اسد عمرکی درویشی اور حفیظ شیخ کی معصومیت

افغانستان میں شکست کا اعتراف اور پاکستان پر پابندیوں کی باتیں امریکہ کی طرف سے بیک وقت سامنے آئیں امریکی جرنیلوں کو سینیٹ کے کٹہرے میں سوال وجواب کے عمل سے گزرنا پڑا اور انہوںنے صاف لفظوں میں بتادیا کہ افغانستان میں امریکہ کو سٹریٹجک لحاظ سے شکست ہوئی ہے کیو نکہ وہ دشمن آج کابل میں برسراقتدا ر ہے جس سے ہم بیس سال لڑتے رہے ۔انہوںنے اعتراف کیا کہ اگر امریکہ مزید قیام بھی کرتا تو یہ جنگ جیتنا ممکن نہ تھا ۔اس واضح اعتراف کے ساتھ ہی پاکستان پر پابندیوں کا ایک بل سینیٹ میں پیش کیا گیا ۔بینک آف امریکہ نے اپنے لوگوں کو معاشی بحران کی خبر سنادی ہے ۔برطانیہ میں پٹرول کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور لوگ پٹرول کے لئے لمبی قطاروں میں لگے نظر آرہے ہیں ۔
برطانوی حکومت اس بحران کو بریگزٹ معاہدے سے نکلنے کو قرار دے رہے ہیں اور ٹینکر بھی سڑکوں سے غائب ہو گئے ہیں ۔چین میں کوئلے کا بحران سراُٹھا رہا ہے ۔بھارت میں پٹرول اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں بلکہ سلینڈروںکے ڈھیر دکانوں کے آگے سجا دئیے گئے ہیں ۔اس کے ساتھ پاکستان میں ڈالر کی قدر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ۔ امریکی پابندیوں کے بل کی آہٹ کی سنتے ہی سٹاک مارکیٹ کریش ہوگئی اور یوں مہنگائی کا ایک اور بند ھ ٹوٹ گرا اور ایک سیلاب سا آگیاایک طرف عوام اس سیلاب کی لہروں میں بہہ رہے ہیں تو دوسری طرف طرف حکومت پراعتماد ہے کہ مہنگائی عارضی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی قوم کو ایک بار پھر گھبرانا نہیں کی تلقین کرتے ہوئے مہنگائی کو عارضی کہا ہے ۔عارضی مہنگائی کا یہ دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے ۔امریکی پابندیوں کے بعد پاکستان کی معیشت کو مزید جھٹکے لگنا یقینی ہیں تو ایسی صورت میں مستقبل کے منظر نامے کا تصور کرکے خوف آتا ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ سمیت منظر سے غائب ہونے والے خزانے کے ہر ذمہ دار کی رخصتی پر اس امید کے ساتھ سکھ کا سانس لیا گیا تھا کہ شاید کوئی نیا چہرہ کسی نئے اور تیر بہدف نسخے اور نئے طرز مسیحائی کے ساتھ آجائے مگر ایک کے بعد دوسرا چہرہ ماضی کو یاد کرنے پر مجبور کرتا رہا ۔شوکت ترین کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر تو لوگ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ” کے انداز میں حفیظ شیخ کو یاد کر کے دعائیں دیتے ہیں ۔
اسد عمر تو عوام کو اس عہد کا صاحب بصیرت درویش معلوم ہوتا ہے جنہوںنے آئی ایم ایف کے قصاب خانے میں جانے سے کئی ماہ تک ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا ۔انہوں نے آئی ایم کی پاکستان بھیجے جانے کے لئے تیار ٹیم کے ہاتھوں مصری عوام کی آہ وزاری سن رکھی تھی اور انہیں یہ خدشہ تھا کہ آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر ہوجانے کے بعد یہی چیخ وپکار پاکستانی عوام کا مقدر بھی ہوگی ۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی یہی وہ ٹیم تھی جسے مصر کی معیشت ٹھیک کرنے کے کام پر مامور کیا تھا اور مصر کے عوام لئے گھٹن اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہ لُو کی دعائیں مانگ کر حالات سے نجات چاہنے لگے تھے ۔وزیر خزانہ شوکت ترین بھی خوداعتمادی کے اعلیٰ مقام پرفائز ہیں اور انہوں نے اعلان کیا ہے میں کہیں نہیں جا رہا ۔ملکی معیشت جلد ٹھیک ہو گئی ۔وہ جلد کب آئے گی ؟ کسی کو علم نہیں ۔فی الحال تومہنگائی کی چکی میں عوام کا قیمہ بن رہا ہے ۔بازاروں میں ہر شے کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں اور آئی ایم ایف واقعی عوام کی چیخیں نکال رہاہے حکومت امریکہ کے مقابل کھڑی ہے تو اسے ردعمل کے لئے بھی تیار ہونا چاہئے تھا اور پلان بی کے تحت عوام کو بچانے کی کوئی تدبیر بھی تیار ہونی چاہئے تھی ۔اس کے لئے مختلف تاویلات اور دلائل بھی پیش کئے جاتے ہیں مگر عام آدمی کو روٹی سے غرض ہے وہ دلائل سن کر اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ رہی سہی کسر نکالنے کے لئے کافی ہے۔
مانا کہ آئی ایم ایف مغربی اداروں کا ایک مہرہ ہے اور وہ ان مغربی ملکوں کے احکامات کی سرتابی نہیں کر سکتا اور مغربی ملک اس وقت پاکستان کے سیاسی نظام سے ناخوش ہیں اور یہ ناخوشی ایک کشیدگی میں ڈھل چکی ہے ۔ افغانستان کے حالات نے جلتی ر تیل کا کام دیا ہے ۔پاکستان سے ناراض اور آمادۂ فساد طاقتوں کے زیر اثر آئی ایم ایف پاکستانی عوام پر ٹیکس لگاکر حکومت کو غیر مقبول بنانے کے ذریعے بدلے چکا رہا ہے ۔ حکومت کو مہنگائی کے بے قابو اور دندناتے ہوئے جن کو قابو کرنا ہوگا۔عوام کی قوت خرید اب جواب دیتی جا رہی ہے ۔حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے ۔مہنگائی کا احساس ہونے اور اس کا اظہار کرنے سے مہنگائی اسی طرح کم نہیں ہوگی جس طرح سر درد میں مریض کے پیناڈول پیناڈول کی مالا جپنے سے آرام نہیں آتا بلکہ اس کے لئے دوائی کھانا ضروری ہوتا ہے ۔مہنگائی بھی احساس اور اعتراف سے نہیں اقدامات سے کم ہو گئی ۔یا تو اقدامات اُٹھائے نہیں جا رہے یا پھر ہر تدبیر اُلٹی ہو رہی ہے ۔ہر دو صورتوں میں عوام کی تشویش بجاہے۔