Shazray

حزب اختلاف ‘ مذاکرات اور حکومتی سنجیدگی

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے انتخابی اصلاحات پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکو اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کی ذمہ داری سونپنا سنجیدہ عمل ہے اہم ٹاسک کے تحت سپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی رہنماں سے انتخابی اصلاحات پر ان کی تجاویز طلب کریں گے، جبکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق تجاویز پر بات چیت ہوگی۔ذرائع نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز کو انتخابی اصلاحات پیکج کا حصہ بنایا جائیگا،سپیکرقومی اسمبلی نیب قوانین ترامیم پر بھی اپوزیشن سے مشاورت کریں گے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپوزیشن جماعتوں کی اتفاق رائے سے انتخابی اصلاحات چاہتے ہیںجو مثبت عندیہ ہے حکومت اور حزب ا ختلاف کی جماعتوں کے درمیان اختلافات جس نہج پر ہیں اس میں بہتری لانے کا واحد طریقہ روابط میں اضافہ اور حزب اختلاف کی معروضات پر توجہ اور مذاکرات ہیں لیکن اس کے برعکس حزب ا ختلاف کو مطعون کرنے کی پالیسی رہی جس میں اب تبدیلی کا عندیہ تو ملتا ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ سپیکر کوایک جانب ذمہ داری سونپ کردوسری جانب وزراء کے توپوں کے دہانے حزب ا ختلاف کی طرف کھولنے کا ہو جس سے سارا ماحول مکدر ہو جاتا ہے اس مرتبہ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگانے کے لئے یہ دیکھنا ہو گا کہ حکومت اگر سنجیدہ مذاکرات کی خواہاں ہے تو پھر اسے ماضی کے کردار پر نظرثانی کرنا ہو گی اور ثابت کرنا ہو گا کہ حکومت کی دعوت دکھاوااور سیاسی چال نہیں بلکہ حکومت حقیقی معنوں میں نتیجہ خیزمذاکرات کی خواہاں ہے۔
صحت سہولت پروگرام کا تھرڈ پارٹی آڈٹ
صوبائی حکومت کی جانب صحت سہولت پروگرام کے مالی حسابات کا تھرڈپارٹی آڈٹ شکوک وشبہات کے ازالے بارے اہم قدم ہو گا امر واقع یہ ہے کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت صحت انصاف کارڈ پر نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں لوگوں کو مفت علاج کی سہولت کیلئے اب تک سالانہ8ارب روپے سے12ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جبکہ اب پریمیم میں اضافہ اور پروگرام کا دائرہ کار تمام آبادی تک بڑھانے کے بعد اس حوالے سے18ارب روپے مختص کئے گئے ہیںجو ایک خطیر رقم ہے بلاشبہ عوام کو صحت کی مفت سہولت فراہمی بارے یہ احسن پروگرام ہے اس پروگرام کے حوالے سے تحفظات کا اظہار فطری امر ہے جاری نظام میں شفافیت کوجانچنا خود صوبائی حکومت کی ساکھ کا تقاضا ہے تھرڈ پارٹی آڈٹ سے مبینہ بدعنوانیوں کا کھوج لگے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور اگر حسابات شفاف نکلے تو حکومت اور عوام کی تسلی ہو جائے گی۔
جعلی و غیر معیاری ادویات کی بھرمار
خیبر پختونخوا میں جعلی غیر معیاری اور سمگلنگ کی ادویات کا مسئلہ عرصہ دراز سے لاینحل ہے ہمارے نمائندے کے مطابق تیمر گرہ میں میڈیسن کا غیر قانونی کار وبار عروج پر پہنچ گیا ہے بیشتر ادویات فروشوں کے پاس لائسنس بھی موجود نہیںغیر قانونی میڈیسن سٹوروں کی بھر مار پر متعلقہ حکام خاموش تماشائی بن بیٹھے ہیں تیمرگرہ میڈیسن مارکیٹ ملاکنڈ ڈویژن کی سب سے بڑی مارکیٹ ہیجس کے بارے میں ہمارے نمائندے کی تفصیلی رپورٹ چشم کشا اور فوری نوٹس لیکر کارروائی کا مقتاضی ہے مفصل رپورٹ میں جن امور کی نشاندہی کی گئی ہے اس پر مزید تبصرے کی گنجائش نہیں بہتر ہو گا کہ متعلقہ حکام جتنا جلد اس حوالے سے عملی قدم اٹھائیں۔دوسری جانب صوبے میں اتائیوںاورجعلی اور غیر معیاری ادویات کی بھرمار ہی نہیں بلکہ ادویات کی قیمتوں میں آئے روز بے تحاشا ا ضافہ بھی بڑا مسئلہ ہے اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جعلی ادویات اصلی ادویات کے داموں عوام کو خریدنی پڑتی ہیں مگرمحکمہ صحت اور دیگر متعلقہ حکام کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی حکومت ان سے سختی سے استفسار کرتی ہے کہ عوام کی شکایات اور میڈیا کی نشاندہی کے باوجود اس صورتحال کا نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا اور اس کے تدارک کی ذمہ داری پوری کیوں نہیں کی جاتی۔توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی حکومت اس کا سختی سے نوٹس لے گی جس کے نتیجے میں جلد ہی اتائیوں کے خلاف خصوصی مہم شروع کی جائے گی اور جعلی اور غیر معیاری ادویات کی فروخت کرنے والی مارکیٹیں اور دکانیں سیل کی جائیں گی۔