Mushtaq shabab

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

معلوم نہیں اس موقع پراس سردار جی کا یاد آنا بنتا ہے یا نہیں جو سخت سردی اور بارش میں ایک بلی کو زبردستی پکڑ کر نہلا رہے تھے’ اور ایک عقلمند آدمی نے انہیں یہ کہہ کر منع کیا کہ اتنی شدید سردی اور بارش میں ٹھنڈے یخ پانی سے بلی نہلانے سے مر جائے گی۔وہ شخص یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا مگر سردار جی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ‘ آدھ پونے گھنٹے بعد وہ مشورہ دینے والا واپس وہاں سے گزرا تو بلی مری ہوئی پڑی تھی ‘ اس نے سردار جی سے کہا میں نہ کہتا تھا کہ نہلانے سے بلی مر جائے گی ‘ سردار جی نے کہا ‘ بلی نہلانے سے تو نہیں مری ‘ نچوڑنے سے مری ہے ‘ کالم کے آغاز ہی میں ہم نے گزارش کی تھی کہ جس حوالے سے ہم آج کا کالم باندھ رہے ہیں اس کا تعلق اس لطیفے سے بنتا ہے یا نہیں ‘ تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ اگر سو فیصد نہیں تو کسی نہ کسی حد تک ضرور یہ لطیفہ موضوع پر پورا اترنے کی ”صلاحیت” ضرور رکھتا ہے اور وہ جو وفاقی وزیر مذہبی امور نے فرمایا ہے کہ حج مہنگا نہیں کیا ‘ دیگر اخراجات بڑھے ‘ اس پر وہ مصرعہ بھی یاد آرہا ہے کہ تری ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں ‘ یعنی بلی مری تو ضرور چاہے نہلانے سے یا پھر نچوڑنے سے ‘ اس سے کیا فرق پڑا۔ آج جس طرح ہوائی جہازوں میں اکانومی کلاس ‘ بزنس کلاس یا فرسٹ کلاس ہوتے ہیں اور ان کے کرایوں میں فرق ہوتا ہے اسی طرح بحری جہازوں میں غریب غربے عام لوگ”عرشے” پر کم رقم ادا کرکے سفر کرتے تھے جبکہ سیکنڈ کلاس ‘ فرسٹ کلاس کے حجاج کرام کو جوسہولیات حاصل ہوتیں وہ عرشے پر سفر کرنے والوں کو نصیب نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ اگر سمندر میں دوران سفر موسمی حالات خراب ہو جاتے بارش ‘ طوفان وغیرہ آتے تو عرشے پر سفر کرنے والوں کو مشکلات درپیش ہوتیں یہ وہ دور تھا جب عرب اور خلیجی ممالک میں ابھی تیل کے ذخائر دریافت نہیں ہوئے تھے اور وہاں دولت کی ریل پیل نہیں بلکہ ہم سے زیادہ غربت ہوا کرتی تھی ‘ جدہ سے مکہ مکرمہ اور وہاں سے مدینہ منورہ عام طور پر کٹھارہ قسم کی بسوں ‘ اونٹوں وغیرہ یا پھر جولوگ بہت ہی غریب ہوتے وہ ان قافلوں کے ساتھ سفر کرتے اور مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں ازکار رفتہ سرائوں میں قیام پذیر ہوتے ‘ ہم نے اپنے بچپن اور لڑکپن کے ابتدائی ایام میں اپنے خاندان کے بزرگوں سے سفر حج کے جو قصے سن رکھے ہیں وہ اب تک ہماری یادداشت میں محفوظ ہیں ‘ اس دور میں کفیل نام کا کوئی ذکر نہیں ملتا بلکہ جو لوگ قافلوں کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرتے تھے ان کو ”معلم” کہا جاتا تھا ‘ ہمارے خاندان کے بزرگوں کا جس معلم کے ساتھ عرصہ دراز تک واسطہ رہا ان کا نام امیر یحییٰ تھا ‘ ان کے ساتھ ان کے اہل خاندان کے افراد جدہ سے ہی قافلے لیکر پہلے مکہ مکرمہ پہنچاتے ‘ جہاں کے سرائے ہوتے جن میں ان کی خواتین حجاج کرام کے کھانے پینے کا بندوبست کرتیں ‘ اور اگر کوئی چاہتا تو خود اپنی مرضی سے بھی کھانے کا اہتمام کر لیتا ۔ اس دور میں حج پر عموماً ڈھائی سے تین ماہ کا عرصہ لگتا ‘ جیسا کہ اوپر کی سطور میں گزارش کی ہے ‘ اس زمانے میں حجاز مقدا میں بھی انتہائی غربت تھی اور حج کے قافلوں کی رہنمائی کرنے والے معلمین اگلے حج سیزن کے لئے پہلے ہی آکر سفر حج پر جان والے خواہشمندوں کو بطور معلم حج فارم میں اپنا نام لکھنے کی درخواست بھی کرتے اور زکواة بھی اکٹھا کرتے کیونکہ حج سیزن ہی ان کے لئے ذریعہ آمدنی کا واحد موقع ہوتا ‘ یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ‘ پھر حالات بدل گئے اور تیل نکلے آنے کے بعد اس وقت وہاں دولت کی جو ریل پیل ہے وہ سب پر عیاں ہے ‘ حج کرانے والوں کی لاتعدادکمپنیاں قائم ہو چکی ہیں ‘ جن کے مالکان کو کفیل کہتے ہیں ‘ ان میں سے اکثر کے اپنے چھوٹے بڑے ہوٹل ‘ ٹرانسپورٹ کے لئے ہرقسم کی گاڑیاں وغیرہ ‘ غرض ہر سہولت میسر ہے ‘ امیر یحییٰ تو اب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں ‘ ان کی سرائے مکہ معظمہ کے محلہ جیاد میں تھی ‘ مگر اب ان کی اولاد یقیناً اربوں کھربوں میں کھیل رہی ہو گی ۔ یہ اتنی باتیں یوں بھی یاد آئیں کہ معلوم نہیں یہ جو وزیر موصوف نے حج کے اخراجات کم کرنے کے لئے بحری جہازوں سے دوبارہ رجوع کرنے کی بات کی ہے تو ہوائی سفر اور بحری سفر کے اخراجات میں کتنا فرق ہو گا اور کیا اس سے غریب عوام کو بچت ہو گی بھی یا نہیں ‘ اگر دونوں اسفار کے درمیان نمایاں فرق ہو گا تو ممکن ہے کہ لوگ ہوائی سفر کے بجائے بحری سفر اختیار کرنے پر راضی ہوں ‘ مگر بحری جہاز تو صرف کراچی سے ہی چل سکتے ہیں اور وہاں تک پہنچنے کے لئے دیگر شہروں سے بذریعہ ریل یا بس کراچی پہنچنے اور وہاں اپنے شیڈول ڈیٹ کا انتظار کرنے کے لئے ہوٹلوں میں قیام و طعام پر جو مزید اخراجات اٹھیں گے اگر انہیں بھی اخراجات میں شامل کیا جائے تو پھر کیا صورت ہو گی۔ ‘ یعنی بجلی گیس کی قیمت تو کم ہے مگر ان بلوں پر دیگر مدات میں ڈالے جانے والے لاتعداد ٹیکسوں کی وجہ سے یہ بل ناقابل برداشت ہو جاتے ہیں جیسے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس ‘ کرایہ میٹر ‘ سروس رینٹ ‘ انکم ٹیکس ‘ ڈیوٹی ‘ جنرل سیلز ٹیکس اور سونے پر سہاگہ اب ایک خاص مقدار میں خرچ شدہ یونٹس پر درجہ بدرجہ پانچ ہزار اور دس ہزار کا اضافی انکم ٹیکس کا تازہ بوجھ ‘ یوں اصل یونٹ کی قیمت انتہائی کم جبکہ مختلف النوع ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی رقم کہیں زیادہ ‘ اس لئے حج جیسے مقدس سفر میں بھی”دیگر اخراجات” کی بڑھوتری سے حج کے خواہشمندوں پر جو ا ضافی بوجھ ڈالا جائے گا اس سے غریب لوگ کہاں عہدہ برآ ہو سکیں گے ۔ یعنی بقول شاعر
اس میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا