Idhariya

بلدیاتی انتخابات کا مخمصہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا اسی سال نومبر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروا کر اپنے ایک اور وعدے کو عملی جامہ پہنانے جا رہی ہے’ اسلام آباد میں یورپی یونین اور لوکل کونسل ایسوسی ایشن پنجاب کے تعاون سے بلدیاتی نظام اور انتخابات کے حوالے سے ایک قومی کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کامران بنگش نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد پی ٹی آئی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے’ اور صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات اسی سال نومبر میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے’ صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کو مکمل طور پر بااختیار بنانے کے لئے قواعد وضع کر لئے ہیں ‘ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی مشاورت سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے اور صوبائی حکومت اب بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ‘ انہوں نے کہا کہ حکومت اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کے لئے پرعزم ہے اور نئے بلدیاتی نظام کا واحد مقصد عوام کی خدمت ان کی دہلیز پر کرنا ہے ‘ پہلے مرحلے میں بلدیاتی انتخابات ویلیج اور نیبرہوڈ کونسلوں میں ہوں گے ‘ تحصیل اور ضلعی سطح پر انتخابات اگلے مرحلے میں ہوں گے ،جہاں تک صوبائی مشیر کے دعوئوں کا تعلق ہے ان سے نہ کلی طور پر اتفاق کیا جا سکتا ہے نہ مکمل اختلاف کی گنجائش ہے ‘ کیونکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے جس طرح ماضی کی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کے حوالے سے رویہ اختیار کیا تھا موجودہ حکومت بھی اس سے مبرا نہیں قرار دی جا سکتی ‘ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ماسوائے غیر جمہوری حکومتوں کے کسی بھی منتخب سیاسی حکومت نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کو قبول نہیں کیا اور اگر کبھی ایسا موقع بہ امر مجبوری آیا بھی تو بادل ناخواستہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں دلچسپی لی۔ اس کی جو وجوہات ہیں ان میں دو بڑی وجوہ ایک تو حکومتیں اپنی کارکردگی کی وجہ سے اس خوف میں مبتلا ہوتی ہیں کہ عوام ان کے حق میں ووٹ پول نہیں کریں گے ‘ اس کا مظاہرہ حالیہ دنوں میں کنٹونمنٹ میں بلدیاتی انتخابات میں دیکھنے میں آیا ‘ اور دوسری بڑی وجہ ایک سابق ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے غیر آئینی ‘ غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر ارکان پارلیمنٹ کو سیاسی رشوت کے طور پر جوترقیاتی فنڈز جاری کئے وہ آج تک جاری ہیں اور جن کا مقصد اراکین سینٹ ‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو قانون سازی کی بجائے بلدیاتی سطح کے ممبران کی طرح گلیوں ‘ کوچوں ‘ نالوں وغیرہ کی تعمیر ومرمت تک محدود کرنا تھا ‘ اب یہ ممبران بھی بلدیاتی نظام کو اپنے لئے ایک”سوکن” سمجھتے ہوئے اس نظام کے خلاف ہیں اور نہیں چاہتے کہ بلدیاتی ادارے ملک میں قائم رہیں، اور بھی وجوہات ہیں تاہم یہ دو وجوہ بہت اہم ہیں ‘ اسی لئے اراکین پارلیمنٹ کے دبائو میں آکر منتخب سیاسی حکومتیں اس نظام میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں ‘ یہ رویہ کسی ایک سیاسی حکومت یا دور تک محدود نہیں ہے بلکہ سابقہ ادوار میں بھی یہی رویہ اختیار کیا جاتا رہا ‘ اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا تازہ بیان صورتحال کی وضاحت کے لئے کافی ہے، جنہوں نے گزشتہ روز بلدیاتی اداروں کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات تسلیم کی کہ بلدیاتی الیکشن پہلے سال نہ کرانا پی ٹی آئی حکومت کی غلطی تھی ‘ وفاقی وزیر کی بات اپنی جگہ درست سہی مگر حقیقت یہی ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی حکومت اقتدار میں آتی ہے اور بلدیاتی ادارے پہلے ہی سے موجود ہوں تو ان کی مدت کی تکمیل تک سیاسی حکومتوں کی کارکردگی اس قابل نہیں رہتی کہ وہ اس پر فخر کرتے ہوئے بلدیاتی الیکشن کرانے کے”خطرات” مول لیں ، اب بھی صورتحال تقریباً ویسی ہی ہے ‘ سابقہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں مگر نئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا رسک لینے کو صوبائی حکومتیں تیار دکھائی نہیں دیتیں ‘ یہ تو الیکشن کمیشن کی اس تنبیہ کے بعد کہ اگرصوبائی حکومتیں لوکل گورنمنٹس الیکشن کرانے کے لئے تاریخ مقرر نہیں کرتیں تو الیکشن کمیشن خود ہی شیڈول جاری کرکے انتخابات کرادے گا ‘ اس لئے اب بہ امر مجبوری اس حوالے سے پیش رفت پر صوبائی حکومتیں تیار ہو رہی ہیں ‘ بہرحال پھر بھی یہ بات غنیمت ہے کہ بالآخر بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے اقدام اٹھائے جارہے ہیں ‘ جس کے بعد عوام کے مسائل حل کی کوئی صورت نکل آئے گی۔