Mashriqiyat

مشرقیات

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیںہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
شاعر اپنے غالب چچا ہیںاور انہوں نے اس شعر میں بتایا ہے کہ سب تو نہیں مگر کچھ لوگ ایسے تھے جو اپنے کارناموں کی بدولت اب بھی اپنی خوشبو لٹا رہے ہیں۔علامہ نے اس خیال کو باندھا تو فرمایا ،
ہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات ودوام
جس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تمام
مرد خداکا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات ،موت ہے اس پر حرام
مسجد قرطبہ کی شان میں نہیں مسجد قرطبہ کے عنوان سے باندھی گئی طویل نظم میں ایسے دیگر بے مثال خیالات کا اظہار علامہ نے ان گوہر نایاب قسم کے بزرگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے کیا ہے۔بہرحال یہاں آپ کو علامہ یا چچا غالب کی شاعری پر لیکچر دینا نہیں ہے پوچھنا یہ ہے کہ گوہر نایاب قسم کے لوگ اب کہاں؟
صدیا ں ہوگئیں اور کوئی ہیرا موتی ہمارے ہاتھ نہیں آیا اور ابھی تک ہم نشاة ثانیہ کے خواب ہی دیکھ رہے ہیں۔ان خوابوں کی تعبیر کیسے ممکن ہے کہ جاگنے والے پھر لمبی چوکڑی مار کر جاگتی آنکھوں سے سہانے سپنے بننے لگتے ہیں۔دنیا ہر پل رنگ بدل رہی ہے اور خوابناک ماحول میں رہنے والے بے شک ہاتھ میں جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار موبائل تھامے بھی خواب بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کا دیکھتے ہیں۔مان لیا یہ کارنامہ بھی آپ اور ہمارے بزرگوں نے سرانجام دیاتھا تاہم جناب کبھی سمندر کا سینہ چیر کر تیرتے ان بیڑوں پر بھی نظر ڈال لیں جو دنیا پر راج کی خواہش میں بنانے والوں کوسمندروں پر بھی تاج وتخت کا مالک بنا گئے۔آبدوزوں کا ذکر سنا ہے آپ نے سمند ر کی تہہ میں اتر کر بحر بیکراں کے وسائل پر زیادہ سے زیادہ قبضے کی حرص میں عقل کو مائو ف کرنے والے کارنامے کون سرانجام دے رہا ہے۔تو مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں کچھ کر دکھانے والوں کو ہی دنیا ملتی ہے اور ہم ٹھہرے شیخ چلی کے عزیز ،خوابوں کی وراثت تو وہ بزرگ نہیں چھوڑ گئے تھے جن کا نام لے لے کر اب بھی دنیا کو بتاتے نہیں تھکتے”پدرم سلطان بودِ”۔
تو جناب شیخ چلی !زرا اپنے زمانے کے ساتھ چلنے کا چلن سیکھ لیں،بے شک تیز نہیں دوڑ سکتے تو نہ دوڑیں۔آہستہ آہستہ ہی چلنا شروع کر دیں سفر کٹ ہی جائے گا،منزل انہیں ہی ملتی ہے جو شریک سفر ہوتے ہیں یوں بیٹھے بیٹھے گوہر نایاب کب ہاتھ آیاہے۔آج کا مرد خدا وہی ہے جو کچھ ایسا عطا کرجائے دنیا اور اس میں رہنے والے انسانوں کوکہ صدیوں بعد بھی اسے کوئی بھلا نہ سکے۔عشق ہے اصل حیات ،موت ہے اس پر حرام ،مگر سوال یہ ہے کہ ہم تو نامراد عاشق بنے بیٹھے ہیں گوہر مراد ان کے ہاتھ ہی آیا ہے جو لگن میں سچے ہیں۔