Government debt increased by 11.5% to exceed Rs 39,000 billion

حکومتی قرض 11.5 فیصد بڑھ کر 39 ہزار ارب سے متجاوز

ویب ڈیسک (اسلام آباد) مرکزی حکومت کے کل قرضوں میں اگست 2020 سے رواں برس اگست کے ماہ تک 11.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ جبکہ بیرونی قرض (روپے کے لحاظ سے 22-2021 )کے پہلے دو ماہ میں 8 فیصد تک بڑھا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حکومت کے کل قرضوں کے بارے میں تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بیرونی قرضوں میں بھی ایک سال کے عرصے میں 1300 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ مقامی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہے۔

تاہم مرکزی حکومت کے گھریلو قرضے میں جولائی سے اگست کی مدت میں 70 ارب روپےکا اضافہ ہوا جبکہ گھریلو قرضہ جون میں 26 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر اگست میں 26 ہزار 335 ارب روپے تک ہوگیا۔

10 ماہ میں پہلی مرتبہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ مرکزی حکومت کے کل قرضے اگست میں 99 ارب روپے یعنی 0.2 فیصد کم ہوئے ہیں۔حکومت کے کل قرضوں میں ایک برس کے دوران 41 کھرب 11 ارب روپے کا اضافہ ہوا کیونکہ یہ اگست میں 39 ہزار 771 ارب روپے تک پہنچ گیاتھا جبکہ اگست 2020 میں یہ 35 ہزار 659 ارب روپے تھا۔

حکومت کی جانب سے جارحانہ قرضوں کے ساتھ بیرونی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کی ایک اہم وجہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری ہے۔ڈالر کے مقابلے میں 7 مئی سے روپے کی قدر 11.5 فیصد سے زیادہ گر گئی ہے۔بیرونی قرض اگست 2020 میں 12 ہزار 123 ارب روپے تھا تاہم اگست میں یہ 10.8 فیصد بڑھ کر 13 ہزار 436 ارب روپے ہوگیا یعنی اس میں 13 کھرب 13 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

حکومت پاکستان انویسٹمنٹ بانڈزکے ذریعے قرض لے رہی ہے تاہم گزشتہ دو ماہ کے دوران اس میں 464 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔