Shazray

آئی ایم ایف کا نیا حکم نامہ

اخباری اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے آٹے ،گھی ، چینی سمیت پانچ اشیاء پر سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے ، آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ احساس پروگرام میں شامل افراد کو ہی ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے تمام مالی معاملات میں نظم و ضبط قائم کیا جائے ، خبر کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آغاز اکتوبر میں ہوگا جن میں معیشت ، ٹیکس اہداف ، سبسڈیز اور گردشی قرضوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔آئی ایم ایف کے پاس جا کر امداد حاصل نہ کرنے کے دعوے کرنے والی حکومت اب اسی ادارے کے چنگل میں اس بری طرح پھنس چکی ہے کہ اب اپنے عوام پر جائز اور ناجائز ہر قسم کے ٹیکسوں کا بوجھ لادنے پرمجبور ہے ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اب بجلی کے بلوں پر ایڈوانس ٹیکس لگا کر عوام کو چیخنے پرمجبور کر دیا گیا ہے جس پرہر جانب ہاہا کارمچی ہوئی ہے اور مختلف طبقات اس ٹیکس کو”ظالمانہ” قرار دے کر اس کی واپسی کے مطالبات کر رہے ہیں ، کیونکہ اس ٹیکس کے نفاذ کے بعد کوئی بھی عام متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا اس قابل نہیں رہے گا جس کے بعد یا تو لوگ اپنے بجلی کنکشن کٹوانے پر مجبور ہوں گے یا پھر بجلی چوری کی وارداتوں میں انتہا درجے کا اضافہ ہوتا چلا جائے گا ، اب ایک جانب آج ہی کے اخبار میں (جب یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں) ایل پی جی کی قیمت میں 20 روپے کلو اضافے کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔جبکہ اس سال گھریلو صارفین کے لئے سردی کے دنوں میں قدرتی گیس کی شدید لوڈ شیڈنگ کی خبریں شائع ہو رہی ہیں ، یہاں تک کہ کھانا پکانے کے لئے چولہا جلنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور لوگوں کوبجلی استعمال کرکے گیزر اور گھروں کو گرم کرنے کے لئے ا لیکٹرک ہیٹر استعمال کرنے کے مشورے دیئے جارہے ہیں ، مگربجلی کون سی ایسی سستی ہے کہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں گے ، اب ان تمام مسائل اور مشکلات کے بعد جبکہ خوردنی تیل ‘ گھی ، دالیں ، چاول ، چینی پر پہلے یہ مہنگائی کے آسیب کے سائے پڑچکے ہیں ، آئی ایم ایف کے تازہ حکم نامے کے بعد عام غریب آدمی جو پہلے ہی مالی مشکلات ، بے روزگاری سے لڑ رہا ہے ، وہ کہاں جائے گا؟ کیا آئی ایم ایف کے اس حکم نامے پر عمل کے بعد ملک میں خدانخواستہ انارکی نہیں بڑھے گی؟ اس پر ضرور سوچنا چاہئے۔
چاند کی رؤیت کا معاملہ
وفاقی حکومت نے چاند کی رؤیت کے نجی سطح پر اعلانات کرنے پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے ، کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے میڈیا کو بریفینگ دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی کابینہ میں رؤیت ہلال کمیٹی کے لئے نئی قانون سازی کی گئی ہے ‘اور کابینہ نے چاند کی رؤیت کے پرائیویٹ اعلانات پر پابندی عائد کر دی ہے ‘ اب سرکار یامرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کی جانب سے جو اعلان کیاجائے گا اس کو ہی حتمی سمجھا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات ، سپارکو ، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت مذہبی امور کو بھی رویت کمیٹی میں شامل کر لیا گیا ہے ، جہاں تک نجی رویت ہلال کمیٹیوں کی جانب سے چاند کی رویت کے اعلانات کا تعلق ہے ، اصولی طور پر تو اس سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کئی برس سے ملک میں عموماً دو دو رمضان اور اکثر تین تین عیدوں کے انعقاد کو عوام کھلی آنکھ سے دیکھتے رہے ہیں ، اب کس طبقے نے ایک فرض روزہ کھایا ، یاعید کے دن روزہ رکھ کر اپنی آخرت برباد کی ، اس سے قطع نظر کہ اس صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ علمائے کرام پرعائد ہوتی ہے ، تاہم ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اس کی بنیاد مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ایک سابقہ چیئرمین نے رکھی جو خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے آمرانہ طور پر ادارے کو چلاتے رہے اور کسی بھی دوسرے شخص یعنی علماء کرام کی کمیٹی کے فیصلے کو رد کرنے میں کسی دلیل کوخاطر میں نہیں لاتے تھے ، موصوف لگ بھگ 17یا 18 برس تک کس قانون کے تحت ادارے پر قابض رہے ؟ اور کیا دوسرے قومی اداروں کی مانند مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کی سربراہی پر کسی مدت کا اطلاق نہیں ہوتا تھا ، یعنی جس طرح اسلامی نظریاتی کونسل وغیرہ کے لئے ایک خاص مدت کا تعین کیا گیا ہے جس کے بعد وہ کمیٹی خود تحلیل ہو جاتی ہے یہی اصول رویت ہلال کمیٹی پر کیوں نہیں کیا جاتا ، تاکہ اس کمیٹی کے معاملات بھی خوش اسلوبی کے ساتھ چلتے رہیں۔
رہائشی منصوبے اور مخصوص کوٹہ
محکمہ ہائوسنگ خیبر پختونخوا نے مستقبل میں تمام رہائشی منصوبوں میں اقلیتوں اور بیوائوں کا کوٹہ اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھا کر ایک فیصد کرنے کا فیصلہ کرکے انصاف پر مبنی قدم اٹھایا ہے ، ملک میں اس وقت مختلف رہائشی سکیموں میں جہاں قرعہ اندازی کے ذریعے عام لوگوں کو رہائشی پلاٹس تقسیم کئے جاتے ہیں وہیں حاضر سروس ، ریٹائرڈ وفاقی اور صوبائی ملازمین کو بھی کوٹہ دیا جاتا ہے ، تاہم اقلیتوں اور بیوائوں کے لئے کوٹے کی مقدار بہت کم تھی جسے اب دگنا کر دیاگیا ہے ‘ جو یقیناً ایک اچھا اقدام ہے تاہم اگر اس ضمن میں معذور افراد کو بھی شامل کرکے ان کے لئے کوٹہ مقرر کیا جائے تو اس سے معذور افراد کی داد رسی ہو گی۔ امید ہے حکومت اس بارے میں بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرے گی۔
پشاور پر رحم کیجئے!
گزشتہ کئی برس سے صوبائی دارالحکومت کو ایک بار پھرپھولوں کا شہر بنانے کے دعوے مختلف حکومتوں کے دوران یہاں کے عوام کے کان سنتے سنتے پک گئے ہیں ،حکومتیں اپنی مدت پوری کرکے چلی جاتی ہیں مگر پشاور کی قسمت بدلنا تو درکنار صورتحال مزید گھمبیر ہوجاتی ہے ، اب ایک بارپھر یہ دعویٰ کیپٹل میٹرو پولیٹن گورنمنٹ کے ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے کیا گیا ہے ، مگر اس قسم کے ماضی کے دعوئوں کی طرح ان تازہ دعوئوں کا کیا بنے گا؟ اس بارے میں عوام کسی خوش فہمی کا شکار ہونے کو تیار نہیں ہیں تاوقتیکہ واقعی ان پر عمل درآمد نہ ہوجائے۔