Shazray

سی پیک ‘ تاخیر کی کوئی توجیہہ مناسب نہیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک)منصوبوں کو مشکلات کا سامنا رہا لیکن اب تیزی سے منصوبے تکمیل کی جانب گامزن ہیںحال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی میں بھی سی پیک منصوبوں کی سست روی اور چینی کمپنیوں کے عدم اطمینان کا معاملہ زیر بحث آیا تھا اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک نے اس کمیٹی کے سربراہ کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی توثیق کی تھی۔معیشت کے دیگر بہت سے شعبوں کی طرح سی پیک کی پیشرفت کو بھی گزشتہ برس سے کورونا کی وجہ سے کسی حد تک متاثر قرار دیا جا سکتا ہے اگرچہ یہ حیران کن امر ہے کیونکہ حکومت نے کورونا کے معاشی اثرات کو کم کرنے اور معیشت کو متحرک رکھنے کے لیے تعمیرات کی صنعت ہی کو چنا تھا اور اس تناظر میں یہ مانا جا رہا تھا کہ کورونا کے باوجود سی پیک کی سرگرمیوں پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ یہی بات گزشتہ برس اپریل کے پہلے ہفتے میں دفتر خارجہ کی ترجمان نے اپنی بریفنگ میں کہی تھی کہ کورونا وبا کا سی پیک پر اثر نہیں پڑے گالیکن ان تمام بیانات کے باجود حقیقت یہ ہے کہ سی پیک پر کام کی رفتار تسلی بخش نہیں جس کے باعث چینی حکام میں بے چینی پائی جاتی ہے پاکستان میں چین کے سفیر اس حوالے سے خاص طور پر متحرک ہیں کہ کسی طرح سی پیک کے منصوبوں کی رفتار میں تیزی لائی جائے اگر مسائل صرف وبا کی وجہ سے تھے تو اب تک یہ ساری رکاوٹیں دور ہو جانی چاہئے تھیں مگر قائمہ کمیٹی کے محولہ اجلاس میں جن مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی وہ کورونا سے پیدا کردہ مسائل کے علاوہ تھے۔اگر ہماری کارکردگی پر سوالات موجود ہیں تو انہیں قالین کے نیچے چھپانا درست رویہ نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اپنا محاسبہ خود کریں اور تنقید سے بچنے کا بہترین طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ کارکردگی کی رفتار اور معیارکو بہتر کیا جائے۔کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارے زیر تکمیل منصوبے بہترین معیار کے ساتھ مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہوں۔ اس سلسلے میں چینی شراکت داروں کی شکایات کا ازالہ کرنے کا بھی بندوبست کیا جانا چاہیے۔ اب تک سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں میں اکثریت بجلی کی پیداوار اور انفراسٹرکچر کے منصوبے ہیں اور انڈسٹریل زونز کے منصوبے ابھی زیر تکمیل ہیں یا ان میں سے ایک قلیل تعداد ہی مکمل ہو پائی ہے جبکہ ریلوے لائن کی توسیع اور تجدید کے منصوبے کام کے آغاز کے منتظر ہیں۔ انفراسٹرکچر اور بجلی کے پیداواری منصوبوں کی اپنی اہمیت ہے اور ان کے بعد قدرتی طور پر رخ صنعت کاری کی جانب مبذول ہونا چاہیے کیونکہ انفراسٹرکچر اور بجلی کے منصوبوں کی بنیادی غرض و غایت صنعتی ترقی ہی ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو روزگار کے مواقع مہیا کرنے اور ملکی برآمدات بڑھانے کیلئے یہ پیشرفت اہم ترین ہے دنیا کے ہر خطے کو کورونا کی وباء کے باعث مشکلات کا سامنا رہا ہے علاوہ ازیں بھی اہم منصوبوں کی تکمیل چیلنج ہی ہوتا ہے جس کا تقاضا ہے کہ عذر لنگ کی بجائے حالات کاادراک کیا جائے اور ہر شعبہ اپنی رفتار بڑھانے کی ذمہ داری پوری کرے جب ہر شعبے کا علیحدہ انتظام موجود ہے تو پھر حالات کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں اور اس سلسلے میں غفلت کا ارتکاب نہ ہوتا تو آج وضاحت دینے کی ضرورت پیش نہ آتی بہتر ہو گا کہ سی پیک کو حکومت اور حزب اختلاف سیاست زدگی سے پاک رکھیں اور باہم تعاون سے اسے آگے بڑھانے میں اپنا معاون اور مثبت کردار ادا کریں اور اس کی راہ میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور بین الاقوامی سازشوں کا مقابلہ کیا جائے تاکہ اسے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
اکٹھے روزہ اور عیدین کی طرف پیشرفت
حکومت کی جانب سے نجی رویت ہلال کمیٹیوں پر چاند دیکھنے پر پابندی عائد کرنے کے بعد پشاور کے کچھ شہریوں کی جانب سے ملے جلے خیالات کا ا ظہار فطری امر ہے شہریوں کی جانب سے تحفظات کا اظہاراور تنقید ان کا حق ہے لیکن من حیث المجموع سابقہ ادوار کی بہ نسبت موجودہ حکومت نے اس حوالے سے سنجیدہ مساعی کی ہیں جس کے نتیجے میں بجا طور پر اس امر کی توقع کی جا سکتی ہے کہ اختلافات میں کمی آتی جائے گی اور بالآخر وہ ماحول قائم ہو گا جس کی ضرورت او جو اہل وطن کی خواہش ہے یعنی یہ کہ رمضان المبارک کا آغاز اور عیدیں ایک ساتھ ہوں۔
ضم اضلاع کے ترقیاتی کام
صوبائی ٹاسک فورس برائے ضم اضلاع کے جائزہ اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت میںضلع شمالی وزیرستان اور کرم کے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل کیلئے کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ اجلاس میں مختلف اضلاع میں منصوبوں کی جوتفصیل بیان کی گئی وہ اطمیان بخش ہے جس میں صرف اتنا ہی اضافہ کیاجا سکتا ہے کہ معیار اور بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے ۔ جہاں تک حکومتی اقدامات اور ضم اضلاع کے عوامی مسائل و مشکلات اور عوام کی توقعات کا تعلق ہے اس میں توازن نہ ہونا فطری امر ہے ۔ برسوں کے مسائل قلیل وسائل سے حل نہیں کئے جا سکتے اس کے لئے حکومت کو ضم اضلاع کے لئے این ایف سی ایوارڈ کے تین فیصد کے حصول کے لئے بڑی جدوجہد کرنی پڑے گی اس کے بعد ہی عوامی مسائل کے بتدریج حل کی توقع کی جا سکتی ہے توقع کی جانی چاہئے کہ حکومتی اقدامات سے ضم اضلاع تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے اور عوامی مسائل میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔