بجلی گری تو شہر کے کچے مکان پر

بات وہی پشتو ضرب المثل والی ہے کہ ”تم پر بس نہیں چلتا ‘ تو تمہارے باپ کو ماروں گا”امریکہ سے آنے والی خبروں سے واضح ہو رہا ہے کہ امریکہ بہادر ایک جانب افغانستان میں اپنی شکست کا اعتراف کر رہا ہے مگر کھسیانی بجلی کھمبا نوچے کے مصداق اپنی شکست کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر پاکستان کے خلاف”پابندیاں” لگانے پر بھی غور کر رہا ہے ‘ اپنی شکست کے حوالے سے امریکی جنرل مارک ملے نے ہائوس آف آرمڈ سروسز کمیٹی میں امریکہ کی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بہت واضح ہے کہ افغانستان میں جنگ کا اختتام اس طرح نہیں ہوا جیسے امریکہ چاہتا تھا ‘ یہ مکمل طور پر سٹرٹیجک ناکامی ہے جو ہم نے آخری کے بیس دن یا بیس مہینوں میں نہیں بلکہ بیس سال کی جنگ ہاری ہے ‘ تاہم امریکہ نے افغان جنگ سے کئی سبق سیکھے ہیں ۔ جنرل مارک ملے کے چشم کشا انکشاف کے باوجود بعض سینیٹرز نے جس طرح پاکستان پر پابندیاں لگانے کے حوالے سے اقدامات شروع کئے ہیں ان سے نہیں لگتا کہ بقول جنرل مارک ملے امریکہ نے اس واضح شکست سے کوئی سبق سیکھا ہے ‘اور جن سینیٹرز نے امریکی سینٹ میںمسودہ قانون میں پاکستان کا ذکر کیا ہے جس کا مقصد امریکی شکست کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر پابندیوں کی زد میں لانا ہے ‘ تمام حوالہ جات پاک امریکہ تعاون کی روح کے منافی ہیں ‘ پاکستان نے 2001ء سے افغانستان پر امریکہ کے ساتھ مسلسل تعاون کیا ‘ پاکستان نے افغان امن عمل میں سہولت ‘ افغانستان سے امریکہ سمیت غیر ملکی انخلاء میں مدد کی ‘ پاکستان مسلسل کہہ رہا ہے کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ مذاکرات ہیں صورتحال بالکل وہی ہے جس کا کالم کے آغاز میں ذکر کیا تھا یعنی طالبان کی فتح اور امریکہ کی عبرت ناک شکست سے حقیقی سبق سیکھنے کے بجائے ڈھٹائی سے سارا ملبہ کسی اور پر ڈال کر امریکی قوم کو یہ تاثر دینا کہ امریکی سبکی خود اس کی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے یعنی
بادل سے کھیلتی رہیں پختہ عمارتیں
بجلی گری تو شہر کے کچے مکان پر
ایک جانب جنرل مارک ملے کا اعتراف تو اب دوسری جانب پاکستان پر سارا ملبہ گرانے والے چند سینیٹرز کے اقدامات کے خلاف بھی خود امریکی سینٹ کے اندر سے انصاف پر مبنی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں ‘ امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے محولہ پاکستان مخالف بل پر آواز بلند کی ہے پاکستانی امریکن ڈیموکریٹ طاہر جاوید سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کرس وان ہولن نے کانگریس میں پیش کردہ بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی سینیٹر بل پیش کر سکتا ہے ‘ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بل قانونی حیثیت اختیار کر لے ‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر انگلیاں نہ اٹھائی جائیں ڈیموکریٹ رہنما طاہر جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کبھی عالمی مفادات کے خلاف کام نہیں کیا ‘ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں ‘ بین الاقوامی امن کے لئے پاکستان کی قربانیوں کو سراہا جانا چاہئے وہ جو کسی شاعر نے کہا تھا کہ
حیران ہوں کہ اک بھی گواہی نہ مل سکی
حالانکہ اک ہجوم میں مارا گیا مجھے
تو پاکستان کے خلاف بعض عاقبت نااندیش امریکی سینیٹروں کی جانب سے امریکی سینٹ میں پیش کردہ بل کے ذریعے”مارنے” کی جو کارروائی ڈالی گئی ہے ‘ شکر ہے کہ اس حوالے سے کم از کم ایک آواز تو ابھری ہے اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس شعر کی مانند کہ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے رہے او رکارواں بنتا گیا
اور بھی انصاف اور حقیقت پسند سینیٹرز امریکی سینٹ میں پاکستان کے حق میں آواز بلند کرتے دکھائی دیں گے ‘ کیونکہ جس طرح جنرل مارک ملے نے اصل حقائق سے پردہ اٹھا کر امریکی قوم کو آئینہ دکھا دیا ہے ان کے خیالات سے متاثر ہو کر مزید آوازیں پاکستان کے حق میں اٹھیں گی اس ضمن میں پاکستان کے وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں جوکچھ کہا ہے اس پر بھی اگر توجہ دی جائے تو معاملات واضح ہو جاتے ہیں ‘ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے لئے فضائی حدود استعمال کرنے کا مطالبہ کیا ہے ‘ انہوںنے کہا کہ اس معاملے پر تمام فوائد و نقصانات پر غور و خوض کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا اور وفاقی کابینہ فیصلہ کرے گی جبکہ کوئی بھی فیصلہ پاکستان کی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی سینٹ میں پیش کردہ پاکستان مخالف بل پر خاموش نہیں بیٹھیں گے ‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں لابیز اور ہمارے ہمسائے اس بل کے پیچھے ہیں کانگریس کو افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سمجھنا ہو گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جن عوامل کی جانب سے اشارہ کیا ہے وہ بالکل واضح ہیں اورپاک امریکہ تعلقات کی طویل تاریخ میں ابھرنے والے واقعات کے پس منظر کو روز روشن کی طرح عیاں کرتے ہیں ‘ ایوبی دور سے بڈھ بیر میں امریکی جاسوسی نظام کی تصیب اور وہاں سے پوٹو طیارے کے ذریعے سابق سوویت یونین کی جاسوسی کے واقعات سے لیکر نائن الیون کے واقعے کے بعد جنرل مشرف کو ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہونے جس میں یہ پیغام دیا گیا تھا کہ تم ہمارے ساتھ ہو یا پھر ہمارے خلاف(مفہوم) اور پھر افغانستان کو تورا بورا بنانے سے لیکر اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے واقعات سے جنم لینے والے صورتحال میں ہر موقع پر امریکہ کے ساتھ تعاون کے باوجود اگر پاکستان کی”وفاداری بہ شرط استواری ” کو بھی تسلیم نہیں کیا جارہا جبکہ حال ہی میں مبینہ طور پر پاکستان سے اڈے مانگنے کے حوالے سے لیکر تازہ ترین یعنی بقول شاہ محمود قریشی اب القاعدہ پر حملوں کے لئے پاکستان سے فضائی حدود کی”طلب” تک معاملے کا آجانا تو کہیں امریکی سینٹ میں امریکی سینیٹرز کی پاکستان پر پابندیوں کی قرارداد کا باعث نہیں ہے؟ بقول بہادر شاہ ظفر
چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن
جیسی اب ہوگئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی