افغانی ریمنڈڈیوس

شاید اب بھی امریکا کو اس بات کا زعم ہے کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور ون ورلڈ آرڈر کا سونٹا اس ہی کے ہا تھ میں ہے اشرف غنی کے افغانستان سے فرار کے بعد سے جو صورت حال پیدا ہوئی اس کا امریکا کی جانب سے مسلسل گھمبیر بنانے کی سعی بد کی جا رہی ہے اب تک کے امریکی اقدامات یہ بتارہے ہیں کہ اس کو سپر پاور کا جو زعم تھا کہیں وہ کھینچ نہ جائے حالا نکہ اس ڈور ی کا بو کا ٹا ہو چکا ہے امریکی فوج یہ جان چکی ہے کہ اسے افغانستان میں جو شکست ہوئی ہے اس سے پوری دنیا میں امریکی فوج کا دبدبہ خا ک ہو ا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ افغان فوج کا امریکا کے انخلا ء سے قبل ہی شیرازہ بکھر جانا ہی اس امر کی گواہی ہے کہ یہ افغان فوج کی شکست وریخت نہیں بلکہ امریکیو ں کی شکست فاش ہے ۔کیونکہ ابھی امریکی فوج افغانستان میں مو جو د تھی اور افغان فو ج طالبان کے سامنے ڈھیر ہوگئی۔
، امریکا ہنو ز بضد نظر آرہا ہے کہ وہ اب بھی دنیا کی واحد سپر پاور ہے چنا نچہ وہ ایسے اقدام کر رہا ہے جس سے وہ اپنی ڈوبی ہوئی ساکھ کو بچا لے ، چنانچہ امریکی سینٹ نے افغانستان سے متعلق ایک بل منظور کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کا ساتھ دینے والوں کے خلا ف کارروائی کی جائے گی ، بل میںہے کہ پاکستان سمیت جن ممالک نے طالبان کا ساتھ دیا ان کے خلا ف کارروائی کی جائے پاکستان سمیت طالبان کو مدد دینے والی ریا ستو ں اور غیر ریا ستی افراد کی نشاندہی کی جائے اور یہ جائز ہ لیا جائے کہ طالبان کی کس قسم کی مد د کی گئی ہے بل میں ڈھیر ساری باتیں ہیں مگر ان میں قابل تو جہ جو ہیں ان میں یہ شامل ہے کہ بل میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے دوحہ معاہدے کی شرائط پوری نہیں کیں ، امریک سینٹر ز نے افغانستان کے بارے میں خصوصی ٹا سک فورس بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے ، افغانستان میں رہ جانے والے امریکی شہر یو ں اور اتحادیو ں کو انخلا کا بندوبست کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے جو بل میں ایک حیر ت انگیز یہ بات بھی کی گئی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر طالبان کے خلا ف پابندیا ں لگائی جائیں ، امریکی سینٹ میں پیش کیے گئے بل کی شقات کا جائزہ لیا جائے تو وہ بہت مضحکہ خیز ہیں ، حیر ت ہے کہ افغانستان پر حملہ آور ہوتے وقت امریکا نے اعلا ن کیا تھا کہ جس نے بھی طالبان کے ساتھ رابطہ قائم رکھا اس کو بھی دہشت گر د قرار دیا جائے گا اور اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی ۔لیکن جائے امان حاصل کر نے کے لیے خود طالبان کے سامنے دوزانو ہوا ا س کے لیے پاکستان اورقطر کو اپنا دست گیر بنا یا، انخلاء کے وقت امریکا نے مسلسل سے طالبان سے رابطہ رکھے تو کیا امریکا بھی دہشت گر د ہے ، طالبان پر الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں یاکی ہے اس کی تفصیل تو دنیا کو بتائی جانی چاہئے کہ کیا کیا خلا ف ورزیا ں ہوئی ہیں ، جبکہ امریکا نے اسامہ بن لا دن کی آڑ میں شہر ی آبادیوں میں کارپٹ بمباری کرکے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں اس بارے میں دنیا بھی خاموش ہے پہلے اس کا حساب ہونا چاہئے ۔
سینٹ کے بل سے یہ ظاہر ہے ہی کہ ا س کے ذریعے امر یکا پا کستان اور افغانستا ن کو کسنا چاہتا ہے لیکن بل میں ایک اور شق شامل ہے کو بڑی اہم ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان میں رہ جانے والے امریکی شہر یو ں اور اس کے اتحادیو ں کو افغانستان سے نکلنے کی اجا ز ت دی جائے جب آخری امریکی فوجی افغانستا ن سے انخلاء کررہا تھا تو اس وقت امریکی شہریو ںکے انخلاء کا بندوبست کیو ں نہیں کیا گیا ، ا ب بھی کسی بھی باشندے کے لیے افغانستان سے جانے پر پابندی عائد نہیں ہے صرف شرط یہ ہے کہ افغانستان سے نکلنے کے لیے دستاویزات مکمل ہو نا چاہیں ، یہ قانو ن ہر ملک میں رائج ہے اور ہر ملک میں اس اصول پر عمل ہو رہا ہے ، جو افغانستان میں رہ گئے ہیں ان کے بارے میں زبان کھولنے کی ہمت امریکا میں نہیں ہے وہ جن اتحادیو ں کو امریکی باشندوں کی آڑ میں افغانستان سے نکلنے کی اجا زت دینے کا مطالبہ کررہا ہے وہ دراصل وہ امریکی اور افغانی ریمنڈیو س ہیں جی ہا ں امریکا نے نے افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے صرف باقاعدہ امریکی فوج گھس بٹھائی نہیں تھی بلکہ بلیک واٹر جیسی تنظیم کی بھی معاونت لے رکھی تھی جس سے جو جی میں آتا وہ کر والیا جا تا ، اسی بلیک واٹر کا ریمنڈیو س پا کستان میں ہتھے چڑھا تھا جس کو اعزاز کے ساتھ رخصت کر ایا لیا گیا تھا ، اب کئی ریمنڈیو س افغانستان میں پھنسے پڑے ہیں ، امریکا عالمی مجبوریو ں کی بناء پر ان کے بارے میں زبان کھول نہیں سکتا اور نہ امریکی قوانین اس امر کی اجا زت دیتے ہیں کہ ان کو امریکا سرکا ری طور پر واپس لایا جائے چنا نچہ اس معاملے میں طالبان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ان کو اخراج کا راستہ دے جو طالبان کے لیے بھی ممکن نہیں ہے بلیک واٹر نے افغانستان میںکا رروائیو ں کے لیے مقامی باشندے بھی حاصل کر رکھے تھے ان کے مستقبل کا بھی مسلئہ ہے ،جب وہ قانونی طور پر افغانستان سے انخلا ء کریں گے تو ان کو شنا خت کر انا ہوگی کہ وہ افغانستان میں کن فرائض کی انجا م دہی پر ما مو ر تھے جو ایک کٹھن معاملہ ہے ، یہ حقیقت ہے کہ طالبان کا افغانستان کے سوفی صد علا قہ پر کنڑول ہے انھو ں نے حکومتی امور چلانے کے لیے ایک ڈھانچہ بھی کھڑ ا کردیا ہے تاہم باقاعدہ طور پر اس ڈھانچہ کو تسلیم کر نے کے لیے دنیا سے درخواست نہیں کی گئی ہے ،تاہم ایک بڑا فیصلہ یہ کیا ہے کہ سابق بادشاہ ظاہر شاہ کے دور کے آئین کے نفاذکا اعلا ن کردیا ہے ،جس پر کبھی کسی کوا عتراض نہ رہا۔
٭٭٭٭