Mashriqyat

مشرقیات

کہتے تھے کہ مرنے والے کو برا نہیں کہتے، یہ نصیحت عمر بھرمیں انہیں یا د بھی آئی تو اس وقت جب ان کے چل چلائو کا وقت تھا ورنہ جب تک ہاتھ پائو ں میں جان تھی ان کا گڑے مردے اکھیڑنا ہی کام تھا۔اچھی بات کو بھی برے طریقے سے بیان کرنے میں ان کا ثانی نہیں تھا۔ بری عادتوں سے اتنے مشہور تھے کہ بقول راوی ،”بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا ”کا فلسفہ عمر بھر پیش نظر رکھا،سوائے عمر کے آخری چند برسوں کے جب ان کے اعضائے رئیسہ غریبہ ہو گئے۔تب کوئی اچھا کام بھی بھول چوک میں کر بیٹھتے تھے۔
برادیکھنا ،براسوچنااور برا کرنے کا ہر وقت سوچتے رہتے تھے،راہ چلتی خواتین کو جی بھر کر گھورنے کے لئے ان کا دل مچلتا تھا تاہم اپنی شرافت کا بھرم قائم کرنے کے لئے نظر جھکا لیتے تھے۔البتہ بے تکلف یا ردوستوں کی محفل میں اڑوس پڑوس کی خواتین کے سیکنڈلز سے لے کر سینڈلز تک کے قصیدے پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔اس شغل میلے میں انہیں معلوم ہی نہیں ہو ا کہ کب ان کے گھر پلنے والی دختر نیک اختربالی عمر کو پہنچ کر سینڈل پہننے لگی ہے۔جب کسی نے انہیں بتایا کہ”کچھ توشرم کریں جوان بچی کے باپ ہیں”۔تویہ سنتے ہی شرم سے پہلے غصہ ہوئے اور محفل سے اٹھ کر گھر پہنچے تو دختر نیک اختر پر نئی پابندیاں لگا دیں۔
کھانے پینے کے معاملے میں سخی توکھلانے پلانے میں کنجوس مکھی چوس تھے،ہمیشہ انہیں دوسروں کے ہاں بیٹھکوں ،حجروں میں ہونے والی مہمان نوازیوں کی خبر رہتی تھی جہاں وہ بن بلائے پہنچ جاتے تھے۔کبھی جو اپنے ہاں مہمانوں کی خبر پاتے تو مسجد میں فرض کے بعد نفل نمازاتنی لمبی کر دیتے کہ اگلی نماز کے لئے اذان کا وقت ہوجاتا اور مہمان ان کے گھر سے رخصت ہو کر اپنے گھربھی پہنچ چکا ہوتا۔ان کی کنجوسی کی وجہ کوئی غربت وغیرہ نہیں تھی باپ دادا کی وراثت سے انہیں جتنا ہاتھ آیا تھا یہ انکی دو چار پشتوں کے لئے بھی کافی تھا بس و ہ اپنی عادت سے مجبور تھے۔کہیں ایک روپے بھی زیادہ خرچ ہو جاتا تو گھر کے ہر فرد کی شامت آجاتی۔بیوی بچوں کے کپڑوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہمیشہ لنڈے بازارکا رخ کرتے تھے۔بجلی کا بل بچانے کے لئے انہوں نے ڈائریکٹ کنڈا ڈالا ہوا تھا ایسے ہی گیس بھی چوری کی استعمال کرتے تھے۔
حاجی صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔مگر جو یادیں اپنی چھوڑ گئے ہیں یہ اب بھی زندہ ہیں۔ان کے اڑوس پڑوس ہی نہیں کہیں بھی جائیں آپ کو حاجی صاحب جیسے کردار مل جائیں گے۔حاجی صاحب کو دفن کرنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ ان یادوں باتوں کو بھی دفن کریں بہت تلخ کرد ی ہے زندگی اس قسم کے سماج نے۔