امریکی عشق کے امتحان ابھی اور بھی ہیں

جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آپ کی خالی ہوتی جیبوں کا وزن مزید کم کرنے میں تعاون کے لئے تیار ہوں گی ۔ ایک وجہ عالمی منڈی میں فی بیرل تیل 80ڈالر کا ہو جانا ہے اور دوسری وجہ روپے کے مقابلہ میں ”ڈالر صاحب” کی قیمت 172 روپے کے قریب ہونا ہے ۔ اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان ہے گزشتہ روز 908پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ چھوٹے سرمایہ کاروں کا حال خستہ تو ہے ۔ مہنگائی اور بیروزگاری کی ایک نئی لہر دستک دینے والی ہے لیکن خیر چھوڑیئے یہ ہماری صادق اور امین حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں اور بھی غم ہیں زمانے میں رعایا کے مسائل کے سوا۔ ان غموں میں ایک بڑا غم وہ بل ہے جو امریکی سینیٹ میں جمع کروایا گیا۔ دفتر خارجہ نے اس بل میں پاکستان کے ذکر کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان امن عمل میں فریقین کی بھر پور مدد کی۔ امریکی سینٹ میں مجوزہ قانون سازی کا مسودہ نقصان دہ ہے ۔ واقفان حال کچھ او رکہتے ہیں امریکی سینٹ میں جمع کروائے گئے 26 شقوں پر مشتمل بل میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اس امر کا جائزہ لیاجائے کہ 2001ء سے 2020ء تک کے درمیانی برسوں میںپاکستان سمیت افغان طالبان کو مدد فراہم کرنے والی ریاستوں اور غیر ریاستی کرداروں نے کس طرح مدد فراہم کی کس کس نے محفوظ ٹھکانے ‘ لاجسٹک سپورٹ ‘ خفیہ معلومات کا تبادلہ اور دیگر معاملات میں تعاون کیا ۔ چند دن قبل ہی امریکی سینٹ میں وزیر دفاع اور آرمی چیف پیش ہوئے اور دونوں کو افغان پالیسی ‘ دوحہ معاہدہ ‘انخلاء کے حوالے سے سخت ترین سوالات کا سامنا کنا پڑا۔ ‘سادہ لفظوں میں کہیں تو یہ بل اصل میں پاکستان پر پابندیوں کا بل ہے ۔ چند ساعتوں کے لئے حب الوطنی اور امریکی دشمنی ایک طرف رکھ کر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے ٹھیک 27دن بعد مجوزہ پابندیوں کا یہ بل امریکی سینٹ میں پیش کیا گیا۔ یہ درست ہے کہ ان شقوں یا یوں کہہ لیجئے کہ الزامات پر تحقیقات ہوں گی ابتدائی رپورٹ 180دن میں سینٹ میں پیش کی جائے گی۔ چلیں ہم اس فہم سے جی بہلا لیتے ہیں کہ ابتدائی رپورٹ کے لئے رکھے یاد دیئے گئے 180 دن درحقیقت ہمیں بلیک میل کرنے کے لئے ہیں۔ یا پھر یہ کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بقول”امریکی اپوزیشن اپنی حکومت پر یلغار کر رہی ہے ‘ پاکستان مخالف لابی سرگرم عمل ہے ” فقیر راحموں کہتے ہیں جن بزرگ کو یہ ہی معلوم نہیں تھا کہ 2018ء کے انتخابی عمل میں ملتان سے پنجاب اسمبلی کی نشست پر ان کے مقابلہ میں کھڑا آزاد انصافی امیدوار جہانگیر ترین اور مہربانوں کا مشترکہ امیدوار تھا وہ بزرگ ہمیں بتا رہے ہیں کہ امریکہ میں جوبائیڈن انتظامیہ کی اپوزیشن پاکستان مخالف لابی ایک پیج پر ہیں۔ ویسے یہ ہو بھی سکتا ہے ریاست چھوٹی ہوں یا بڑی غریب ہوں یا امیر وہ دونوں طرف ملکیتی ہیں ریاستی مفادات تبدیل نہیں ہوتے۔ کچھ مثالیں مقامی اور علاقائی حوالے سے پیش کرسکتا ہوں پھر سوچا یہ حب الوطنی کی معراج سے محرومی کے زمرے میں آئیں گی۔ ساعت بھر کے لئے رکئے کچھ موڈ خوشگوار کیجئے ‘ ہمارے ملتانی دوست ندیم افضل کے گزشتہ شب اپنے ٹیوٹر اکائونٹ پر لکھا” امریکی سینٹ میں ایک ایسی قرارداد بھی پیش ہونی چاہئے کہ جس کے ٹیومر پر پچاس سے زائد ناسور ہوں اسے امریکہ کا ویزہ دے دیا جائے ۔ فقیر راحموں بولے پھر تو ہمیں امریکی شہریت ملنا چاہئے ۔ فقیر راحموں پتہ نہیں آجکل امریکہ جانے کے لئے اتنا بے چین کیوں ہیں سمجھایا بھی ہے کہ امریکہ کی دوستی اچھی نا دشمنی ۔ مزید سمجھنے کے لئے امریکہ کی پاکستان کے حوالے سے مکرنیاں دیکھ سمجھ لو ‘ جواب ملتا ہے ہم تو رعایا کا حصہ ہیں اپنے حصے کے دکھ کاٹ لیں گے گاجریں کھانے والوں سے پوچھیں ان کا کیا ہو گا۔ امریکی سینٹ میں پاکستان پر مجوزہ پابندیوں کے لئے پیش کئے گئے بل کے بعد ہمارے یہاں چینی کیمپ اور امریکی دھڑے میں رہنے پر بحث کی ہلکی ہلکی ڈھولک بجنی شروع ہوگئی ہے ۔74 برسوں سے امریکی ناز براداری کا جس محنت سے ہم نے تجربہ حاصل کیا چینیوں کو تو اس طرح کی دمداری مطلوب اور مقصود ہی نہیں۔ سنجیدہ سوال یہ ہے کہ اب ہم کیا کریں گے؟ سادہ سا جواب ہے ۔ اپنی چارپائی کے نیچے دیکھنے کی ضرورت ہے یعنی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں پچھلے ماہ در آئی تبدیلیوں کے بعد ہمارے ہاں جمناسٹک کے جو مظاہرے ہو گئے تھے ان پرتحفظات بھی تھے اور سوالات بھی اٹھائے گئے ۔ بھلا ہو دوسرے صوبوں کے جعلی ڈومیسائل بنوا کر بیورو کریٹ بننے اور ریٹائرمنٹ پر دائیں بازو کا دانشو بن جانے والوں کا جوکبھی دولت اسلامیہ المعروف (داعش) کو اسلام کی نشاط ثانیہ کا جدید ایڈیشن قرار دیتے تھے اب انہیں افغانستان سے عالمگیر انقلاب اسلامی کا سورج طلوع ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ خراسان کے کالی پگڑیوں والے لشکر کی کہانیاں پھر سے کہی لکھی سنائی جارہی ہیں۔ حالت یہ ہے کہ جس اسلامی بینکاری کو شریعہ کے اصولوں کے مطابق کہا جارہا ہے اس پر نرم سے نرم الفاظ میں یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ(کافرہ ‘ ہندو عورت) کا نام غلام فاطمہ رکھ کر خوش ہونے جیسا ہے ۔ سستے میں جان نہیں چھوٹنے والی اور یہ بھی کہ یہ داخلی سیاست کے چکڑ چھولے ہر گز نہیں کہ جہاں ریڑی لگائی گاہک آجائیں گے ‘ سنجیدگی کے مظاہرے کی ضرورت ہے لیکن اگر شیخ رشید احمد جیسے وزراء نے جواب بیانئے کی قوالی پیش کرنی ہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔ کم از کم میں فقیر راحموں کی اس بات سے متفق ہوں کہ منگل کو ا مریکی سینٹ میں پابندیوں کا مجوزہ بل جمع کروایا گیا اور بدھ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں حرام ہے کہ کسی ایک شخص نے اس طرف توجہ دلانے کی زحمت کی ہو بلکہ حکمت عملی کے ساتھ ایوان میں ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ ذرائع ابلاغ کی توجہ ہنگامہ آرائی کی طرف ہوجائے ۔ معاف کیجئے گا پیارے قارئین!کم لکھے کو بہت جانیئے ۔ سب اچھا نہیں ہے امریکی مشق کے امتحان ابھی باقی ہیں۔ باقی خالی خولی جذباتی بیانات اور انقلاب کے لاروں سے جی بہلاتے رہیں۔