watches

موبائل فونزنے گھڑیوں کے استعمال کو قصہ پارینہ بنادیا

ویب ڈیسک( پشاور) وقت نے گھڑیوں کی قدر کم کردی ایک وقت تھا جب لوگ شوق سے مہنگی گھڑیاں پہنتے اورخریدتے تھے اور وقت سے گھڑیوں کی اہمیت زیادہ ہوتی تھی وقت کی تیز رفتار موجوں نے اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے ۔

دور جدید میں جہاں اب گھڑیاں موبائل فون تک محدود ہوکر رہ گئیں اور نئی نسل تو گھڑیوں کے استعمال سے مانوس ہی نہیں ہے لیکن پشاور میں اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو گھڑیوں کا شوق ہے جنہوں نے موبائل فون ہونے کے باوجود گھڑیوں کا استعمال نہیں چھوڑا ۔

پشاور کی گلیوں میں گھڑی سازی کے ہنر سے وابستہ 70سالہ اسلم چاچا کا کہنا کہ وہ گزشتہ 50سال سے گھڑی سازی ہنر سے وابستہ ہے پہلے وقتوں میں کاروبار بہت زیادہ تھا اور ہر عمر کے لوگ گھڑیوں کا استعمال کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کمی آ گئی ہے اور صرف مخصوص لوگ گھڑیوں کا استعمال کرتے ہیں جبکہ اس ہنر سے وابستہ لوگ یہ کام چھوڑ چکے ہیں کیونکہ اب اس میں کچھ بھی نہیں ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گھڑیوں کا سیل اور پن جس کی قیمت صرف چند روپے ہے پہلے وقتوں میں گاہک بہت ہوتے تھے ایک دن میں سو سے بھی زائد لوگ گھڑیاں ٹھیک کرنے آتے تھے لیکن اب پورے دن میں دو تین بھی نہیں آتے لیکن اب کچھ مخصوص لوگ ہیں جو گھڑیاں پہننے کا شوق رکھتے ہیں ۔