بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں

دنیا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، یہ خطرنک وائرس کئی ہزار انسانوں کی جان لے چکا ہے، اب تک جن ملکوں کے نام سامنے نہیں آئے تھے وہ بھی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں، مثلاً قازقستان، آرمینیا، ارچینل آئی لینڈ سے بھی ایک ایک ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ چین کے شہر بیلج میں مزید ہلاکتوں کے بعد چینی حکومت نے غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، چین میں اب تک کرونا وائرس سے متاثر افراد کی کل تعداد81040 اور اموات3292 ہے جبکہ امریکا میں کرونا سے متاثرین کی تعداد چین سے زیادہ ہے اور سب سے زیادہ مریض امریکا میں سامنے آئے ہیں جہاں کرونا متاثرین کی کل تعداد 93329 اور اموات 3379 ہو گئی ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد سب سے زیادہ امریکا میں ہیں اور اس وباء سے اموات کے معاملے میں اٹلی سب سے آگے ہے، اٹلی میں کرونا وائرس کی کل تعداد86498 بتائی جاتی ہے اور اموات 9134 رپورٹ کی گئی ہیں، یومیہ ہلاکتوں کے حساب سے اسپین سب سے آگے ہے جہاں چوبیس گھنٹوں میں 569متاثرین مزید ہلاک ہوئے ہیں، زیرعلاج مریضوں کی تعداد 65000 ہے جبکہ 7000مریض صحت یاب ہوگئے ہیں، ایران جہاں سے کرونا پاکستان میں داخل ہوا وہاں اموات کی مجموعی تعداد2926 ہوگئی ہے، زیرعلاج مریضوں کی تعداد 32300 ہے، ساڑھے دس ہزار مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ایک عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ایران میں کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرس کے علاج اور بچاؤ کیلئے ٹوٹکوں اور افواہو ں کا بازار اسی طرح گرم ہے جس طرح پاکستان میں سلسلہ جاری ہے اور پاکستانی عوام کی طرح خوفزدہ ایرانی عوام بھی کسی تصدیق کے بغیر ان پر عمل پیرا ہیں، ایسے ہی ایک ٹوٹکے پر عمل کرتے ہوئے سینکڑوں افراد نے زہریلا مادہ میتھانول پی لیا، ایک ایرانی ڈاکٹر نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ میتھانول پینے کی وجہ سے تین سو اموات ہوئی ہیں جبکہ چند ماہ کے دوران ٹوٹکوں پر عمل کرنے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد چارسو اسی ہوگئی ہے، دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے جو صورتحال ہے اس کے متاثرین میں پاکستان بھی بری طرح پھنسا ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ حکومت کی غیرذمہ داری قرار دی جا رہی ہے، دنیا میں سب سے پہلے چین کو کرونا وائرس کی وباء نے دبوچا جس کے بارے میں مغربی میڈیا نے یہ تاثر دینے کی سعی لاحاصل کی چونکہ چینی کتے، بلیاں، چوہے وغیرہ کھاتے ہیں جس سے وہ اس وباء کا شکار ہوئے ہیں اس طرح دنیا کو خاص طور پر مسلم ممالک کو اس جھانسے میں رکھنے کی کوشش کی گئی کہ کرونا وائرس کا سبب جو خوراک ہے وہ اسلامی دنیا میں استعمال نہیں ہوتی اس لئے ان کو گھبرانے یا خدشے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب سے وباء نے امریکا اور مغربی دنیا کا رخ کیا تو اس بات کا بھی پول کھل گیا کہ یہ وائرس کیسے تیار ہوا کہاں رجسٹرڈ ہوا، چین کیسے پہنچایا گیا، اس وائرس کے چینی موجد کو کیوں روپوش کیا گیا، بہانہ اس کی گرفتاری کا کیا گیا یہ سب سامنے آگیا ہے اور اس میں بری طرح صیہونیوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی عیاں ہو چکے ہیں، لیکن اس وقت مسئلہ پاکستانیوں کیلئے اہم یہ ہے کہ پاکستان میں اس وباء کی آمد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ واضح ہے کہ یہ ایران سے وارد ہوا بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ وارد کیا گیا۔ وارد کرنے والے کون تھے اس میں ایک نام پہلے سے متنازعہ شخصیت زلفی بخاری کا آرہا ہے،اب ان پر مبینہ طور پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ایران سے آنے والے پاکستانی زائرین جن کیساتھ ان کی جذباتی وابستگی ہے کو سرحد پارکرانے میں بغیر اس تخصیص کے کہ ان میں وائرس سے متاثر افراد کی تعداد بھی شامل ہوسکتی ہے اور یوں یہ وائرس پاکستان میں آکر پھیل گیا، چونکہ سرحدوں میں داخلے یا آمد ورفت کی ذمہ داری وزارت داخلہ کی ہوتی ہے وہ بھی ملوث قرار پاتی ہے، تیسری سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کی اس وباء کی طرف توجہ دینے میں تاخیر سے کام لینا ہے، وزیراعظم عمر ان خان کی حکومت کے بارے میںعمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ان کی ٹیم ناکامی سے دوچار رہتی ہے جس کے بارے میں ممتاز دانشور قلقلا خان صافی کا کہنا ہے کہ جیسی سرکار ویسا ہی دربار، اس سرکار اور دربار کے بارے میں گزشتہ دنوں پاکستان کے سینئر صحافیوں نے وزیراعظم موصوف کی ایک پریس کانفرنس میں سوال اُٹھائے تھے جس کے بعد سے پی ٹی آئی کے حواریوں کے روئیے میں ایسی تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے کہ جیسے سب نے مرچیں چبا رکھی ہوں، خیر یہ الگ معاملہ ہے، اب مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں وباء کی آمد کا باعث ہونے کے بارے میں تحقیق ہونی چاہئے، ساتھ ہی حفاظتی اقدامات میں ہونے والی تاخیر کی بھی خیرخبر لی جائے جس کے جواب میں ممتاز دانشور ارسلاخان المعروف قلقلا خان فرماتے ہیں کہ وزیرے چنیں شہر یارے چناں، آٹا چینی کے بحرانوں کے بارے میں بھی ارشاد ہوا تھا کہ آٹا چینی کا بحران پیدا کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا مگر وہ ابھی تک لاپتہ ہیں، سرکار ان کے چہروں سے ہنوز ناآشنا ہے جبکہ عوامی حلقے نشاندہی کرتے کرتے تھک چکے ہیں کسی کی گرفت نہیں ہوئی، اب ایک مرتبہ پھرآٹا مہنگا ہوگیا، کیوں ہوا ہے یہ نہ چھوڑنے والی سرکار جان سکتی ہے، یہاں تو یہ حالت ہے کہ اس بات پر بھی اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے کہ مسجد میں نماز کا اجتماع ہو یا نہ ہو۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ مسجد میں صرف فرض رکعتیں ادا کی جائیں باقی گھر کو جا کر ادا کی جائیں لیکن کوئی یہ واضح نہیں کر رہا ہے کہ جب مقتدی فرض نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد آئے تو پھر باقی رکعتوں کی مسجد میں ادائیگی میں کیا عذر رہتا ہے، ہر ایک نے اپنی اپنی مرضی کا رخ کیا ہوا ہے، کوئی ٹوٹکوں کے پیچھے لگ گیا ہے تو کسی ادارے نے کرونا کی طرف اپنی توپوں کا رخ کرلیا ہے، کوئی دم درود پر رخ جمائے ہے تو کوئی عالمی فنڈ پر نظر گاڑے ہے عوام چاروں سو چکرا گئی ہے۔