انتخابی سال اور وزیر اعلیٰ کے چیلنج

کافی عرصہ بعد جمود ٹوٹا ہے اور صوبے میں ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ ملازمتوں کی فراہمی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ جب کام ہوگا تو کئی لوگوں کو شکایتیں بھی ہوں گی لیکن یہ جمود توڑنا خود تحریک انصاف حکومت کی ضرورت تھی۔ پچھلی بار حکومت جب سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی سربراہی میں قائم ہوئی تھی اس میں بی آر ٹی کے علاوہ مجھے تو اور کوئی منصوبہ یاد نہیں ہے۔ ان کے اپنے ضلع کی حالت قطعاً ایسے نہیں تھی کہ کوئی کہے کہ وزیر اعلیٰ کے تحت پر براجمان ہیں۔ وہ حالات کا شکار تھے۔ مرکز میں (ن) لیگ کی حکومت تھی اور اس بات کو وہ خود بھی مانیں گے کہ مرکز تو انہیں وزیراعلیٰ ہو کر بھی نظر انداز کر رہا تھا۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سربراہ فل اپوزیشن فارم میں تھے اور کنٹینر سے اترنے کو تیار ہی نہیں تھے۔ ایسے میں صوبہ کیا خاک چلتا۔ پہلے دو سال تو محمود خان اپنے پہلے دور کے ادھورے کام اور ساتھیوں کو ٹیم کی شکل دینے میں لگے رہے۔ تیسرے سال البتہ اندرونی محاذ پر کامیابیاں نظر آنے لگیں۔ اس لئے اس سال اب آہستہ آہستہ صوبے میں ہل جل نظر آنے لگی ہے۔ ہمارے ہاں البتہ ایک رحجان رہا ہے کہ جب بنوں سے اکرم خان درانی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ بنوں میں تبدیلی سڑک پر چلتے نظر آنے لگی۔ اس کے بعد حکمرانوں کے شہر مردان سے امیر حیدر ہوتی وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو مردان کا نقشہ ہی بدل دیا۔ تاہم وزیراعلیٰ پرویز خٹک جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ اپنے حالات میں پھنسے رہے اس لئے نوشہرہ کے نصیب میں وہ ترقی نہیں آئی کہ جو ایک وزیراعلیٰ کے ضلع کی حیثیت سے توقع کی جارہی تھی۔ لیکن اب باری آئی ہے سوات کی۔ کہا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سوات کو خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اس میں کوئی قباحت نہیں کہ اگر وہ اپنے ضلع یا اپنے حلقہ نیابت کے لئے اس کی ترقی کے لئے کچھ زیادہ اقدامات اٹھاتے ہیں۔سوات بھی اس صوبے کا حصہ ہے۔ ترقی صوبے کے کسی بھی حصہ میں ہو اس پر اطمینان رکھنا اور دکھانا چاہئے۔ لیکن اس میں یہ دھیان ضرور رکھنا چاہئے کہ ایسے کسی منصوبہ کا آغاز نہیں کرنا چاہئے کہ جو بی آر ٹی کی طرح گلے کا طوق بنے۔ اس طرح صحت کے شعبہ میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی)یا صحت کارڈ جیسے جن منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے وہ مستقبل میں جس تباہی کا نمونہ بنیں گے اس کے اثرات تو ابھی سے نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں۔سن رہے ہیں کہ پشاور کے ہسپتالوں میں اداراجاتی پریکٹس کے لئے بیڈ تک کم کر دیئے گئے۔تو کیا آگے چل کر ہم نے پلاٹ کی طرح ہسپتالوں میں بیڈ کے لئے خرید وفروخت کرنی ہے یہ بھی ایک سوال ہے۔ ہر پراجیکٹ کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔ جب وہ تاریخ آئے گی تو اپنی حالت بھی افغانستان کے شعبہ صحت سے مختلف نہیں ہو گی۔ لوگوں نے تو صحت کارڈ کے لئے ہسپتال تک کھول دیئے۔ کچھ ڈاکٹروں،کچھ کاروباری حضرات اور مخصوص میڈیسن سٹورز کی ملی بھگت سے کئی دفعہ خود عوام کرپشن کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ جب یہ پراجیکٹ ختم ہوگا تب اس کلچر کو واپس نارمل کیسے کیا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بظاہر تو لوکل گورنمنٹ انتخابات کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر موجودہ حکومت کے پاس عام انتخابات کے لئے وارم اپ میچ کا موقعہ موجود ہوتا۔ بلکہ جیت جاتے تو ناظمین کی شکل میں عام انتخابات کے لیئے ان کے پاس ووٹ بینک کھینچنے کے لیئے اچھی خاصی فوج موجود ہوتی۔ لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دور دور تک لوکل گورنمنٹ انتخابات کے انعقاد کا خیال تک نظر نہیں آرہا ہے۔ اس لئے صوبائی حکومت نے اب اپنے کاموں اور عوام رابطہ مہمات کے ذریعہ ہی انتخابی میدان میں اترنا ہے۔ جہاں تک وزیر اعلیٰ کی بات ہے وہ تو اپنی سیٹ نکال ہی لیں گے لیکن وزیراعلیٰ کو سوچنا چاہئے کہ جیتنے والی ٹیم فقط ایک کھلاڑی کی کارکردگی پر انحصار نہیں کرتی۔ ہر جیتنے والی ٹیم کے لئے کم ازکم چار کھلاڑی ایسے ہونے چاہئیں کہ جو کسی بھی وقت میچ کا پھانسہ پلٹیں۔ اس لیئے ٹھیک ہے کہ سوات میں کام ہو رہا ہے لیکن صوبے کے باقی اضلاع میں بھی کام کی ضرورت ہے۔ خود صوبائی دارلحکومت پشاور توجہ کا منتظر ہے۔ بے ہنگم ٹریفک اور رہائشی بستیوں کی ناگفتہ بہہ حالت ایک کھنڈر نما شہر کا نمونہ پیش کر رہی ہے۔ صوبائی دارلحکومت میں گھنٹوں گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے۔ ہسپتالوں کی یہ حالت ہے کہ جیسا کہ ذکر کیا گیا سینئر اور قابل ڈاکٹرز ہسپتال سے باقاعدہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ پشاور کے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت اس سے بھی بری ہے۔ معاشی بدحالی کے باعث شہر میں لوٹ مار کے نئے گینگ پولیس کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔حال ہی میں وزیر اعلیٰ اور پولیس کے صوبائی سربراہ نے تھانوں میں انصاف کی فراہمی کے لئے خصوصی سیل کے قیام کے منصوبہ کا آغازکیا ہے جو انتہائی خوش آئند ہے۔یہ تو صوبائی دارحکومت کی حالت ہے ذرا کچھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے جنوبی اضلاع جائیں وہ تو ایسے لگتا ہے کہ علاقہ غیر بن چکے ہیں۔ یہاں ایک اور بڑا چیلنج ماضی کے علاقہ غیر کو بندوبستی علاقہ قرار دینے والے نئے قبائلی اضلاع کا بھی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ جب پشاور کی یہ حالت ہو، جنوبی اضلاع ایک بھوکے بچے کی طرح پشاور کی طرف دیکھ رہے ہوں تو ایسے میں یہ قبائلی اضلاع کس حالت میں ہوں گے۔ اس کے لئے فوری طور پر ان علاقوں میں گورننس کی بہتری کے لیئے وزیراعلیٰ ممبران اسمبلی کو پشاور سے فوراً باہر نکالیں تاکہ وہ پشاور میں بیٹھ کر اپنی من پسند پوسٹنگ ٹرانسفر، وزارتوں کے لئے لابنگ اور پارٹی میں اپنی امیج بلڈنگ کی شکل میں خود وزیراعلیٰ کے لئے دردسر نہ بنیں بلکہ عوامی فرنٹ پر جاکر اپنے کپتان کو جم کر کھیلنے میں مدد دیں ،وزیر اعلیٰ اپنے جیتنے والے کھلاڑیوں کا تعین کرکے ان کے ساتھ ان علاقوں کے مسائل کے حل اور عوام رابطہ مہم کے لئے بھرپور منصوبہ بندی کریں۔یہ درست ہے کہ کئی معاملات پر بیوروکریسی لیت ولعل سے کام لے گی لیکن منتخب عوامی نمائندوں کو کسی سیکرٹری کو جواب نہیں دینا بلکہ اپنے عوام کو جواب دینا ہے۔