Shazray

آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا جائے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے، آٹے کی 85کلو بوری کی قیمت میں 600روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ محض گذشتہ دو دنوں میں آٹے کے 20کلو کے تھیلے کی قیمت میں 250روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح چینی کی بوری میں بھی 200روپے کا اضافہ ہوا ہے، یوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناکر گراں فروشوں نے اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں از خود اضافہ کر دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت کے تین سالوں میں مہنگائی میں ہوشربا حد تک اضافہ ہوا ہے، اس کے برعکس آمدن میںکوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ کورونا کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ اور کاروبار بند ہوئے ہیں۔ ایسی صورت حال میں فلاحی ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سرکاری خزانے کا منہ کھول دے اور مختلف مدات میں سبسڈی فراہم کر کے عوام کو بحران سے نکلنے میں سہولت فراہم کرے۔ مگر تحریک انصاف کی موجودہ حکومت میں ایسا کوئی پروگرام شروع نہیں کیا گیا جس سے عوام کی غالب اکثریت مستفید ہو سکے۔ حکومت کی طرف سے احساس پروگرام ضرور شروع کیا گیا جس سے ایک خاص طبقہ یا خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد مستفید ہو رہے ہیں، حالانکہ ایسے مواقع پر عوام کی بڑی تعداد کو حکومت کی طرف سے ریلیف کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے کورونا کے ایام میں تمام شہریوں کو چیکس فراہم کیے گئے، ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ، اور کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کی گئیں تاکہ بحران سے نمٹنا آسان ہو ، اس کے برعکس پاکستان میں زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے، اس کی زندہ مثال روزانہ کی بنیادوں پر مہنگائی میں اضافہ ہے۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ دو وقت کی روٹی ہر شہری کی ضرورت ہے جس کی آسان فراہمی ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
ویکسی نیشن سے انکاری افراد کیخلاف کارروائی کا عندیہ
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرکے احکامات کی روشنی میں صوبائی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں ، ٹرانسپورٹرز ، مسافروں، دکانداروں ، دفتری ملازمین سے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ چیکنگ کا عمل شروع کر دیا ہے، صوبائی انتظامیہ کے متحرک ہونے سے شہری ویکسی نیشن کو سنجیدہ لیں گے ، اس اعتبار سے صوبائی انتظامیہ کے اقدامات قابل تحسین ہیں کیونکہ ویکسی نیشن کے آغاز کو پاکستان میں چھ ماہ ہو چکے ہیں مگر اس مدت میں شہریوں کی بہت کم تعداد کو ویکسین لگانے کا عمل پورا ہو سکا ہے۔ شروع میں حکومت پر تنقید کی جاتی رہی کہ دیگر ممالک کی نسبت حکومت ویکسین کا انتظام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے، لیکن اب جا کر عقدہ کھل رہا ہے کہ ویکسین کی دستیابی کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ویکسین لگانے پر آمادہ نہیں ہے، حکومت کی بسیار کوششوں کے باوجود ابھی تک پاکستان کی آدھی آبادی سے کم کو ہی ویکسین لگائی جا سکی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً آٹھ کروڑ اٹھائیس لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے ، 22کروڑ کی آبادی میں یہ تعداد بہت کم ہے کیونکہ ابھی تک 14کروڑ افراد کو ویکسین لگانے کا عمل باقی ہے، یہ درست ہے کہ کروڑوں افراد کو ویکسین لگانے کا عمل قطعی طور پر آسان نہیں ہے، لیکن اگر عوام حکومت کے ساتھ تعاون کرے تو مشکل کام بھی آسان ہو جائے گا، عوام کو یہ بات ملحوظ خاطررکھنے کی ضرورت ہے کہ ابھی تک حکومت شہریوں کو مفت ویکسین لگانے کا انتظام کر رہی ہے ، اگر کل کلاں حکومت نے کوئی ایسی پابندی عائد کر دی کہ عوام اپنے خرچ پر ویکسین لگوائیں اور نہ لگانے والوں کے خلاف سخت تادیبی و قانونی کارروائی کی جائے گی تو عوام کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ عوام اور حکومت دونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ویکسی نیشن کے عمل میں اپنا کردار ادا کریں، حکومت ویکسی نیشن فراہم کرے اور عوام ویکسین لگوانے میںکسی قسم کی تاخیر نہ کریں۔
غیر قانونی افغان شہریوں کے روپوش ہونیکا انکشاف
افغانستان سے گذشتہ دو اڑھائی سالوں کے دوران مختلف سرحدوں کے ذریعے آنے والے تقریباً 3لاکھ افغان باشندوں کے پاکستان میں روپوش ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان افغان باشندوں کا سرحدوں پر کسی قسم کا ریکارڈ موجود نہیں ہے، اس لیے ان کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ یہ کن علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ سرحدوں پر سخت پابندیاں نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ پاکستان میں داخل ہوئے ، اور نادرا کے پاس ان لوگوںکا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد سے افغان مہاجرین کا پاکستان میںآمد کا سلسلہ جاری ہے، اس طویل عرصہ کے دوران رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی جو تعداد بتائی جاتی رہی ہے ،غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ یوں اندیشہ ہے کہ اب بھی لاکھوں افغان مہاجرین ایسے ہیں جو غیر رجسٹرڈ ہونے کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں آباد ہو کر کاروبار میںمصروف ہیں۔ ایسی صورت حال میں وزارت داخلہ اور سیکورٹی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کا کھوج لگائیں اور انہیں رجسٹر کر کے افغانستان واپس بھیجنے کی سبیل نکالیں، کیونکہ اب افغانستان میںخانہ جنگی ختم ہو چکی ہے۔
عمر شریف کی رحلت
معروف لیجنڈری کامیڈی کے بے تاج بادشاہ عمر شریف طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، سندھ اور وفاقی حکومت کی مشترکہ کوششوںسے عمر شریف کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے امریکہ منتقل کرنے کا انتظام ہو گیا تھا، مگر زندگی نے ساتھ نہ دیا اور راستے میں ہی ان کی طبیعت بگڑ گئی ، انہیں جرمنی کے ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ عمر شریف 1955ء کو کراچی میں پیدا ہو ئے ۔کروڑوں لوگوں کے دلوں پر راج کرنے اور ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے عمر شریف نے عمر کی 66بہار دیکھیں ۔ وہ پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان تھے ، دنیا بھر میں عمر شریف کے چاہنے والے اُن کی وفات پر سوگوار ہیں،پاکستان و بھارت کی شوبز شخصیات سمیت پوری دنیا نے عمر شریف کی وفات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے ، اورکئی اداکاروں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عمر شریف کے بعد کامیڈی کا ”فادر” انتقال کر گیا ہے۔ عمدہ پرفارمنس پر انہیں کئی ملکی و غیر ملکی اعلیٰ ایوارڈز سے نوازا گیا۔ عمر شریف کو فن و ثقافت کے لیے گراں قدر خدمات پر تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ فن و ثقافت کیلئے خدمات کی بنیاد پر انہیں مدتوں یاد رکھا جاء گا، خدا سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی بشری لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائیں۔