Idhariya

مہنگائی بارے سرکاری رپورٹ پر عوام کی رائے بھی لی جائے

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان کی زیر صدارت اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی تازہ قیمتوں اور دستیابی کی صورت میں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر عمل درآمد اور گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں انتظامیہ کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو مزید بہتر بنانے کیلئے ان اقداما ت کا تسلسل جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کے حوالے سے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر کڑی نظر رکھی جائے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ زیادہ قیمتیں وصول کرنے کے حوالے سے عوامی شکایات پر بھی فوری اور موثر کارروائیاں عمل میں لائی جائیں اور عوام کے اطمینان کی سطح کو مزید بڑھایا جائے ۔ قیمتوں میں کمی و استحکام کے حوالے سے بریفنگ پر وزیر اعلیٰ کی جانب سے اطمینان کے اظہار کو اگر عوامی کسوٹی پرپرکھا جائے تو مہنگائی کے حوالے سے عوام کی نالہ وفریاد کچھ اور داستانیں سنائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے قبل ازیں جس طرح بھیس بدل کر سرکاری دفاتر کا دورہ شروع کیا تھا اسے نجانے کیوں جلد ہی موقوف کیا گیا اگر وہ اسی طرح کسی دن کسی بازار کا چکر لگا کر خریداری کریں گے تو انہیں آٹے دال کا بھائو بھی معلوم ہوجائے گا حکام کی بریفنگ اور سرکاری نرخوں کی سراسر خلاف ورزی کا عقدہ بھی کھل جائے گا۔ سرکاری حکام کے پاس اب خود ساختہ دعوے کے علاوہ مہنگائی میں کمی لانے اور چیزوں کی قیمت پر کنٹرول رکھنے کا کوئی طریقہ کارشاید باقی نہیں سرکاری حکام اگر اپنے دعوے میں سچے ہیں تو کسی دن بازار جا کر عام آدمی سے معلوم کریںتو ان کو حقیقت کا بخوبی علم ہو گا کہ مہنگائی کا کیا عالم ہے۔ وزیر اعلیٰ سٹیٹ بنک کے گورنر مہنگائی میں اضافہ کے امکانات و خدشات کا اظہار کرتے ہیں معاشی ماہرین بھی مہنگائی کے بے قابو ہونے پر متفق ہیں اورہمارے حکام برعکس رپورٹ دے رہے ہیں امر واقع یہ ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستانی معیشت کے بارے میں اپنی جاری کردہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی۔ ملک میں گندم، چینی اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے دیگر 2 وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہنگائی کے حوالے سے حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، دوسری طرف ان کا کہنا تھا کہ اشیائے صرف کی قیمتیں پوری دنیا میں بڑھی ہیں پاکستان کوئی انوکھا
ملک نہیں ہے۔مہنگائی بڑھنے کا اعتراف وزیر اعظم ‘ وزیر خزانہ اور دیگر وزراء بھی کر چکے ہیں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ایک طرف عالمی اور حکومتی اداروں کی جاری کردہ رپورٹیں معاشی استحکام کے اشارے دے رہی ہیں۔ تودوسری طرف قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے، کمر توڑ مہنگائی نے عوام کا جینا عذاب کردیا ہے۔ ذرائع آمدنی میں اضافے کے اسباب کہیں نظر نہیں آرہے۔ حالات میں بہتری کے دعوے سے اٹھایا جانے والا ہر قدم حالات کو مزید ابتر کررہا ہے۔کسی بھی حکومت کا سب سے اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے ملک پر استحصالی مافیا کے راج کی سب سے بڑی مثال چینی اور گندم اسکینڈل ہے، سرمائے کے ارتکاز نے مفاد پرست طبقات کو وہ قوت عطا کی ہے جس کی وجہ سے معیشت و تجارت میں اجارہ داری قائم ہوگئی ہے۔ یہ اجارہ داری مافیائوں کے طاقتور ہونے کا سبب ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتوں اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اڑان قیمتوں میں اضافے کا مرکزی سبب ہے جس کا کنٹرول حکومت کے پاس ہے۔بلاشبہ حکومت مہنگائی میں کمی لانے کے لئے کوشاں ضرور ہے اس ضمن میں اہم قدم کے طور پر مہنگائی پر قابو پانے کیلئے حکومت نے پاکستان فوڈ سکیورٹی فلو اینڈ انفارمیشن آرڈیننس کا اجراء کیا ہے جس کے تحت بلاجواز مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو چھ ماہ قید جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اس آرڈیننس کے ذریعے حکومت نے بلاجواز مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے مسائل سے قانونی طریقے سے نمٹنے کی کوشش کی ہے حالانکہ ان مسائل سے نمٹنے کیلئے قوانین پہلے بھی موجود تھے باوجود اس کے قیمتوں میں من مانے اضافوں کو نہیں روکا جا سکاحقیقت میں یہ مسئلہ قانون ہونے نہ ہونے یا سخت قانون بنانے کا نہیں بلکہ قوانین پر عمل درآمد کا ہے۔ اگر حکومتی اور انتظامی مشینری قوانین پر عمل یقینی بنا سکیں توعوام کو مناسب قیمت میں معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے وہی کافی ہیں مگر ہمارے ہاں ہوتایہ ہے کہ عملی طور پر کچھ کرنے کے بجائے قانونی معاملات کے پیچھے اپنی کوتاہیوں کو چھپایا جاتا ہے۔ اس نئے آرڈیننس کے بعد بھی مسائل میں کمی نہیں آسکی ہے منافع خور ذخیرہ اندوز سماج میں شدید بے چینی کا سبب بنتے ہیں۔ اس بے چینی کو ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ حکومت قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو جو رپورٹ پیش کی گئی ہے یقینا متعلقہ حکام کے پاس اس بارے کوئی نہ کوئی توجیہہ ضرور ہو گی لیکن اسے عوامی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد ہی اس حوالے سے اطمینان کا اظہار مناسب ہو گا جس کا تقاضا یہ ہے کہ مہنگائی کے حوالے سے سرکاری نہیںعوامی رائے لی جائے جس میں ہر طبقہ فکر اور خود حکمران جماعت کے سنجیدہ لوگ بھی شامل ہوں اس کے بعد ہی حکومت کو درست اندازہ ہو گا اور اس مناسبت سے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی۔