Dr ahmad Ghayaas

اپنے آپ کو بوڑھا نہ ہونے دیں

نوکری سرکاری ہو ‘ نجی اداروں کی یا پھر اپنا کاروبار ہی ہو ایک خاص عمر کے بعد عام تاثر یہ ہے کہ بس اب گھر میں بیٹھ کر آرام کرنا چاہئے زندگی کے قیمتی سال کام کرکرکے تھک گئے ہیں اب آرام اوربس آرام ہی ہونا چاہئے ۔ لیکن آپ نے کئی لوگوں کو یہ کہتے بھی سنا ہوگا کہ اگر وہ گھر بیٹھ گئے تو انہیں زنگ لگ جائے گااور بیماریاں ان میں گھر کرلیں گی۔یہ بات وہ اپنے تجربے سے بھی کہہ رہے ہیں اور اسی طرح کی رائے ان کے ڈاکٹر نے بھی دی ہے کہ اگر انہوںنے سہل زندگی گزارنی شروع کی تو پھر ان پر بیماریاں آسانی سے حملہ کرسکتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سب بیماریوں کی جڑ بڑھاپا ان پر جلدی آجائے گا جس سے نہ صرف ہم سب گھبراتے ہیں بلکہ اس عمر کے لوگوں کی کثیر تعداد کا بھی یہی ماننا ہے۔لہٰذہ وہ اپنے آپ کو امرالمراض بیماری بڑھاپے سے بچانے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔اس طرح وہ دفتروں میں چھوٹے موٹے عہدوں پر فائل ورک اور بہی کھاتوں کی جانچ پڑتال کا کام کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔دیکھا جائے تو ان کا سٹیمنا اب بھی قائم و دائم ہے اور وہ اب بھی آٹھ گھنٹے کام کرسکتے ہیں لیکن یار دوست اور ہمارے عزیزوں کی یہی رائے ہوتی ہے کہ حاجی صاحب اب آپ کے اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں کسی مسجد میں بیٹھ جائیں ۔
اس بحث میں پڑے بغیر کہ بڑھاپے سے بیماریاں آتی ہیں یا بیماریوں کی وجہ سے بڑھاپا جلدی آجاتا ہے پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ ملکوں نے کچھ اس طرح حل نکالا ہے کہ وہاں کے ریٹائرڈ افراد نے سماجی کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ مل کراپنی ماہرانہ صلاحیتیں انہیں مفت میں فراہم کردیں۔ اسی طرح کا ایک کام امریکہ کے بڑی عمر کے لوگوں نے کالج اور سکول کے بچوں کو پڑھانے کا کام شروع کررکھا ہے جس سے ان ریٹائرڈ افراد کو اپنے فارغ ہونے کا احساس نہیں ہوتا اور بچوں کا سکول و کالج کا کام اور بالخصوص چھٹیوں کا کام باآسانی کسی ماہر کی زیرنگرانی ہوجاتا ہے۔یہ ریٹائرڈ بزرگ حضرات اپنی زندگی بھر کی محنت اور علم کو یوں رضاکارانہ طور اپنے معاشرہ کی بھلائی کے لئے استعمال کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔بڑھاپا اور اس سے متعلقہ بیماریوں سے بچنے کے حل بارے میں صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے معاشرہ کو کچھ لوٹانے کااحساس ان کی زندگی کو وہ مقصدیت دیتا ہے جو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے فائدہ مند ہے۔ایک بزرگ شہری نے کہا کہ مجھے پڑھانابے حد پسند ہے کیونکہ مجھے اس کے ذریعے اپنے معاشرے کو کچھ واپس کرنے اور بچوں کے ساتھ اچھا وقت بتانے کا موقع ملتا ہے جو مجھے بہت ہی پسند ہے۔
اعلیٰ عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے والے کچھ بزرگوں نے بتایا کہ ہمیں طالب علموں چاہے وہ سکول کے ہیں یا کالج کے ان کے ساتھ وقت بتاکے بہت اچھا لگتا ہے انہیں پڑھانے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم بچوں سے کچھ سیکھ رہے ہیں۔ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ بہت سے بچے پڑھائی میں انفرادی توجہ چاہتے ہیںاور کسی کی رہنمائی ملنے سے وہ بہت اچھے نتائج دکھاسکتے ہیں۔یوں طالب علم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی کلاس سے بہت آگے نکل جاتے ہیں۔امریکہ کے ان خدائی خدمت گارریٹائرڈلوگوںکا کہنا ہے کہ اس پڑھانے کے عمل میں جو وہ دیتے ہیں اس سے کہیں زیادہ وہ پارہے ہوتے ہیں۔ان کے بقول ایسا کرکے انہیں بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے ان کا دماغ ہر وقت مصروف رہتا ہے اور بچوں کوپڑھانے آنے جانے سے جسمانی ورزش بھی ہوتی ہے۔ امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے” بزرگ اور صحت ” کے شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بزرگ لوگوں کو اس طرح کی کوشش کرنے سے ان کے دماغ کا اگلا حصہ متحرک رہتا ہے اور یوں بڑھاپے میں یاداشت کی خرابی یا الزائمر جیسا مرض نہیں ہوتا۔
ڈاکڑوں کا کہنا ہے کہ ہم بڑی عمر کے لوگوں کو کڑوی دوا کھانے کو نہیں کہہ رہے بلکہ اپنی خوبیوں کو شیئر کرنے کا کہتے ہیں جس سے دوہرا فائدہ ہوتا ہے طالب علموں کو انکی پڑھائی میں مدد ملتی ہے اور بزرگوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اب بے کارپرزہ نہیں ہیں بلکہ معاشرے کو ابھی بھی ان کی ضرورت ہے۔طبی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ جب انسان کو دلی خوشی مل رہی ہوتو وہ بہت سے ٹینشنوں سے بچ کر صحت مند رہ سکتاہے۔
اب ضروری نہیں کہ ہر کوئی بچوں کو پڑھانے کا کا م ہی کرے معاشرہ میں مثبت حصہ ڈالنے کے اور بھی کئی کام ہوسکتے ہیں یہ سب ہر بندے نے خود سوچنا ہے کہ وہ کیا اچھا کرسکتاہے جس سے اس کی توانائیاں زیادہ ضائع بھی نہ ہوں اور وہ مصروف بھی رہیں کیونکہ زیادہ توانائی ضائع ہونے سے بھی کمزوری ہوسکتی ہے اور کمزور انسان پر کوئی بھی بیماری بڑی جلدی اثر کرسکتی ہے آپ نے کام بھی کرنا ہے لیکن اپنی صحت کو دیکھتے ہوئے کہ مصروف بھی رہیں لیکن تھکیں بھی نہیں۔ میں اپنے اس کالم کے ذریعے اپنے تمام بزرگ لوگوں کو رائے دوں گا کہ وہ بھی اس کارخیرمیں حصہ لے کر اپنے وقت کا اچھا مصرف نکالیں اس سے ان کی صحت بحال رہے گی اور ہمارے معاشرہ کی اصلاح کا کام بھی چلتارہے گا۔
٭٭٭