ویڈیوز کا موسم اور دانشوروں کا سیلاب

رخصت ہوتی گرمیوں میں”ویڈیوز” گرما گرمی پیدا کر دی ہے ۔ درست غلط ‘ سازش ‘ نجی زندگی میں مداخلت سمیت چند موقف اور بھی ہیں۔ ہمارے اصول بدل گئے ہیں پسند وناپسند کی بنیاد پر ۔ شکر ہے کہ ہمراز فقیرراحموں کا موقف اب بھی وہی ہے جو کنٹینر میں ہوئی شادی کے وقت تھا۔ گلالئی کے دعوئوں اور ریحام خان کی کتاب کے وقت یا کسی کے اس دعوے پر کہ ریحام خان نے ایک پاکستانی میڈیا ہائوس کے مالک کو چند کروڑ میں ایک ویڈیو فروخت کی ہے ۔ تھرڈ ورلڈ میں سب چلتا ہے چلتی کا نام گاڑی ہے ۔ سازشوں کا انڈہ پراٹھا ‘ ظہرانہ ‘ عصرانہ اور عشائیہ کبھی کبھی ہائی ٹی جیسی مغربی نعمت ۔ پاکستانیوں کے دامن میں اس کے سوا رکھا ہی کیا ہے ۔ کفر کے فتوئوں اور سازشی تھیوریوں کے سوا ۔ سچ یہ ہے کہ جتنی ہو زبانی چار اور ان دنوں ہورہی ہے یعنی سنائی دے رہی ہے اس نے 1988ء سے اکتوبر 1999ء کے درمیان ہوئی بد زبانیوں کو مات دے دی ہے سوشل میڈیا کی کسی سائٹ پر ایک چکر لگا کردیکھئے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے ۔ ایسی ایسی گالیاں ایجاد کی ہیں پاکستانی مسلمانوں کے گالی بھی شرم سار ہے کہاں پھنس گئی۔ ہمارا کوا سفید ہے باقیوں کا کالا۔ یقین کیجئے سفید کالا کو دیکھتے ہوئے مرحوم پیر پگاڑا بالکل یاد نہیں آئے جو ایک سندھی سیاستدان کے لئے کالا کوا کی پبھتی کسا کرتے تھے ۔ مرحوم پیر پگاڑا کو خدا بخشے انہوں نے بات کہنے کے نئے طریقے ایجاد کئے تھے ۔ جے یو آئی والے حافظ حسین احمد نے پیر پگاڑا کی نقل کرنے کی کوشش کی لیکن اصل اصل ہی ہوتا ہے صاحب امور نقل نقل ہیں ۔ گزشتہ روزایک دوست نے پوچھا شاہ جی! یہ ویڈیوزکی بہار کیا الیکٹرانک ووٹنگ مشین والی بات منوانے کے لئے ہے؟ دیر تک ان کی سازشی تھیوری کا لطف لیا ۔پھر عرض کیا حضور ایسا کچھ نہیں انہوں نے شک بھری نگاہوں سے دیکھا۔ انہوں نے طاہرہ آرائیں المعروف طاہرہ منگی کو دعا بھٹو کا شناختی کارڈ بنوا کردیا۔ سندھی فلمیں دیکھنے والی نسل ابھی زندہ ہے اس کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔ طاہرہ آرائیں المعروف طاہرہ منگی عرف دعا بھٹو کو 2017ء کے وسط میں تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت سے ملواتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے بتایا۔ یہ دعا بھٹو ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی کزن ۔ بس اس ایک تعارف نے مخصوص نشستوں کے لئے سندھ اسمبلی کی ٹکٹ دلوا دی۔ اس جھوٹ کو گزشتہ روز شیخ نے ایک ٹیوٹ کرکے بتایا ‘ لکھا ۔ میں بھٹو خاندان کا داماد بن گیا ہوں۔
اس داماد گیری سے ہمیں ایک سکینڈل باز اداکارہ یاد آگئیں انہوں نے برسوں لوگوں کو یہ کہا میرے ابا اے سی تھے ‘ ہم سید ہیں’ پھر انہوں اپنے اصلی والد چوہدری سرور کا سرور شاہ کے نام سے شناختی کارڈ بنوا لیا ۔پنجابی فلموں کی ایک معروف بینوں کی جوڑی ہیں ایک نے پچھلی صدی کی آٹھویں یا نویں دہائی میں یہ دعویٰ کر دیا ہمارے ابا تو ملتان کے مخدوم تھے ۔ چالیس برس کی پہاڑی نماپنجابی فلموں کی ہیروئن کے اس دعوے کے بعد اس وقت بزرگ ملتانی مخدوموں کی بیگمات اپنے شوہروں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں وہ تو شکر ہے اداکارہ نے اپنے دعوے پر زیادہ زور نہیں دیا ورنہ ”قد کاٹھ” والے مخدوموں کی مٹی بہت خراب ہوئی تھی جیسی دوسری اداکارہ نے سیدوں کی کی تھی ۔ ویسے یہ برصغیر پاک و ہند کی مٹی بڑی زرخیز ہے یہاں ہر طرح کی فصل کاشت ہوجاتی ہے ۔ لوگ بھی خوش رہتے ہیں ایسی فصلوں کی بیار سے ۔ یہاں برسوں تو پودینے کے باغات والے قصے خوب چلے 63 برسوں کے سفرحیات میں ہم نے بہت ساری کہانیاں سنیں۔ کچھ کے کرداروں سے شناسائی ہوئی۔ کچھ سے برسوں تعلقات رہے ۔ ہمارے ایک سکول فیلو ساری عمر رند بلوچ رہے لیکن 2008ء میں آصف علی زرداری صدر مملکت بنے تو انہوں نے ویزیٹنگ کارڈ پر بلوچ کی جگہ زرداری لکھوا لیا۔ انہی برسوں میں ایک دوست کی ہمشیرہ کی شادی میں بچپن کے دوست اکٹھے ہوئے تو اس نویں نکور زرداری کی سب نے کلاس لے لی۔ ا نہوں نے سب کی جلی کٹی سننے کے بعد بہت اطمینان سے صرف ایک بات کہیں”یارو یہ بتائو میں بلوچگی سے باہر تو نہیں گیا نا؟”۔ارے چھوڑیئے صاحب! کیا قصے لے کر بیٹھ گیا۔ آج کل ویڈیوز کی بہار ہے اور اس پر تبصروں برسات ہر سو جل تھل کا منظر ہے ۔ ویڈیوز کیوں بنائی اور پھرریلیزکی جاتی ہیں دو دن سے استادان ویڈیوز سے یہی سوال دریافت کر رہا ہوں۔ سب ہنس دیتے ہیں۔ ظلم یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا باوا آدم کہلانے والے ہمارے ایک دانشور دوست بھی چکمہ دے کر نکل لئے ۔ دانشور سے یاد آیا ان دنوں دانشوروں کا بھی سیلاب آیا ہوا ہے ۔ ایسے ایسے نابغے دانشور ہیں کہ بس دانش پناہ کی تلاش میں ہے ۔ ویڈیوز کے اس موسم میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی سازشی تھیوری یہ ہے کہ سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر کی مبینہ ویڈیو نون لیگ نے خود جاری کی ہے ۔ یہ چورن باٹنے والے ایک دانشور سے پوچھا نون لیگ کو اس کا کیا فائدہ زبیر تو اس جماعت کے اہم آدمی ہیں؟۔ بولے شاہ جی تم بڑے بھولے بندے ہو یہ شین اور میمکی لڑائی ہے ۔ شین والوں نے میم گروپ کے اہم آدمی کی ویڈیو وائرل کر دی میرا جی چاہا کہ اس دانشورکوکاندھے پر بٹھا کر کینال ویو پر دھمال ڈالوں وہ تو اچھا ہوا کہ فقیر راحموں نے یاد دلایا شاہ جی چھ ماہ سے اسٹنٹ کے سہارے چل رہے ہو دودن قبل گرنے سے کمر پر لگی چوٹ سے چلنا مشکل ہو رہا ہے دھمال رہنے دو ۔ اللہ بھلا کرے اس ہمزار کا کبھی کبھی بروقت نیک صلاح کے ساتھ حقیقت کی طرف متوجہ بھی کر دیتا ہے ورنہ شوق دھمال میں ہم کسی ہسپتال میں پڑے ہوتے ۔ اچھا اس ویڈیو موسم کا ایک فائدہ ہوا ہے وہ یہ کہ اب لوگ بیڈ روم میں بھی موبائل نہیں لیجاتے ۔ ہاں موبائل پر یاد آیا کہ ایک کہانی مارکیٹ میں آئی ہے وہ یہ کہ محمد زبیر عمر کا موبائل فون پچھلے دنوں شہباز شریف کے دورہ کراچی کے موقع چوری ہو گیا تھا۔ یہ کہانی شین میم کے اختلافات بتانے والے دانشور نے بالکل نہیں بتائی یہ تو سوشل میڈیا پر کوٹھے پھلانگ رہی ہے ۔ صاف کہئے گا باتوں باتوں میں کالم پورا ہو گیا چلیں سیاسی باتیں اور دو خطوط پر بات اگلے کالم میں کریں گے۔