18 million jobs

لاک ڈائون سے ملک بھرمیں1کروڑ80لاکھ مزدوربے روزگارہوئے

ویب ڈیسک( اسلام آباد ) کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے جہاں دیگر شعبے متاثر ہوئے ہیں وہاں پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے 1 کروڑ 80لاکھ مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں جبکہ عرب ریاستوں میں مقیم 25ہزار سے زائد تارکین وطن مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔

پاکستان ورکرز فیڈریشن کے2020سروےکےمطابق پاکستان میں مزدوروں کی کل تعداد ساڑھے 6کروڑ ہےجس میں غیررسمی مزدوروں میں خواتین زیادہ متاثر ہوئی جو کل لیبر فورس کا 72فیصدہے،سروےکےمطابق صوبہ سندھ میں لاک ڈاون کی وجہ سے لاکڑاکول مائنزبند کردی گئی تھی جس کی وجہ سے 10ہزار سے زائد کان کنی سے وابستہ مزدوربے روزگارہوگئے جس میں اکثریت کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا اس طرح پارٹ ٹائم ورکرز ، ریٹیلرز ، خوردونوش اور دیگر چھوٹے کاروباری طبقہ جو عید اور دیگر تہواروں کے موقع پرکاروباری لحاظ سے متحرک تھے انہیں بھی نقصان اٹھانا پڑاسروے کے مطابق ہوٹلز ریسٹورنٹس، کیٹرنگ اور فوڈ کے شعبے بند ہونے کی وجہ سے بھی ورکرز کو رخصتی پر بھیج دیا گیا ۔

سروے کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں 27ملین آبادی براہ روست متاثر ہوئی میں روزگار والے لوگ شامل تھے ، اس طرح لاک ڈاون کی وجہ سے 20ملین سے زائد لوگ بے روزگار ہوگئے سروے کے مطابق جو شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں تعمیراتی شعبہ 80فیصد ، مینوفیکچرنگ کا شعبہ 72فیصد ، ٹرانسپورٹ 67فیصد ، ہول سیل ٹریڈر63فیصد اور کان کنی (مائنز)کا شعبہ 38فیصد متاثر ہوا ۔ سروے کے مطابق حکومت نے کورونا کے دوران مختلف اقدامات بھی اٹھائے جن میںوفاقی اور صوبائی حکومتوں نے محکمہ صحت کیلئے خصوصی فنڈز جاری کئے ، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اورمیڈیکل لیب ٹیکنیشن سمیت دیگر سٹاف کی خصوصی تربیت کی گئی ،کورونا وائرس کیلئے ایس او پیز تیار کئے ،صنعتوں ، سرمایہ داروں اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا، بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے آن لائن تعلیمی نظام متعارف کرایا گیا تاہم درست اعداد و شمار اور کوائف نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات مزدور اورحق دار لوگوں تک نہیں پہنچ سکی۔