پنڈورا پیپرز اور سکینڈلوں کا ”بلیک ہول ”

پاکستان ابھی تک پانامہ لیکس کی عالمی سطح پر لگنے والی آگ کے شعلوں کی تپش اور اثرات کی زد میں ہے ۔پانامہ لیکس پاکستانی سیاست میں ایک سونامی کا باعث بنی تھی کیونکہ اس انکشاف انگیز رپورٹ میں بالواسطہ طور پر اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم میاں نوازشریف کا نام سامنے آیا تھا ۔لندن اثاثوں کی تحقیقات کے نام پر ایک ایسا پنڈورہ باکس کھل گیا تھا جس کی بلاؤں کو پھر دوبارصندوق میں بند نہ کیا جا سکا۔وزیر اعظم کا دامن ان کانٹوں میں ایسا الجھا کہ چھڑاتے چھڑاتے ان کو عہدے سے فارغ ہو نا پڑا اور اس کے بعد ملکی سیاست میں کشیدگی اور کشمکش میں غیر معمولی اضافہ ہوتا چلا گیا ۔پانامہ لیکس دنیا میں کئی حکومتوں کے اُلٹ جانے کا باعث بنا ۔یہ دنیا کے بااثر افراد کی پوشیدہ دولت کا سراغ تھا ۔یہ دولت چونکہ ظاہر نہیں کی گئی تھی اس لئے سوال اُٹھنا لازمی تھا کہ طاقتور اور بااثر لوگوں نے یہ دولت کیسے بنائی ۔ کئی سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان پانامہ لیکس کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا تھا کہ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلسٹس کی مرتب کردہ رپورٹ پنڈورہ پیپرزکے نام سے دنیا کے سامنے آئی جس میں ایک بار پوشیدہ دولت کے ٹھکانوں ،مراکز اور تجوریوں کا سراغ لگایا گیا تھا ۔رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی منظم انداز میں یہ افواہیں چلنا شروع ہو گئیں کہ پنڈورہ لیکس پانامہ لیکس سے بڑا طوفان ثابت ہو سکتی ہے اور زمان پارک کے ایک ایڈرس کی بنیاد پر اس کے ڈانڈے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ جوڑے جانے لگے ۔میاں نوازشریف نے انہی افواہوں کی بنیاد پر تیقن سے کہا کہ احتساب تو اب عمران خان کا شروع ہوگا۔ احسن اقبال نے دو قدم آگے بڑھ کر وزیر اعظم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر دیا ۔آخر کار باکس کھل گیا مگر اس میں عمران خان کی ذات کے حوالے سے کچھ بھی نہیں تھا بلکہ عمران خان شاید دنیا کے پہلے حکمران اور با اثر شخص تھے جنہوںنے ٹوئیٹ کرکے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ کی غیر قانونی دولت سامنے لانے کے عمل کو سراہتے ہیں۔منی لانڈرنگ اور ٹیکس بچانے کے آفشور کمپنیاں جنت ہیں۔ جس اعتماد کے ساتھ عمران خان نے ٹوئیٹ کیا اس نے ساری قیاس آرائیوں کوبھک سے اُڑا کر رکھ دیا ۔پنڈورہ لیکس ایک ہلکے سے زلزلے کا باعث بن گئی اور اس میں پاکستانی سیاست کے روایتی طبقہ اشرافیہ کے نام ہی سامنے آسکے ا ن میں حکومت اور اپوزیشن دونوں اطراف کے لوگ او ر کچھ سابق فوجیوں اور ان کے عزیز واقارب کے نام موجود ہیں۔آفشور کمپنیوں میں تحقیقات کا اصل موضوع اور نقطہ یہ ہے کہ جو دولت بیرونی دنیا میں موجود ہے وہ کس ذریعے سے کمائی گئی ہے اور کس ذریعے سے منتقل کی گئی ہے؟ اور اس کا حقیقی مالک کون ہے؟ ۔ چھپی ہوئی ہر دولت کا ناجائز ذریعے سے کمایا جانا لازم نہیں ہوتا ۔عمران خان نے تحقیقات کا اعلان کرکے قیاس آرائیوں کا حساب برابرکر دیا اور اس کے لئے ایک سیل کے قیام کا اعلان بھی کیامگر یہ پاکستان ہے جہاں سب سے طاقتور اور موثر اصول ”مٹی پائو” ہے۔ یہاں اول تو کسی معاملے کی تحقیقات ہی نہیں ہوتی ہو بھی جائے تو اس کا نتیجہ کچھ بھی برآمد نہیں ہوتا ۔پاکستانی سیاست اور معاشرہ سیکنڈلوں کا” بلیک ہول ”ہے جہاں واقعات کے پورے کے پورے بحری جہاز لمحوں میں غائب ہو کر اپنا نام ونشان کھو دیتے ہیں۔اس جادونگری میں تحقیقات ہوگی نہیں اور ہوگئی تو بھی کچھ نہیں ہوگا۔یوں پانامہ لیکس کی طرح پنڈروہ لیکس ملک میں کسی بڑی اتھل پتھل کی بنیاد نہ بن سکی ۔پنڈورہ لیکس میں جن طاقتور لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں اس میں کوئی خبر کوئی نیا پن نہیں ۔یہ سب ملک کے صاحب ثروت اور متمول لوگ ہیں ۔ان کے پیسہ کمانے کی کہانی کا نہ کوئی عنوان ہے اور نہ آغازو انجام ۔محمد خان جونیجو کی جمہوریت میں قانون ساز اداروں کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز ملنے پر شروع ہونے والی کرپشن کا سانپ چند برس میں اژدھا کی شکل اختیار کر چکا تھا ۔کئی سیاست دان اس اژدھا سے لڑتے لڑتے تھک کر بیٹھ گئے تھے ۔کرپشن کرنے والوں کی بجائے اس کی مخالفت کرنے والوں کو طاقتور میڈیا کی مدد سے ”نکو” اور تنہا کر دیا گیاتھا ۔ایسے میں عمران خان بھاری پتھر اٹھانے آگے بڑھے اور بھرپور مذاق اُڑا کر انہیں یہ بھاری پتھر چوم کر چھوڑ جانے پر مجبور کرنے کی منظم کوشش ہوئی مگر عمران خان کی سخت جانی نے اس کوشش کو ناکام بنایا ۔وہ کرپشن کے تصورات پر ضربیں لگاتے ،طعنوں اور تنقید کے تیر سہتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے اور ایک روز ملک کے اقتدار تک پہنچ گئے ۔اقتدار میں رہتے ہوئے بھی انہوںنے اپنا رنگ برقرار رکھا اور پنڈورہ لیکس کا طوفانی ریلا بھی انہیں چھوئے بغیر گزر گیا ۔ تاریخ عمران خان کو کامیاب منتظم قراردیتی ہے یا نہیں مگر وہ اپنی کرپشن فری شخصیت کی اس شناخت کے ساتھ یاد رکھے جائیں گے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ عمران خان اس خصوصیت میں پارٹی کے اندر تنہا تھے اور تنہا ہی رہے۔