wagones

پشاور میں جدید سفری سہولیات سےتاریخی ویگن معدوم ہونے لگیں

ویب ڈیسک(پشاور)جدید سفری سہولیات کی آمد کے ساتھ پشاور کی تاریخی ویگن معدوم ہونےلگی ہیں، سب سےکم خرچ سمجھی جانےوالی اس سواری کا کرایہ مہنگائی کے اس دور مں بھی دس روپے سےشروع ہوتاہےلیکن غریب عوام کوبی آر ٹی او دیگرمتبادل سواری ملنےکے عد اب ویگن شہرکےصرف گنے چنے مقامات پر ی نظرآتی ہیں۔

پشاورمیں ویگن چلانےوالےڈرائیور شہزاد میر نے مشرق ٹی وی سےبات چیت کرتے ہوئےکہاہےکہ ویگن صرف شہر تک محدودنہیں تھیں بلکہ راولپنڈی سمیت دیگرشہروں کوجانےکیلئےبھی استعمال ہوتی تھیں جس سےڈرائیوروں کابہترروزگاروابستہ تھالیکن اب شہرمیں ویگنزکی تعدادصرف دوسو تک رہ گئی ہے اورباقی تمام ڈرائیوراورکنڈیکٹربےروزگارہو گئےہیں یاانہوں نے اپناروزگارتبدیل کرلیاہے۔

ڈرائیورنےکہا کہ امیرلوگوں کےپاس اپنی گاڑیاں ہیں اس لئےوہ ویگن کم استعمال کرتےہیں لیکن غریب لوگ اب بھی اس سواری سےمستفید ہوتےہیں تاہم ان کا کہنا تھاکہ اب بی آر ٹی کا کرایہ بھی چونکہ کم ہے اس لئے ہمارا کام پہلے کی نسبت بہت خراب ہو گیاہےاورمزید ڈرائیوروں کےبے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

ایک اور ڈرائیورکاکہناہےکہ حکومت نے عوام کو بی آرٹی جیسی سہولت تو دی ہےلیکن بی آر ٹی جیسے بڑے منصوبےکی وجہ سے ہماراکام ٹھپ ہوکررہ گیا ہے،حکومت نےہمیں طفل تسلیاں تودی ہیں لیکن روزگار نہیں دیا،ویگن کے کنڈیکٹرز کہا کہنا ہے کہ ہمیں روزانہ سات یا آٹھ سو روپے ملتے ہیں، پہلے سواری بہت ہوتی تھیں اور ہمیں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی لیکن اب سواری ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں۔