Mashriqyat

مشرقیات

یہ دنیا شروع ہی سے کرپٹ ہے حضرت انسان کو طاقت حاصل کرنے کا اول روز سے چسکا لگا ہوا ہے اور ساتھ میں اسے استعمال کرنے کا بھی۔ہابیل قابیل کے قصے سے شروع کریں تو حال کی جنگوں پر غور کر لیں سب طاقت اور اس کے استعمال کی منہ زور خواہشیں ہی ہیں۔اسی طاقت کے لئے جب سے انسان نے اپنے زور بازو کی بجائے ذہن سے کام لینا شروع کیا تو مال ودولت کے ذریعے حریف کو چت کرنے کے منصوبے بننے شروع ہوئے۔آج کے امیر ملکوں کو دیکھ لیں۔نو آبادیاتی دور میں ان مہذب لوگوں کے آبائو اجداددنیا بھر سے لوٹ کا مال جمع کرنے کی مہم پر تھے۔فرانس ہو یا انگریز بہادر یا پھر پرتگالی و ولندیزی اپنے زرخیز ذہن کے پیداواری منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے ہر ملک کو لوٹتے رہے۔وہ جو ملکہ بنی بیٹھی ہے آج بھی 116ممالک کی دولت مشترکہ کی۔یہ لوٹ مار کی ایک لمبی داستان اپنے تاج وتخت میں رکتھی ہے۔پھر اس میں حیرت کی کیا بات کہ اپنے زیرنگیں ملکوں میں جس اشرافیہ کے ہاتھ اس نے حکومت کی زمام کار دے دی تھی وہ اب بھی پوری تابعداری اور وفاداری سے ملکہ کے دیس لوٹ مار سے حاصل خزانہ بہم پہنچا رہی ہے۔نوآبادیاتی دور کا طریقہ متروک ہوا ہے ختم نہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے امریکہ بہادر نے اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لیں اور اب وہی کام ہما شما سے لینے کی پلاننگ کی جارہی ہے۔تو جناب من!لوٹنے والے اصل کردار اب بھی ترقی یافتہ ممالک کے حکمران طبقا ت ہیں۔دنیا بھر کے وسائل پر تصرف حاصل کرنے کے چکر ہی میں بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے کبھی سرد جنگ تو کبھی گرم جنگ کی مہم جوئی شروع کر دیتی ہیں۔یہ آف شو رکمپنیاں وغیرہ کیا ہیں دنیا بھر کے وسائل کو اپنے ہاں منتقل کرنے کے آسان مگر خفیہ راستے۔ریاستوں اور ان کے اداروں سے چھپ چھپاکر کیسے دولت مند افراد اپنے کروڑوں ڈالر ادھر سے ادھر کر لیتے ہیں،چھپ چھپا کر۔۔آپ کو یقین آیا؟
کرپٹ اشرافیہ کو اس لوٹ مار کی راہ پر ڈالنے والے ترقی یافتہ ممالک اسی کرپشن کی ”بدولت” اپنے ہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہاتے ہیں۔نوآبادیاتی دور کی طرز پر لوٹ مارنیا راستہ انہوں نے ایسا تراشاہے کہ ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا اور گھر بیٹھے دسترخوان پر دنیا بھر کا مال ومتاع ان کے حضور پیش کردیا جاتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق یہ حق خدمت ادا کرنے والوں میں ہمارے ہاں کے ”مابدولتوں” کی پانچویں پوزیشن ہے۔