موسمیاتی تبدیلی کیخلاف مزید اقدامات درکار

پاکستان کا شمار ان ملکوںمیں ہوتا ہے جو سب سے کم زہریلی گیسوں کا اخراج کرتے ہیں لیکن وہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملکوں میں شامل ہے۔ جرمنی کے موسماتی تبدیلی کے نگران ادارے کی رپورٹ میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثرہ سرفہرست دس ملکوں میں شامل کیا گیا ہے۔ متنو ع جغرافیہ اور بڑھتی آبادی بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ حال ہی میںایشائی ترقیاتی بنک اور عالمی بنک کی طرف سے ”کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل” کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث سالانہ 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق بعض دیگر اہم انکشافات بھی کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے درجہ حرارت میں اوسط اضافہ عالمی سطح پر ہونے والے اضافے سے زائد ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے چھٹا انتہائی غیرمحفوظ ملک ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے فوری اثرات ملک میں مختلف حوالے سے دیکھے جا سکتے ہیں، جیسا کہ پانی کی قلت، کم زرعی پیداوار، سیلاب، جنگلات کا رقبہ کم ہونا، مون سون نظام میں تغیر، گلیشئر زکا تیزی سے پگلنا ، غذائی قلت اور دوسرے مسائل شامل ہیں۔ معیشت کو سالانہ بنیادوں پر ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف طرح کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بڑھتے درجہ حرارت کا ایک بڑا اثر برفانی جھیلوںکا بننا ہے جن کے پھٹنے سے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچتا ہے اور انسانی زندگی متاثر ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے کے تعاون سے خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے نقصانات سے بچائو کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی عفریت کا سامنا کرنے کے لیے موثر انفراسٹرکچر سمیت موسمی موافقت کے حامل اقدامات بہت اہم ہوتے ہیں۔ پاکستان جنگلات کا رقبہ بڑھانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے تاکہ موسمیاتی بحران سے نمٹا جا سکے۔ خیبرپختونخوا میں 2013 ء میں تحریک انصاف کی حکومت کا شروع کردہ بلین ٹری سونامی منصوبہ اس حوالے سے پہلا بڑا اقدام تھا۔ بلین سونامی شجرکاری منصوبہ نہ صرف شجرکاری کے حوالے سے کامیاب منصوبہ ثابت ہوا بلکہ افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے بھی تھرڈ پارٹی جائزے میں اس منصوبے کو کامیاب قرار دیا ہے۔ مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت نے ٹین بلین سونامی منصوبے کے نام سے ایک اور منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد ملک بھرمیں جنگلات کا رقبہ بڑھانا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے تعاون سے یہ منصوبہ 2019ء میں شروع کیا گیا اور اسے 2023 میںمکمل کیا جائے گا۔ عالمی ماہرین اور مبصرین نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم نے بلین ٹری منصوبے کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ منصوبہ دنیا بھر میں اسی طرح کے اقدامات کے لیے راہ ہموارکرے گا۔ پاکستان جیسے ملک جہاں معاشی اور سیاسی مسائل بھی موجود ہیں، وہاں بلین ٹری اور ٹین بلین ٹری سونامی جیسے منصوبے ملک کے حوالے سے مثبت پہلو کو سامنے لائے ہیں۔ اگرچہ شجرکاری کے اقدامات موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مثبت اقدام ہے تاہم اس حوالے سے ابھی مزید مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ شجرکاری کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ قابل تجدید توانائی کی تیاری کو بھی موسمی موافقت کے اقدامات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے پاکستان کو اپنے روزانہ کے امور اور صنعتوں کو چلانے کے لیے فوسیل فیول پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ اقتصادی سروے2020-21ء کے مطابق ملک میں توانائی کا بڑا ذریعہ تھرمل پاور پلانٹس ہیں ، جن سے انسٹھ اعشارعہ بیالیس فیصد بجلی پیدا کی جارہی ہے۔اسی طرح تیس اعشاریہ باون فیصد بجلی پن بجلی گھروں سے حاصل کی جاتی ہے جبکہ قابل تجدید توانائی کا حصہ صرف دو اعشاریہ تیئس فیصد ہے ۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبے بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ فوری شروع کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ان کے لیے تربیت یافتہ عملہ بھی چاہیے۔ پاکستان نے جھمپیر ونڈ ملز اور قائد اعظم سولر پارک جیسے قابل تجدید توانائی کے اقدامات کا آغاز تو کیا ہے لیکن سرمایہ کاری کے فقدان کے باعث مزید کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے، بدقسمتی سے پاکستان اس شعبے میں مناسب براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری راغب نہ کرسکا۔ بیرونی تعاون کے بغیر پاکستان بڑے پیمانے پر پون اور پن بجلی کے مواقع بروئے کار نہیں لا سکتا۔ پاکستان میٹرو اور اورنج لائن جیسے ٹرانسپورٹیشن کے منصوبوںمیں بھی سرمایہ کاری کررہا ہے تاکہ ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم سے کم ہو، اس کے علاوہ فوسیل فیول پر انحصار کم کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیاں بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے تجارتی خسارے کی بڑی وجہ بھی پٹرولیم مصنوعات کی درآمد ہے جو تھرمل بجلی کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں، تاہم ملک کا ہدف2030ء تک اپنی توانائی کی ساٹھ فیصد ضرورت ماحول دوست ذرائع سے پورا کرنا ہے جو ایک بروقت اقدام ہے۔ تھرمل سے پن بجلی اور قابل تجدید توانائی پر منتقلی سے درآمدات کی مد میں بچت ہوگی۔ لیکن پن بجلی یا قابل تجدید توانائی کے ذرائع لگانے کے لیے بھی تو بھاری سرمایہ درکار ہے جو پاکستان جیسا ملک برداشت نہیں کر سکتا ،جس نے پہلے ہی قرضوں کی ادائیگی بھی کرنی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان ماحول دوست پالیسیوں کے لیے موثر آواز ہے اور ہونا بھی چاہیے ۔ کلاسکو میں ہونے والی آئندہ موسمیاتی تبدیلی کانفرنس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے ماحول دوست اقدامات کو اجاگر کیا جائے اور عالمی برادری پر زور دیا جائے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے پر بھرپور توجہ دے۔ وعدوں کے بجائے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات درکار ہیں۔ پاکستان یقیناً موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے درست سمت میں گامزن ہے تاہم ابھی اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضروت ہے ۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جنوبی اتحاد کی قیادت کرنی چاہیے اور وہ اس مسئلے سے نبرد آزما ملکوں کی آواز بنے۔
(بشکریہ، بلوچستان ٹائمز، ترجمہ: راشد عباسی)