Climate change crisis

موسمیاتی تبدیلی کا بحران جسے بچوں نے بھگتنا ہے

ویب ڈیسک :بچوں کےحقوق کے لئے کام کرنے والے ایک ادارے” سیو دی چلڈرن ” نے چائلڈ ریفرنس گروپ میں شامل 12بچوں کے تعاون سے تیارکی گئی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ 12 سے 17سال کی عمر کےان بچوں کاتعلق البانیا ،بنگلہ دیش ، چلی ، ایل سلواڈور ، گوئٹے مالا ،کوسوو ، ناروے ، صومالیہ ، سری لنکا ، امریکہ اور زیمبیا سےہےیہ رپورٹ بتاتی ہےکہ کس طرح ماحولیاتی تبدیلی کےبین النسل اثرات ہیں اوربچوں کی زندگی ، تعلیم اور تحفظ کے حقوق اس سے کس طرح متاثرہورہے ہیں۔

آب و ہوا کے اس بحران کے ذمہ داردنیا کے ٹاپ 50ترقیافتہ ممالک ہیں۔یہ امیر ترین ممالک 86 فیصدآلودگی کے ذمہ دار ہیں جبکہ غریب ممالک کاحصہ آلودگی میں صرف14فیصد ہے. اس کے باوجود ، یہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے بچے ہیں جو انسانی صحت اور سرمائے،زمین،ثقافتی ورثے ،تعلیم اور حیاتیاتی تنوع کی صورت میں سب سے زیادہ نقصانات اٹھاتے ہیں انہیں ایک ایسے مسلے کا سامنا ہے جو ان کا پیدا کردہ ہی نہیں اور وہ دنیا کے امیر ممالک سے درجہ حرارت کی حدت کو 1.5سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لئے کارروائی کی توقعا ت پالے ہوئے ہیں بصورت دیگر ان کم اور درمیانی آمدنی کے ممالک کے بچوں کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات بھگتنے پڑیں گے۔

جیسا کہ اگست 2021 کی بین الاحکومتی پینل رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ناقابل برداشت انسانی سرگرمیاں زمین کو تیزی سے گرم کرنے کی واضح طور پر ذمہ دار ہیں۔جیسے گرین ہائوس گیس ، سمندروں کی حرارت میں اضافہ اور برف کا بڑے پیمانے پر پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہی ہوررہاہے اور یہی موسمیاتی تبدیلی بچوں کے حقوق کے بین الاقوامی بحران کو جنم دے رہی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کرہ ارض اپنی موجودہ رفتار سے گرم ہوتا رہا تو ایک 6 سالہ بچہ اپنے دادا دادی کی نسبت تقریباََتین گنا زیادہ آب و ہوا کی وجہ سے پیدا ہونے والی آفات کا سامنا کرے گا۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق موجودہ موسمیاتی تبدیلی کی شکار دنیا میں رہنے والے بچوں کو ماضی کے بچوں کے مقابلے میں جنگل کی آگ سے دوگنا ، سمندری طوفانوں سے 1.7 گنا ، دریائوں میں سیلاب سے 3.4 گنا ، فصلوں کی کمی سے 2.5 گنا اور 1960 میں پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں 2.3 گنا زیادہ خشک سالی دیکھنی پڑ سکتی ہے ۔

جرنل سائنس میں شائع ہونے والے یہ نتائج مصنف وِم تھیری کی موسمیاتی تبدیلی کی بین النسل اثرات بارے مطالعے کا نچوڑ ہیں۔متعددخطوں کی آب و ہوا اور آبادیاتی ماڈلز پر روشنی ڈالتے ہوئے ، تھیری اوران کے شریک 36 ساتھیوں نے پچھلی نسلوں کو درپیش خطرات کا موازنہ ان انتہائی واقعات کی تعداد سے کیا جو آج کے بچے اپنی زندگی میں دیکھیں گے۔

مطالعہ کہتا ہے کہ آج کے بچے اوسطاََ پانچ گنا زیادہ آفات سے دوچار ہوں گے150 سال پہلے کے مقابلے میں۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے بچے ہیں۔جو بدترین موسمیاتی تبدیلیوں کا خمیازہ برداشت کرتے رہیں گے۔خاص طور پر وہ بچے جو تنازعات کے شکارخطوں میں رہتے ہیں۔کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد اوروہ بچے جنہیں صنف ، معذوری کی بنیاد پر عدم مساوات اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے ۔تاہم اسی ماڈل میں ایک موقع بھی ہے اور دنیا کو اس جانب توجہ دینے کے لئے فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے ۔

ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پیرس معاہدے پر عمل کرنے کی فوری ضرورت ہے جس میں زمین کے درجہ حرارت کو 1.5 سینٹی گریڈتک محدود کرناشامل ہے ۔قبل از صنعتی دور کے درجہ حرارت کا ہدف حاصل ہونے سے نوزائیدہ بچوں کی زندگی کے لئے اضافی مشکلات کم ہوں گی۔گرمی کی لہر میں 45 فیصد ، خشک سالی میں 39 فیصد ، دریائوں کے سیلاب میں 38 فیصد ، فصلوں کی کمی میں 28 فیصد اورجنگل کی آگ میں 10 فیصد تک کمی سے بچوں کو ان کے حقوق تک رسائی کا ماحول دستیا ب ہوگا۔

ماحولیاتی تبدیلی کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار زیادہ آمدنی والے ممالک کی جانب سے کارروائی اب ناگزیر ہے سماجی ،ماحولیاتی اور معاشی شعبوں پر مشتمل پانچ اہم شعبوں میں 1.8 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے دس سال کی مدت میں 7.1 ٹریلین ڈالر کافائدہ اٹھایاجاسکتا ہے ۔

آب و ہوا کی ناانصافی کو دور کرنے کے لیے بچوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں۔پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اوربچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن اور پیرس معاہدے کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ، حکومتیں ،ڈونرز ، نجی سیکٹر اور کثیر الجہتی ایجنسیوں کودرج ذیل اقدامات ا ٹھانے چاہیئں۔


گرمی کو زیادہ سے زیادہ1.5سینٹی گریڈ کی حد تک محدود کرنے کے لیے ابھی سے فوری اقدام کریں
کوئلے اور حیاتیاتی ایندھن کومرحلہ وار ختم کرنا ہوگا۔

موسمیاتی تبدیلی کوروکنے کے لئے فنانسنگ کے وعدوں کو پورا کرنااوراس بات کو تسلیم کرنا کہ موسمیاتی بحران بچوں کے حقوق کا مسئلہ ہے ۔کم از کم سو بلین ڈالر سالانہ جو کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی مدد کے لئے ہوں۔اس مدد سے آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کو کم کرکے سبز ترقیاتی راستوں کو اپنایا جاسکے۔

بچوں کو مساوی اسٹیک ہولڈرز اور تبدیلی کے اہم ایجنٹوں کے طور پر پہچانیں۔آب و ہوا اور ماحولیاتی بحران سے نمٹنے میں موسمیاتی پالیسی کی تشکیل بچہ دوست ہونی چاہئے۔

بچوں اور ان کے خاندانوں پر آب و ہوا کے مضر اثرات دور کرنے کے لئے بچوں کو حاصل سماجی عالمی فوائدمیں مزید لچک پیدا کی جائے۔

تحریر:۔ سلطان شاہ