Idhariya

کھسیانی بلی کھمبا نوچے

ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی سینٹ میں مسودہ قانون میں پاکستان کے بارے میں تذکرے کو مکمل طور پر بلاجواز قرار دیا ہے ۔یہ بات واضح ہے کہ افغانستان میں امریکا اپنی شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کی امریکی سینٹ میں گفتگو سے بھی اسی بات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کا جال بھی اسی مقصد کے لئے بنا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے عاید کردہ سخت شرائط کا سبب بھی یہی ہے۔امریکی سینٹ میں ری پبلک ارکان کی جانب سے پیش کردہ تازہ بل اس بات کا اشارہ کر رہا ہے کہ امریکا طالبان کے مقابلے میں ذلت آمیز ہزیمت پر پردہ ڈالنے کے لئے قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہے۔ اس مقصد کے لئے اس کا نشانہ سب سے پہلے پاکستان ہے۔ امریکی تاریخ کی مہنگی ترین اور طویل ترین جنگ کا اختتام جس طرح ہوا ہے اس کے بعد ابھی تک امریکی قیادت صدمے سے باہر نہیں آسکی ہے۔ بیش تر امریکی قانون ساز، ذرائع ابلاغ کے تجزیہ نگار بالخصوص امریکی حکومت کے سیاسی مخالفین امریکی ہزیمت اور رسوائی کا ذمہ دار جوبائیڈن کو قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس سے امریکا کا مسئلہ حل نہیں ہورہا ہے۔ امریکا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے خود ہی 2018 میں افغان طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ یہ مذاکرات سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایماء پر ہوئے امر واقع یہ ہے کہ پاکستان نے 2001 سے افغانستان پر امریکہ کے ساتھ مسلسل تعاون کیا جبکہ افغان امن عمل میں سہولت اور افغانستان سے امریکہ سمیت غیرملکی انخلاء میں مدد بھی فراہم کی۔لیکن اس کے باوجود الٹا ہمیں ہی تضحیک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو وار آن ٹیرر میں امریکی اتحادی ہونے کی سزا مل رہی ہے۔80ہزار جانوں کی قربانی دینے کے باوجود پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے حالانکہ یہ کبھی بھی پاکستان کی جنگ نہیں تھی۔ انٹرنیشنل ریلیشنز اور امریکی تھنک ٹینکس سے وابستہ بعض ماہرین کی آرا میں یہ بل امریکہ کی مقامی سیاست کے پس منظر میں پیش کیا گیا ہے۔بعض ماہرین اسے پاکستان کے چین سے بڑھتے اور مضبوط ہوتے تعلقات کی سزا کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ اگر ماضی کے دریچوں میں جھانکا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ افغان سوویت جنگ میں سوویت یونین کی شکست کا یقین ہونے کے ساتھ ہی امریکہ نے اپنے قریب ترین اتحادی پاکستان پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور اسے بالکل تنہا چھوڑ دیا تھا۔ جب نائن الیون کے بعد امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑی اس وقت بھی پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں تھا۔ آدھے ادھورے حقائق اور پسند ناپسند کے اس امریکی کھیل کا خمیازہ ہمیشہ پاکستان کو ہی بھگتنا پڑتا ہے مگر اس سب کے باوجود پاکستان نہ صرف یہ کہ امریکہ کی عالمی حیثیت کا معترف ہے بلکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ علاقائی اور عالمی تنازعات میں امریکہ بہت نمایاں اور مثبت کردار ادا کر سکتا ہے یہ معاملہ سنجیدگی کے ساتھ زیرِ غور لانے اور گہرائی تک مشاہدے و تجزیے کا متقاضی ہے کہ امریکہ کی جانب سے ہر بار پاکستان سے قربانیاں لے کر اسی کو کیوں پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ ہم کب تک اس طرح امریکہ کی مدد کرنے کے باوجود مشکلات کے گرداب میں پھنستے رہیں گے۔ افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کا اچانک انخلاء بائیڈن انتظامیہ کا فیصلہ تھا۔ اس کے نتیجے میں جو صورت حال پیدا ہو رہی ہے اس کی ذمہ داری بھی ہنگامی انخلاء کا فیصلہ کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا قرینِ انصاف نہیں۔ امریکی انتظامیہ کو سوچنا چاہئے کہ اس کی تیارکردہ افغان فوج افغان انٹیلی جنس ایجنسی اور افغان حکومت کیوں ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ افغان طالبان کو آگے بڑھنے میں مدد دینے کا معاملہ اس کے بعد آتا ہے ۔ افغانستان سے ناکامی کے بعد انخلاء پر تنقید سے توجہ ہٹانے کے لئے امریکا کی جھنجھلاہٹ میں پاکستان کو مطعون کرنا فطری امر ہے ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے بعض قائدین کی جانب سے امریکا کوجس طرح عار دلانے کا اقدام کیا گیا تھا وہ مصلحت اور حکمت سے خالی اور بصیرت سے عاری حرکات تھیں ایک نازک وقت میں امریکہ کو غیر ضروری طور پر مطعون کرنے اور افغان طالبان کی حکومت کی وکالت وسرپرستی کے اظہار کی ضرورت نہ تھی بہرحال دھمکیوں کے باوجود امریکہ پاکستان پرکچھ زیادہ پابندیاں لگانے کا متحمل نہیں ہو سکتا پاکستان کا امریکا سے مکمل طور پر یکسو ہوکر خطے کے ممالک سے جڑنے کا امریکا متحمل نہیں ہو سکتا اور یہی بات پاکستان کے حق میں جاتی ہے امریکہ کے تحفظات کا سفارتی سطح پر مناسب جواب دے کر ان کی غلط فہمیاں دور کرنے پر توجہ دی جائے اور ایسے بیانات اور اقدامات سے رجوع کیا جائے جو خواہ مخواہ آبیل مجھے مار کے مصداق ثابت ہونے کے حامل ہوں۔