Mashriqyat

مشرقیات

پاکستان میںکسی بھی شاہراہ پر چلے جائے وہاں آپ کوبہت سی ایسی گاڑیاں ملیں گی جن کے پیچھے بے حد مزاحیہ اور عشقیہ اور عجیب و غریب فقرے لکھے ہوئے ملیں گے اور کچھ تو بہت پتے کی باتیںبھی لکھی ہوئی ملتی ہیں آج ہم آپ کو پاکستان میں موجود رکشوں اور بڑی گاڑیوں پر لکھی گئی شاعری کے کچھ نمونے دکھانے جارہے ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گے اگر کوئی دلچسپ جملہ آپکی نظر سے بھی گزرا ہو تو ضرور لکھیں ۔رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے..گلوکار ملکو نے یقینا اپنے اس گانے کا مکھڑا کسی ٹرک کے پیچھے سے ہی لیا تھا۔ کیونکہ یہ جملہ ٹرکوں اور رکشوں پر محفوظ ادب کا ہی ایک شاہکار ہے۔
دوران سفر ہمیں سڑکوں پر چلتے ہوئے ٹرکوں اور رکشوں کے پیچھے ایسے ہی دلچسپ اشعار اور جملے پڑھنے کو ملتے ہیں ۔
نواں آیاں ایں سوہنیا؟، فاصلہ رکھیے ورنہ پیارہو جائے گا۔
دانشوری کے ان اعلیٰ نمونوں کو پڑھ کر ایک بارتو بندہ مسکرا ہی اٹھتا ہے ہماری سڑک سے دوستی ہے سفر سے یاری ہے، دیکھ تو اے دوست کیا زندگی ہماری ہے۔
کسی نے گھر آکر لوٹا کسی نے گھر بلا کر لوٹا، جو دشمنی سے نہ لوٹ سکا اس نے اپنا بنا کر لوٹا اتنا دبلا ہو گیا ہوں صنم تیری جدائی سے، کہ کٹھمل بھی کھینچ لے جاتے ہیں چارپائی سے
میرے دل پر دکھوں کی ریل گاڑی جاری ہے، خوشیوں کا ٹکٹ نہیں ملتا، غموں کی بکنگ جاری ہے جاپان سے آئی ہوں سوزوکی میرا نام۔ دن بھر سامان لانا لے جانا ہے میرا کام
قسمت آزما چکا، مقدر آزما رہا ہوں۔ تیرے غصے میں اتنا سرور ہے پیار میں کیا ہو گا،
تیری سادگی میں حسن ہے، سنگھار میں کیا ہو گا
یار کو آزما کے دیکھ لیا، پارٹی میں بلا کر دیکھ لیا، یہ جراثیم عشق کے مرتے نہیں انجکشن لگا کے دیکھ لیا کون کہتا ہے کہ موت آئے گی تو مر جائوں گا،رکشہ والا ہوں کٹ مار کے نکل جائوں گا ۔
ایک جملے میں داستان جس میں فلمی دنیا کے اثرات نمایاں
وقت نے ایک بار پھر دلہن بنا دیا ۔ نہ صنم، نہ غم ‘امریکا حیران، جاپان پریشان، میڈان پاکستان۔ دل جلے، صنم بے وفا’منی بدنام ہوئی، خان تیرے لئے
پھر وہی راستے جہاں سے گزرے تھے ہم پریشان نہ تھیویں میں ول آساں (پریشان مت ہونا میں پھر آئوں گا )
مذہبی قربت اور نصیحت :
نماز پڑھئے اس سے قبل کہ آپ کی نماز پڑھی جائے۔تعجب ہے تجھے نماز کی فرصت نہیں ۔اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیجئے ہو سکتا ہے کہ یہ آپ کی زندگی کا آخری سفر ہو ۔
نصیب سے زیادہ نہیں، وقت سے پہلے نہیں۔. نیک نگاہوں کو سلام ۔دعوت تبلیغ زندہ باد۔ داتا کی دیوانی
میں نوکر بری سرکار دا ۔گستاخ اکھیاں کھتے جا لڑیاں ۔ جھولے لعل۔
کبھی آئو ناں ہمارے شہر۔پیار کرنا صحت کے لئے مضر ہے، وزارت عشق حکومت پاکستان۔