بہ صد سامان رسوائی سربازار می رقصم

پشتو کی ایک کہاوت ہے ”دا گز دا میدان ” اس کے پیچھے کہانی کچھ یوں ہے کہ کوئی صاحب اپنے گائوں سے نکل کر متحدہ ہندوستان کے دور میں محنت مزدوری کے لئے کہیں دلی ‘ لکھنو وغیرہ گیا تھا ‘ خاصی مدت بعد بہت سے پیسے کما کر واپس آیا تو ہر روز گائوں کے حجرے میں بیٹھ کر بڑی بڑی ہانکتا تھا ‘ لوگ اس کی باتیں اور دور دیس کی کہانیاں سن سن کر مبہوت ہوا کرتے تھے ‘ ایک روز اس نے ایک بے پرکی اڑائی کہ وہاں میں نے ایک بار ایک مقابلے میں سوگز کی چھلانگ لگا کر ایک بڑی شرط جیتی تھی ۔ باقی تو سب لوگ حیرت سے واہ واہ کر رہے تھے مگر ایک دل جلے کو جسے اس کی باتیں اور دعوے ویسے ہی محل نظر لگتے تھے حجرے کے سامنے ایک بڑے میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ‘ یہ گز اور یہ میدان ‘ سو گز چھوڑو ‘ سامنے صرف بیس گز کی لمبی چھلانگ لگا کر دکھا دو تو تمہارے دعوے کو تسلیم کر لوں گا ‘ اس کے بعد اس بڑبولے نے میدان میں چھلانگ لگانے کا مظاہرہ کیا یا نہیں مگر یہ محاورہ ضرور”وائرل” ہو گیا اور آج تک اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی کہ ”دا گز او دا میدان” اب یہ جو گزشتہ روز ایک وفاقی وزیر نے فرمایا ہے کہ سرکار والا مدار نے نجی رویت ہلال کمیٹیوں پر پابندی لگا دی ہے اور اب کسی کو اپنے طور پر رمضان اور عیدین کے چاند کی رویت کے حوالے سے اعلان کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو اس پر اخبار مشرق کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پشاور کے شہریوں نے اس سرکاری ”حکمنامے” پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے ‘ کس نے کہا ہے کہ حکومتی اعلانات پر اعتبار نہیں کبھی نجی کمیٹی والوں کو ساتھ ملایا جاتا ہے اور اب ان پر پابندی لگا دی ‘ ایک او رائے یہ ہے کہ حکومتی فیصلہ خوش آئند ہے ‘ اب ملک میں ایکدن ہی عید اور روزہ ہو گا ‘اس ملے جلے رد عمل سے جو بے اعتباری ابھر رہی ہے اس پر مرزا غالب کا شعر یاد آرہا ہے کہ
ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
چونکہ یہ ایک مذہبی اور دینی معاملہ ہے ‘ اور مسئلہ مگر یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس حوالے سے ہر مسلک کے پیروکار صرف اپنے مذہبی اکابرین اور رہنمائوں کی بات کو حتمی سمجھتے ہیں اور انہی پر عمل کرنے کو صحیح سمجھتے ہیں ‘ پختون معاشرے میں ایک روایت اور بھی بہت راسخ ہے اور وہ ہر خوشی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کرکے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں ‘ جیسے کہ شادی بیاہ ‘ اولاد نرینہ کی پیدائش کے ساتھ ساتھ جبکہ رمضان کی آمد اور عید کا چاند نظر آنے پر تو اجتماعی طور پر تو خصوصاً ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس مذہبی خوشی کے رنگ کو ہوائی فائرنگ سے دوبالا کردے یہاں تک ہوتا ہے کہ ابھی چاند کا اعلان نہیں بھی ہوا ہوتا کہ فضا میں گولیوں کی تڑتڑ سے ایک سماں بندھ جاتا ہے حالانکہ پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ روکنے کے لئے ایک ہفتہ پہلے ہی سے مہم شروع کر دی جاتی ہے مگر لوگ کہاں باز آتے ہیں ‘ بہرحال اس اجتماعی دینی معاملے کو عام لوگ بھی”نجی اور ذاتی” بنا کر”رویت ہلال” کے اعلان کو آتشیں اسلحے کی نوک کے ذریعے وزن دار بنا دیتے ہیں کیونکہ وہ دینی معاملات میں کسی بھی”مداخلت” کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوتے ‘ رہ گئی نجی وریت ہلال کمیٹیاں تو یہ ایک دو ہوں تو ان پر قابو پا بھی لیا جائے ‘جبکہ یہاں تو ہر علاقے کی اپنی نجی کمیٹی ہے یعنی یہ کھمبیوں کی طرح اگی ہوئی ہیں اور ان کو چھیڑنے کے نتائج کو اس مصرعہ کی مانند ہیں کہ اک ذرا چھیڑیئے پر دیکھئے کیا ہوتا ہے ‘ ماضی قریب میں اس وقت کی حکومت نے ایک مفتی صاحب کو”مشاورت” کے لئے اسلام آباد طلب کرکے جس طرح انہیں دبئی پہنچا کر اس معاملے کو یکطرفہ طور پر حل کرنے کی کوشش کی ‘ اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟ کیا اس کمیٹی کے باقی ارکان کو روکنے میں حکومت کوکامیابی ہوئی؟ ممکن ہے جزوی کامیابی ملی ہو مگر مکمل طور پر اس ضمن میں”کامیابی” پراب بھی سوال اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بیاجاناں تماشا کن کہ درانبوہ جانبازاں
بہ صد سامان رسوائی سربازار می رقصم
وہ جو کسی زمانے میں ایک سیاسی نعرہ بلند ہوتا تھا کہ گلی گلی شور ہے ۔۔۔ تو اسی طرز پر نجی رویت کمیٹیوں کے حوالے سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ گلی گلی شور ہے ‘ کمیٹیوں کا زور ہے ‘ اور اس حوالے سے جب ہم اخباری خبر کا جائزہ لیتے ہوئے بعض لوگوں کی اس بیانئے پر غور کرتے ہیں کہ حکومتی اعلانات پر اعتبار نہیں ہے تو اس کی وجہ سرکاری رویت کمیٹی کے گزشتہ برسوں کا رویہ ہے ‘ اگرچہ وہ رویہ صرف ایک شخص کا ذاتی رویہ ہوتا تھا مگر اس کی ذمہ داری پوری کمیٹی پر یوں عاید ہوتی ہے کہ کبھی اس نے غلط فیصلہ بھی کیا تو کمیٹی کے باقی اراکین میں یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ اس فیصلے سے دلائل کی بنیاد پر اختلاف کرکے اجلاس کا بائیکاٹ کریں ‘ سب سے اہم مسئلہ ایک شخص کو مسلسل 18/17 سال تک کمیٹی کی چیئرمین شپ پر مسلط رکھنا تھا ‘ موصوف نے جس طرح خیبر پختونخوا سے موصول ہونے والی شہادتوں کو رد کیا ‘ یہاں تک کہ صوبائی سطح پر قائم صوبائی حکومت کی رویت ہلال کمیٹی کی شہادتوں کو بھی ماننے سے انکار کیا اور بعض موقعوں پر سرکاری صوبائی کمیٹی کی فون کالز کو وصول کرنے سے بھی انکار کرتے رہے ‘ اس رویئے کی وجہ سے صوبائی کمیٹی کے ارکان کا احتجاج بھی ریکارڈ پر ہے ‘ اس کے بعد تب کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی کریڈیبلٹی کیا رہ گئی تھی ‘ اگرچہ اب بالآخر اس”پیرتسمہ پا” سے کمیٹی کی جان چھڑا دی گئی ہے جس کا کریڈٹ بہرحال حکومت کو نہ دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے ‘ تاہم حکومت کو ملک بھر میں ایک ہی روزہ اور ایک ہی عید منانے کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھانے پڑیں گے یعنی مرکزی رویت ہلال کمیٹی پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنا ضروری ہے ‘ بصورت دیگرنجی کمیٹیوں کو قابو میں کرنے کے خواب کا شرمندہ تعبیر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ دینی معاملات میں زور زبردستی کا حشر ماضی میں بھی لوگ دیکھ چکے ہیں ۔ بقول شاعر
غم حیات کی ناگن نے ڈس لیا جن کو
وہ اپنے دور کے مانے ہوئے سپیرے تھے