دو تقریریں دو مائنڈ سیٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے عمران خان اور نریندر مودی کی تقریریں دومختلف مائنڈ سیٹس کی عکاس تھیں ۔ عمران خان نے انسانیت کو درپیش چیلنجز سے بات شروع کی تو علاقے کے عوام کے زمینی مسائل پر لاکر اسے اہم موڑ دیا ۔کورنا ،ماحولیات سے بات چلتے چلتے کشمیر پر پہنچی جو اس وقت دنیا کے دیرینہ اور سلگتے ہوئے مسائل میں سے ایک ہے ۔جہاں تین ایٹمی طاقتیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہیں اور ایک خوانین تصادم ،معمولی سی غلط فہمی ،افواہ اور پلک جھپکنے کی دوری پر موجود ہے۔یہ کیفیت آج کی نہیں پون صدی پرانی ہے ۔پاکستان اور بھارت اس مسئلے پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور پراکسی جنگوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں رہا ۔اس کشمکش نے ایشیا کو دوحصوں میں بانٹ دیا ہے ۔پاکستان اور بھارت کی کشیدگی کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشیا اور وسطی وجنوبی ایشیا کے درمیان آزادانہ اور زمینی تجارت ہو رہی ہے اور نہ ہی دوسرے روابط مضبوط ہو رہے ہیں ۔ اپنے جفرافیائی محل وقوع کے باعث پاکستان ان دوحصوں کے درمیان پل بننے کی صلاحیت کا حامل ہے مگر مسئلہ کشمیر پربھارت کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے پاکستان اس پل کا پھاٹک بند رکھے ہوئے ہے۔جنوبی ایشیائی ملک کے حکمران کے طور پر عمران خان اس پہلو سے نظریں چراتے تو یہ زمینی حقائق سے انکار اور نظریں چرانے کے مترادف ہوتا ۔اس لئے انہوںنے کشمیر کی صورت حال پر کھل کر بات کی ۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اورکشمیر میں ہندوتوا مائنڈ سیٹ کی کارستانیوں کا پردہ چاک کیا ۔بھارت کا میڈیا بھی اس بات کی توقع کئے بیٹھا تھا کہ عمران خان کی اس تقریر کے جواب میں نریندر مودی جوابی یلغار کریں گے اور یوں ان کی واہ واہ ہوجائے گی اور ارنب گوسوامی جیسے اینکر ز کو دو دن دھمالیں ڈالنے کا موقع میسر آئے گا مگر ہوا اس کے قطعی برعکس۔نریندر مودی نے جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو ایک دیومالائی داستان سنانے کے وقف رکھا ۔وہ خلاسے ہی بات شروع کر بیٹھے اور ایک تصوراتی گلوبل طاقت کے طور پر خلائوں میں ہی محو سفر رہے اور خلاء میں ہی اپنا خطاب ختم کرکے ڈائس چھوڑ گئے ۔انہوںنے مہابھارتا کے قصوں اور پنڈت چانکیہ کے فلسفے کا سہار ا لے کر ایک ایسے” عظیم”بھارت کی منظر کشی کی جو دنیا میں اس وقت کہیں موجود نہیں ۔نریندر مودی نے کشمیر کا ذکر مکمل گول کیا حتیٰ کہ دہشت گردی کی بات کرتے ہوئے بھی کشمیر کی بجائے افغانستان کا نام لیا۔عمران خان اور نریندر مودی کی تقریریں اس لحاظ سے دومائنڈ سیٹ کی عکاس ہیں کہ بھارت کی خواہش اور کوشش ہے کہ کشمیر کا نام اور یاد دنیا کے حافظے سے محو ہو او ر مٹ جائے ۔دنیا کے کسی بھی فورم پر کشمیر کی بجائے الف لیلوی داستانیں اور دیومالائی کہانیاں سنائی جائیں او رلفظ کشمیر کو لوگوں کی زبان پر نہ آنے دیا جائے ۔دنیا کے کسی کینوس پر کشمیر کے رنگ اُبھریں اور شبیہہ بننے پائے کیونکہ اس کے مطابق کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور پانچ اگست کے بعد بھارت نے کشمیر کو مزید سات پردوں میں مستور کر دیا ہے ۔اس کے برعکس پاکستان کی کوشش ہے کہ کشمیر کا نام دنیا میں کسی نہ کسی بہانے گونجتا رہے ۔ماحولیات کی بات ہو یا موسموں کے ردوبدل کاتذکرہ ،انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بات ہو یا سائبر سپیش کا تذکرہ کشمیر کسی نہ کسی بہانے زیر بحث آئے ۔عمران خان اس حوالے سے ماضی کے حکمرانوں سے زیادہ واضح انداز اور موقف رکھتے ہیں ۔جنرل اسمبلی کی تقریریں انہی دو سوچوں اور دوزاویہ ٔ نظر کی عکاس ہیں ۔پانچ اگست کے بعد دونوں ملکوں میں بات چیت ،مفاہمت ،سمجھوتے کے گرے ایریاز ختم ہو کر رہ گئے ہیں ۔جب مفاہمت اور بات چیت کے گرے ایریاز ختم ہوجائیں تو پھر طاقت ہی واحد آپشن رہ جاتا ہے ۔دونوں ملکوں اس وقت نئی سرد جنگ میں دوالگ الگ انتہائوں پر ہی کھڑے نہیں بلکہ دونوں ملک اس سرد جنگ کے دو سربراہوں کے چہیتے ہیں ۔بھارت امریکہ کا شہ بالا ہے اور پاکستان چین کا دست راست ہے ۔اس صورت حال نے مسئلہ کشمیر پر کسی پرامن مفاہمت کے امکان کو ختم کر دیا ۔یوں ماضی کی سرد جنگ کی طرح اس نئی سردجنگ کا قتیل بھی کشمیر ہی ٹھہرے گا ۔ ماضی میں امریکہ مسئلہ کشمیر کے کسی حل کی جانب قدم بڑھاتا تھا تو سوویت یونین بساط کھینچ لیتا تھا اب چین اور امریکی بلاک میں یہی دوڑ دوبارہ شروع ہو رہی ہے ۔اس کا آغاز پانچ اگست سے ہوا تھا جب چین نے سلامتی کونسل میں سفارت کاری کا محاذ خود سنبھال کر سرگرمی دکھانا شروع کی تھی مگر امریکہ اور مغربی بلاک نے ”اگر مگر” کے ساتھ اس کوشش کو کسی بامعنی نتیجے سے محروم رکھا ۔اب کشمیر پر کسی سفارتی محاذ پر مغربی بلاک کی حمایت کے امکانات بھی معدوم ہو رہے ہیں ۔تاآنکہ چین اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں میں امریکہ کو پرے دھکیل کر اپنی سپیس میں اضافہ نہیں کرتا۔یہی وہ بات ہے جس کا ذکر عمران خان نے یوں کیا ہے کہ دنیا پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکے ۔ظاہر ہے بھارت بات چیت کے” گرے ایریاز ”ختم کر بیٹھا ہے اور ڈپلومیسی کی فاختہ کے مذبوح ہوجانے کے بعد اب صرف طاقت ہی کا اصول باقی بچا ہے ۔