افغانستان میں جامع حکومت پر اصرار … وجہ کیا ہے؟

انقلاب کے اثرات ہمیشہ پھیلتے ہیں اور نزدیک و دور کے علاقے اور عوام اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیںرہ سکتے ۔ انقلاب مخالف قوتیں البتہ اس کو محدود رکھنے کی کوششیں ہی کرتی ہیں۔ آج یہی کوششیں افغانستان کے تناظر میں ہو رہی ہیں، ہدف طالبان کے انقلاب کو افغانستان کی حدود تک محدود رکھنا ہے۔ طالبان کا اقتدار میں آنا معمول کا انتقال اقتدار نہیں ہے، وہ ایک بڑی جدوجہدکے بعد دنیا کی واحد سپر پاور کو شکست دے کر برسراقتدار آئے ہیں۔ طالبان ایک تحریک کا نام ہے، ایک ایسی تحریک جو اپنا مخصوص نظریہ رکھتی ہے اور افغانستان میں دنیا کے مروجہ نظاموں سے ہٹ کر اسلام کی بنیاد پر ایک نیا سیاسی نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔لامحالہ یہ صورت حال افغانستان کے پڑوسی ممالک کے لیے باعث غور و فکر ہو گی اور وہ ا س سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہوںگے۔ امریکہ اور یورپی ممالک بھی اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں کیونکہ وہ دنیا کے ہر خطے میں مغربی تہذیب کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ دنیا کا ہر ملک مغربی جمہوریت کے اصولوں پر مبنی سیاسی نظام اختیارکرے البتہ افغانستان میں 20 سالوں سے بزور طاقت جبراً نافذ کیے گئے جمہوری نظام کا اُن کا تجربہ ناکامی سے دوچار ہو گیا ہے۔
دوسری طرف افغانستان کے قریبی ممالک چین ، روس، ایران اورپاکستان بھی نظریاتی ریاستیں ہیں، چنانچہ وہ بھی اپنے منفرد سیاسی نظاموں کو محفوظ رکھنے کی خواہاں ہوںگی۔ چین کمیونزم کے نظریے کے تحت وجود میں آیا اور گذشتہ 72 سالوں میں اس کمیونسٹ نظریے نے چینی عوام کو ڈیلیور کیا ہے۔ ابتدا میں چینی انقلاب کے اثرات سے برصغیر کو محفوظ رکھنے کے لیے انگریزوں نے کثیر الجہتی کوششیں کیں۔ ایک کوشش یہ تھی کہ برصغیر اور وسطی ایشیای ریاستوں کے مسلمانوں کو چینی کمیونسٹ انقلاب سے دور رکھا جائے۔ آج اس تاریخ کو دہراتے ہوئے ایران اور پاکستان میں طالبان مخالف قوتوں کی حمایت کی جائے گی ۔ رہی بات چین اور روس کی تو وہ بھی قطعاً یہ نہیں چاہیں گے کہ طالبان تحریک کے اثرات ان کی سرزمین تک پہنچیں۔ 1996ء سے لے کر 2001ء کے پانچ سالوں میں پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑی تیزی سے پھیلا ، چنانچہ یہ بات عالمی سطح پر زیر بحث آ نے لگی کہ 2020ء تک طالبان پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقوں پر قابض ہو جائیں گے۔ آج بھی اس صورت حال کے پید اہونے کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔ پہلی بات افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان میں طالبان کا رومانس بڑھا ہے۔ دوسری بات، اسلام سے قدرتی لگائو اورمروجہ نظام سے عوام کی بڑھتی ہوئی بیزاری کی وجہ سے طالبان کا سیاسی ، معاشرتی اور عدالتی نظام پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنی جانب راغب کر سکتا ہے۔ افغانستان میں استحکام اگرچہ سب کی خواہش ہے اور ضرورت ہے مگر جامع حکومت ”جس کے لیے آج کل "Inclusive” کی اصطلاح استعمال کی جارہی ہے’ ‘ کے قیام پر ، تمام ممالک کا زور اس لیے بھی ہے کہ "Inclusive Govt”طالبان تحریک کو کسی حد تک نیوٹرل کرنے کا باعث بنے گی۔
امریکہ اور اُس کے اتحادی جامع حکومت کے حق میں نہ تھے اور نہ وہ اب ہوں گے ۔ ان کی طرف سے ایسی کوئی بات سامنے آئی بھی تو وہ محض دکھلاوا ہے۔ حقیقت میں وہ اس خطے کو ہمیشہ عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ جامع حکومت کا قیام عمل میں لانا چاہتے تو افغانستان چھوڑنے سے قبل اس کا انتظام کرتے۔ طالبان سے ڈائیلاگ کا عمل تو دس سال قبل سے جاری تھا۔ طالبان ایک وقت میںکمزور تھے، وہ پرامن انتقال اقتدار کے لیے جامع حکومت کے قیام پر راضی ہو جاتے اور یوں امریکہ کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنے پیچھے ایک مستحکم افغانستان چھوڑ کر جاتا لیکن یہ امریکہ کی ترجیح نہ تھی۔ امریکہ عدم استحکام کا متمنی تھا لہٰذا اس نے افغانستان ایک ایسی صورت حال میں چھوڑا کہ یہاں بدترین خانہ جنگی کا ماحول بنا ہوا تھا۔ افغانستان کی تین لاکھ مسلح افواج جو جدید اسلحے سے لیس تھی اورجسے جدید جنگی طیاروں کی کمک حاصل تھی اگر طالبان کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کرتی تو آج افغانستان کے طول و عرض میں کشت و خوں کا بازار گرم ہوتا لیکن افغان فوج کے سرنڈر اوراشرف غنی کے فرار کی وجہ سے یہ امریکی منصوبہ ناکام ہو گیا۔ اب امریکہ نئے منصوبے بنا رہا ہے۔ ایک جانب وہ طالبان کو دبائو میں رکھنے کے لیے ”افغانستان کائونٹر ٹیررازم نگرانی اور احتساب ایکٹ 2021” جیسی قانون سازی کرنے جا رہا ہے تو دوسری جانب وہ ایسی حکمت عملی ترتیب دے گا کہ طالبان کے اپنے قریبی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم نہ ہو سکیں۔ یہ صورت حال طالبان قیادت سے ہوش مندی اور حکمت پر مبنی پالیسی کا تقاضاکرتی ہے بصورت دیگر خاکم بدہن یہ خطہ ایک بار عدم استحکام سے دوچار ہو جائے گا۔