ہمارا نصاب کیسا ہو؟

وطن عزیز میں ہمارے تعلیمی اداروں میں نصاب کے حوالے سے جتنے منہ اتنی باتیں ‘ ہی صادق آتا ہے ۔ ستربرس کے بعد بھی آج تک یہ طے نہیں پاسکا ہے کہ ہم اپنا مستقبل جن کے ہاتھوں میں دے رہے ہیں ‘ ان کی تعلیم و تربیت کن خطوط پر ہونی چاہئے۔ اس کی وجوہات متعدد ہیں لیکن نائن الیون کے بعد بیرونی سرمایہ کاری نے تعلیم اور نصاب میں جو پیچیدگیاں پیدا کرلیں ‘ اس کا جائزہ برسوں بعد مورخ ہی سامنے لائے گا۔ ہر ملک و قوم کی اپنے مذہب ‘ ثقافت ‘ تاریخ وجغرافیہ اور حسب و نسب کے مطابق ایک سٹیٹ مشن ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے میدان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ دار اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ سرمایہ کار ملک کے اندر ایسے لکھاری ‘ ماہرین تعلیم اور بیورو کریسی میں اپنے نمائندے پیدا کرلیتے ہیں جن کو پاکستانیت اور پاکستان کے قیام کی بنیاد اور بنیادی مقاصد ضروریات سے خدا کا واسطے کا بیر ہوتا ہے ۔
آجکل ا لیکٹرانک و پرنٹ دونوں طرح کا میڈیا بہت موثر اور طاقتور ہوچکا ہے اور پاکستان جیسے ملکوں کا /کی میڈیا عموماً بیرونی سہاروں(اشتہارات) کے بل پر چلتا ہے اس میڈیا میں لبرلز اور آزاد خیال قسم کے لوگوں کی ایک کھیپ ہر لمحہ اس بات پر بحث ومباحثہ کے لئے تیار رہتی ہے کہ جہاں کہیں پاکستان میں نظریاتی استحکام کے لئے کوئی اقدام کیا جائے تو اس پر سقراطی و بغراطی انداز میں تبصروں اور تجزیوں کے ذریعے اتنا ابہام پیدا کیا جائے کہ عوام کو صحیح و غلط میں پہچان مشکل ہو جائے ۔
پچھلے دنوں موجودہ حکومت نے پانچویں جماعت تک یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے کا ڈول ڈالا تو بڑے شادیانے بجائے گئے اور وزیر اعظم نے بنفس نفیس اس کا افتتاح کیا ۔ لیکن اس پر ہمارے لبرلز نے تبصروں کاجو طوفان اٹھایا ‘ وہ اپنی جگہ ‘ پنجاب میں یہ فتنہ الگ سے اٹھایا گیا کہ پاکستان میں سکولوں کا جو نصاب ہے اس کے اردو ‘ مطالعہ پاکستان ‘ انگریزی اور شریعت کی کتابوں میں بھی اسلام کے مضامین شامل کئے گئے ہیں ‘ جو اقلیت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ سراسر زیادتی اور آئین پاکستان کی شق 22(1) کی خلاف ورزی ہے ۔ اس شق کا تقاضا ہے کہ غیر مسلم طلبہ کو اسلامی مواد پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔پچھلے دنوں اسی تناظر میں ایک صاحب نے ایک موقر روزنامے میں اپنے کالم میں بہت طنزیہ انداز میں غیر مسلم طلبہ کو اردو ‘ مطالعہ پاکستان وغیرہ میں اسلامی مواد پڑھانے کی بڑی عجیب مثال پیش کی ہے اس صاحب نے لکھا کہ ”اگر اسلامیات کی کتاب میں منٹو ‘ بیدی ‘ پریچ مند کے افسانے اور غالب ‘ موہانی اور مومن کی عشقیہ غزلیں اور ابن انشاء و پطرس بخاری کی مزاح نگاری شامل کی جائے تو مسلمان طلبہ کا ردل عمل کیا ہو گا؟ حالانکہ ایسی مثالوں کو قیاس ملے الفارق سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی ایک چیز کا دوسری چیز سے ایسی مثال کے ذریعے تشبیہ دینا جس میں کوئی مشابہت ہی نہ ہو۔
ہمارے ان لبرلز کو اس بات سے سخت چڑ ہے کہ 97 فیصد مسلمان آبادی والے ملک میں نئی نسلوں کی قرآن و سنت کے مطابق تعلیم و تربیت پر کیوں زور دیا جاتا ہے اور دو ڈھائی فیصد اقلیتی طلبہ کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ اس صاحب نے اس حوالے سے تاریخ سے بھی ایک مثال دی ہے کہ متحدہ ہندوستان میں جب مسلمان بچوں کو ”رندے ماترم” ترانہ پڑھنے پر مجبور کیا جانے گا تو مسلمانوں نے اس سے انکار کیا اور احتجاج کیا ۔ اللہ کے بندو!کہاں وندے ماترم ‘ کہاں اردو ‘انگریزی میں اسلامی تاریخ کے بعض واقعات ۔ یہ صاحب آگے لکھتے ہیں کہ ”ہماری درسی کتب میں مسیحیت ‘ بدھ مت ‘ یہودیت اور ہندومت سے متعلق مضامین کیوں شامل نہیں؟ کیا ان مذاہب کے اربوں پیروکار دنیا میں نہیں رہتے ۔ عجیب طرفہ تماشا ہے کیا یہ صاحب ‘ اتنی تکلیف گوارا کرنا فرمائیں گے کہ بھارت میں بابری مسجد ‘ اور دیگر اقلیتی عبادت گاہوں کو کیوں مسمار کیا جاتا ہے ۔ علی گڑھ کی تاریخی جامعہ میں قائد اعظم کی تصویر کیوں برداشت نہیں۔ مسلمان کے نام پر آباد تاریخی شہروں اور جگہوں کے نام کیوں تبدیل کئے جاتے ہیں۔ جہاں تک بقائے باہمی اور مذہبی رواداری کا تعلق ہے تو ا سلام اور مسلمانوں سے زیادہ یہ کہیں اور نہیں مل سکتا۔ قرآن کریم ہمیں سارے ابنیائے کرام کی تعظیم کا حکم دیتا ہے جس میں یہودیوں اور مسیحیت کے انبیاء کرام شامل ہیں۔ ہم انبیاء کرام میں تفریق نہیں کرتے ۔ اسلام حکم دیتا ہے کہ سارے مذاہب کے لئے احترام کا جذبہ رکھو ‘ کسی باطل مذہب کو اسلامی تاریخ کے بعض واقات اگر ایسے انداز میں پڑھائے جائیں جس سے انگریزی یا اردو زبان سیکھنے کے تقاضے بھی پورے ہوں اور اسلامی روحانیت کی بالیدگی بھی ہو اور دو قومی نظریہ کو بھی تقویت حاصل ہو تو اس میں غیر مسلم طلبہ کے لئے کیا حرج ہے؟ جہاں تک غیر مسلم دنیا کی تاریخی شخصیات اور مذاہب سے آگاہی کا تعلق ہے تو تاریخ اور اردو انگریزی کتب میں یہ ہمیشہ سے شامل رہی ہیں اور کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا ہے ۔ ہاں ایسا مواد جو عقائد اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہو کسی صورت بھی شامل نہیں کیا جا سکتا اور نہ کیا جانا چاہئے ۔ خواہ لبریز کچھ بھی لکھیں ‘ کچھ بھی کہیں اس تناظر میں تفصیلات کا تنگ دامنی کالم متحمل نہیں ورنہ مسائل تصوف طویل ہیں۔