوتا ہے باقی ہر نیا وزیر خزانہ پرانے الفاظ ہی اپنے لہجے میں دہراتا ہے اور وہ الفاظ مہنگائی کی وجوہات بیان کرنے تک محدود ہوتے ہیں ۔کسی کے پاس مسیحائی کا کوئی نسخہ نہیں ہوتا ۔ماضی کی حکومتیں امریکہ کو الٹے سیدھے اشارے دے کر یہ تاثر دیتی تھیں کہ وہ عالمی سکیم میں ان کے ساتھ ہیں جس پر آئی ایم ایف سے آسان پروگرام شروع کرائے جاتے تھے اس سے عوام کو کسی حد تک ریلیف ملتا تھا مگر موجودہ حکومت اس معاملے میں یک رنگی اپنا ئے ہوئے ہے اور وہ یوں مغرب ایک پیج پر رہنے کی سزا دے رہا ہے ۔مہنگائی نے پہلے ہی عوام کو بدحال کر دیا ہے اوپر سے ایشیائی ترقیاتی بینک سہمے اور ڈرے ہوئے عوام کو مہنگائی ایک اور سیلابی ریلے کی بدخبر سنا کر مزید ڈرادیا ہے ۔مہنگائی سہتے سہتے عوام کی قوت ِخرید جواب دے گئی ہے۔روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور ڈالر کی بلند پروازی نے رہی
سہی کسر پوری کر دی ہے۔ حکومت ایک کے بعد دوسری او ر اب تیسری سالگرہ منا چکی ہے مگر مہنگائی کا جن ہر گزرتے دن کے ساتھ بے قابو ہوتا جا رہاہے ۔اس کے لئے مختلف تاویلات اور دلائل بھی پیش کئے جاتے ہیں مگر عام آدمی کو روٹی سے غرض ہے وہ دلائل سن کر اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ رہی سہی کسر نکالنے کے لئے کافی ہے۔مانا کہ اس آئی ایم ایف ،ایف اے ٹی ایف،سلامتی کونسل ،عالمی عدالت انصاف سمیت اکثر عالمی ادارے مغرب کے زیراثر ہیں اور مغرب انہیں سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔پاکستان اس وقت ان عالمی قوتوں کا ساتھی ہے جو مغرب کے ورلڈ آرڈر کو چیلنج کر بیٹھی ہیں اور یوں مغرب اپنا پورا زور اب پاکستا ن کو سز ادینے پر صرف کر رہا ہے۔اب تو یہ تقسیم کھیل کے میدانوں تک پہنچ گئی ہے۔ آئی ایم ایف مغربی اداروں کا ایک مہرہ ہے اور وہ ان مغربی ملکوں کے احکامات کی سرتابی نہیں کر سکتا اور مغربی ملک اس وقت پاکستان کے سیاسی نظام سے ناخوش ہیں اور یہ ناخوشی ایک کشیدگی میں ڈھل چکی ہے ۔انہی طاقتوں کے زیر اثر آئی ایم ایف پاکستانی عوام پر ٹیکس لگاکر حکومت کو غیر مقبول بنانے کے ذریعے بدلے چکا رہا ہے ۔ وجوہات کچھ بھی ہوں مگر مہنگائی کا ہر کوڑا عوام کی کمر پر ہی برستا ہے ۔مہنگائی پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہے ۔تیل وگیس اور بجلی میں ہر اضافہ سے مہنگائی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتاہے ۔ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں عاجز اور پریشان ہے ۔ایک طرف حکومت اور اداروں کا دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت بہتر ہوگئی ہے تو دوسری طرف اس کے اثرات زمین پر نظر نہیں آتے ۔اب
اگر معیشت میں بہتری کے آثار ہیں تو اسے ایک معجزہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے تک ہم سی پیک کی تعویز گلے میں لٹکائے پھر رہے تھے کہ اس سے مریض جاں بہ لب کو آرام ملے گا ۔اب سنا ہے کہ چینی کمپنیاں بجلی کے نرخ کم کرنے پر تیار ہیں نہ معاہدوں پرنظر ثانی کرنے پر آمادہ ہیں ۔ماضی میں اپنا کمیشن لے کر جیسے تیسے معاہدے کر کے جانے والے اب صرف تماشائی ہیں یا فقرہ چست کرنے کا شغل فرمارہے ہیں۔معیشت کی بہتری کے اثرات اب عام آدمی تک پہنچنا لازمی ہوں گے ۔اس وقت عام آدمی کی معاشی حالت اچھی نہیں ۔مہنگائی نے عام آدمی کا سانس لینا محال بنا دیا ہے ۔آٹا ،چینی ،دالیں ،گھی اور انڈے جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں ۔اس طرز کے حالات کے باعث معاشرے میں بدترین معاشی عدم توازن پیدا ہو تا ہے ۔امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا ہے ۔مڈل کلاس ختم ہوجاتی ہے اور اوپر امیر تو نیچے غریب کراہتا اور حالات کی کیچڑ میں لت پت نظر آتا ہے ۔کورونا کی وبا ء عام آدمی کے سر پر پھٹنے والا ایک اور معاشی بم ثابت ہوئی ہے ۔ان حالات میں یہ ضروری ہوگیا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے اثرات عام آدمی تک پہنچائے اور مہنگائی کے جن کو قابو کرکے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرے ۔اس کے سوا عام آدمی کو معیشت کی بہتری کے دعوئوں پر یقین نہیں آسکتا ۔ملکی معیشت بہتر ہو اور معاشرہ اس کے اثرات سے محروم رہے یہ قرین انصاف نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو انتظامی مشینری اورقانون کا سہار ا لے کر مہنگائی کا علاج دریافت کرنا چاہئے ۔مہنگائی کو کنٹرول کرنا حکومت کے اختیار میں ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ کچھ انتظامی عناصر مافیاز کے ساتھ مل کر ہیرا پھیری کر رہے ہیں۔ جس سے مہنگائی کو مصنوعی طور پر بڑھایا گیا ۔اس کا حل نکالنا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے ۔انتظامیہ کے ذریعے بازاروں اور مارکیٹوں کی نگرانی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔