Mashriqyat

مشرقیات

دل تو چاہتا ہے کہ آپ کو پنڈورا بکس بارے بتائیں کہ آخر یہ اصطلاح کہا ں سے آئی اور آج پنڈورا لیکس تک کیسے پہنچی تاہم ادھر کوتوال شہر کو لوگ دہائی دے رہے کہ شہر یا ر پشاور میں ان کی جان ومال اور عزت وناموس لٹیروں کے رحم وکرم پر ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ عزت وناموس ہو یا شہریوں کی جان ومال اسے سرعام نیلام کرنے والوں میں کوتوال کی فوج ظفرموج ہی نون غنے کا سرغنہ ہے۔اب بات حد سے نکل چکی ہے عزت وناموس پر مر مٹنے کو تیار لوگوں کے اس خطے میںکہیں تھانے داروں کو گریبان سے پکڑنے کی نوبت آگئی تو پھر کوتوال صاحب مت کہئے گا کہ کسی نے خبردار ہی نہیں کیا تھا۔
کیا آپ نہیں جانتے کہ شہر بھر میں کہیں بھی موبائل نقدی چھیننے کی واردات ہو پولیس ایسے ویسوںکی رپورٹ درج ہی نہیں کرتی ،آپ کا خیال ہے ایسا افسران بالا کی بازپرس کے خوف کی وجہ سے کیا جاتا ہے تو پھر آپ احمقوں کی جنت سے ادھر کیسے آگئے۔رپورٹ درج نہ کرنے کی سادہ سی وجہ جو سب کو سمجھ آتی ہے ان راہزنوںاور لٹیروں کاتحفظ ہے جو مختلف تھانوں کے چھوٹے موٹے اہلکاروں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے لئے شہر میں جگہ جگہ ناکے لگا کر شہریوں کو موبائل او رنقدی سے محروم کر کے گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔لٹنے والوں میں کوئی بارسوخ ہو تو پولیس اپنے بندے کو معہ لوٹ مال کے حاضر جناب کرکے بیچ میں مصالحتی جرگوں کو ڈال کر معاملہ رفع دفع کر دیتی ہے۔بارسوخ سے ذرا کم درجے کے شہریوں کوزیادہ شورمچانے کی وجہ سے لوٹے گئے موبائل یا قیمتی چیزوں کا تیس فیصد حصہ تھانوں میں ہی واپس کرنے کا غیر تحریری قانون نافذ ہے۔رہے ہما شما یعنی غریب غربا توان کے لئے شکایت کے بدلے میں سوجوتوں کے ساتھ سوپیا ز تیار ہوتے ہیں۔ویسے آپس کی بات ہے ہم بھی ایک تھانے گئے تھے راہزن کو دعا دینے ،بدلے میں تیس فیصد کی آفر یعنی چور کی لنگوٹی قبول نہیں کی تو وہ راہزن آج تک نہیں پکڑا گیا تھا جو موبائل چھین کر پولیس کے ذریعے ہم سے ڈیلنگ کر تا رہا۔تو جناب کوتوال صاحب !لٹیروں کو کھلی چھوٹ دینے والوںکے خلاف کریک ڈائون کب کر رہے ہیں؟
راہزنیاں عام ہیں۔چوری چکاری ،جیب تراشی،منشیات وجسم فروشی سمیت دو نمبر کا کام کرنے والے آپ کی ناک کے نیچے پرورش پا رہے ہیں۔اب تو کھل کر عزتوں پر بھی ہاتھ ڈالنے والے تھانوں کے ارد گرد گھوم پھر رہے ہیں۔چلیں شاہ پور سے اغوا ہونے والی بچی کو بازیاب کرا ئیں اور پوچھیں اپنے ماتحتوں سے کہ دو ہفتے میں بچی کا سراغ لگانے کے لئے کیا ٹامک ٹوئیاں ماری گئیں؟