سارا شہر اس کے جنازے میں تھا شریک

ہم نے یہ مشہور قول سنا تھا کہ عالم کی موت عالم کی موت کے مترادف ہے لیکن یہ نہیں سنا تھا کہ عالمہ کی موت عالم کی موت ہوتی ہے ۔ وقت نے ثابت کیا کہ ایک عالمہ کی موت بھی عالم کی موت ہوسکتی ہے یہ عالم فاضل خاتون قابل صداحترام محترمہ زیتون بانو تھیں جو پشتو اور اردو کی مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار خاتون تھیں وہ معمولی خاتون ادیبہ نہ تھیں بلکہ اسے پرائیڈ آف پر فارمنس سمیت پندرہ ایوار ڈز ملے ۔محترمہ گزشتہ پانچ سالوں سے متعدد امراض میں مبتلا تھیں محترمہ18جون1938ء کو پشاور کے نواحی گائوں سفید ڈھیری میں پیدا ہوئی تھیں وہ ایک معزز قابل احترام سیاسی اور ادبی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں ۔ کراچی سے لے کرکابل اور قندھار تک زیتون بانو کا نام احترام سے لیا جاتا تھا محترمہ پشتو اور اردو میں ماسٹر ڈگری ہولڈر تھیں۔پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن پشاور ریڈیو میں سینئر پروڈیوسر کے طور پر خدمات انجام دیں اور ڈیرہ اسماعیل خان پروا تک مختلف تعلیمی اداروں میں بھی پڑھاتی رہیں ۔ان کی شادی خانہ آبادی مرحوم تاج سعید سے ہوئی تھی۔ زیتون بانو نے دو درجن سے زئد اردو اور پشتو کتابیں تصنیف کیں۔ان کتابوں میں ہندارہ ، مات بنگڑی ،جوندی غمونہ ،خوبونہ کچکول شامل ہیں ۔جبکہ ان کی اردو تصنیفات میں شیشم کاپتا اور برگدکا سایہ اور وقت کی دہلیز پر شامل ہیں۔خیبر پختونخوا کلچر ڈائر یکٹریٹ نے ان کی مختصر کہانیوں کا ایک ضخیم پشتو مجموعہ زیر عنوان د شگومنزل(ریت کا سفر)شائع کیا ۔محترمہ نے پاکستان ٹیلی ویژن اور پشاور ریڈیو میں خواتین کے حقوق اور متعد سماجی و معاشرتی مسائل پر کئی فیچر ڈرامے لکھے۔محترمہ زیتون بانو کی رحلت سے پشتو ادب کا ایک زرین دورختم ہوا۔محترمہ کی ادبی اور ثقافتی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ انہیں پشتونوں کی تاریخ میں طویل عرصے تک بھلا یا نہیں جاسکے گا۔ وہ ادبی دنیا میں بلاشبہ پشتو زبان کی خاتون اول تھیں ۔ کیونکہ پشتو زبان و ادب میں ان سے پہلے کم کم ہی خواتین اہل قلم دکھائی دیتی ہیں محترمہ نے پشتو افسانہ نویسی کے ذریعے پشتون معاشرے کی اصلاح کیلئے جس انتھک محنت سے کام کیا اور پشتو کو ایسی معیاری تحریروں سے مالامال کیا یہ صرف انہی کا حصہ تھا ان کے کئی افسانوی مجموعوں کے اردو تراجم نے انہیں ملک گیر شہرت عطا کی ان کی ادبی خدمات کے صلے میں1996 میں صدارتی تمغہ حسن کاردگی سے نواز گیا محترمہ زیتون بانو کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے لے کر قبر کے کنارے تک اپنا وقت ضائع نہیں کیا تھا۔ محترمہ زیتون بانو نے عرصہ دراز تک پشاور شہر کی ادبی محفلوں کو روشنی بخشی اور اپنی پر تاثیر کہانیوں کی مدد سے پشتون خواتین کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے اور پشتون معاشرے کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کیلئے اپنی زندگی وقف کردی تھی ۔ محترمہ نے پروقار اور بے لوث انداز میں پشتون قوم کی خدمت کی۔ ان کی زندگی پشتون خواتین کے لئے ایک روشن مثال ہے۔دو سال پہلے اکادمی ادبیات پشاور نے محترمہ زیتون بانو کی ادبی خدمات کو سراہنے کے سلسلے میں اہل قلم سے ملئے کے عنوان کے تحت ایک پروگرام منعقد کیا تھا۔شاید ادبی محفلوں میں ان کی یہ آخری شرکت تھی مجھے محترمہ کے وہ حسرت بھرے لہجے میں کہے ہوئے الفاظ یاد آتے ہیں جب انہوں نے کہا کہ زندگی میں بس ایک ارمان ہے کہ جنازہ کرائے کے گھر سے نہیں بلکہ اپنے گھر سے نکلے ۔لیکن افسوس صد افسوس کہ ان کی یہ دعا قبول نہ ہوسکی۔تدفین کے لئے جب ان کے جنازہ کرائے کے گھر سے نکل رہا تھا۔ تو مجھے خوشحال بابا کا یہ شعر باربار یا دآرہا تھا۔
زہ ئے چالر ہ وہم قدرئے چاز دہ
پہ اور وسوزہ داتورے قلمونہ
یعنی اس تلوار اور قلم کو میں پشتونوں کے فائدے کے لئے استعمال کررہا ہوں لیکن کسی نے میرے قلم اور تلوار کی قدر نہیں کی یہ قلم اور تلوار خدا کرے کہ جل جائیں۔
میں ورسک روڈ پر مرحومہ کے پڑوس میں رہتا تھا، پشتو زبان میں ان پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور لکھا جائیگا کیونکہ محترمہ کو اللہ تعالیٰ نے اباسین یوسفزئی جیسا ذہین و فطین معنوی فرزند عطا کیا تھا ۔ یہ ہم دونوں کے لئے ایک بڑی سعادت تھی پشاور شہر میں مولانا بجلی گھر کے جنازے کے بعد چشم فلک نے دوسرا بڑا جنازہ محترمہ زیتون بانو کا دیکھا۔ محترمہ کو پرائم ہسپتال کے قریب شگئی ہند کیان کے مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا۔ صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین جناب ڈاکٹر یوسف خشک نے ان کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔
محترمہ کے فرزند ارجمند بابر نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی یہ بڑی مسرت کی بات تھی کہ مرحومہ نے اپنی اولاد کی بھرپور دینی تربیت کی تھی کہ آج ان کا متشرع فرزند اس عظیم خاتون کا خود ہی نماز جنازہ پڑھارہے تھے۔
سارا شہر اس کے جنازے میں تھا شریک
تنہائیوں کے خوف سے جو شخص مرگیا