Arif bahar

پاکستان،ہند چین تصادم کا تماشائی یا فریق؟

چین اوربھارت کے درمیان کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے ۔ امریکہ میں چین کا گھیرائو اور اسے جنوبی چین کے سمندروں میں نیچا دکھانے کے لئے قائم اتحاد ” کواڈ ” کے پہلے باضابطہ اجلاس میں نریندر مودی کی شرکت نے چین کی بے چینی کو بڑھا دیا ہے ۔چین جنوبی چین کے سمندروں میں اپنے خلاف سرگرم بھارت کو جواب دینے کے لئے مناسب موقع اور مقام کا انتخاب کر چکا ہے ۔یہ مقام شمال کی سمت ہمالیہ کے بلند وبالا برفانی پہاڑ ہیں جہاں اسے اپنے روایتی سٹرٹیجک شراکت دار پاکستان کی عملی مدد کی امید بھی ہے ۔پاکستان پہلے ہی یہاں بھارت کے ساتھ حالت جنگ میں کھڑا ہے۔یوں تو چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا نیا دور گزشتہ برس جون سے شروع ہوا تھا جب چینی فوج نے لداخ میں مختلف محاذوں پر پیش قدمی کی تھی جو دونوں فوجوں کے درمیان خونیں تصادم میں ڈھل گئی اور اس تصادم میں بھارت کے بیس فوجی مارے گئے تھے ۔چین کا جانی نقصان اس سے بہت کم تھا۔اس کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا کہ اتراکھنڈ میں چینی فوجی گھوڑوں پر سوار ہو کر بھارت کی حدود میں داخل ہوکر کئی گھنٹے گزارنے کے بعد واپس چلے گئے ۔ کولکتہ کے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق چین مذاکرات کے نام پر محض وقت حاصل کرتا ہے اور اس دوران علاقے میں اپنی فوجی پوزیشن مستحکم بنانے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔چین نے سرحد پر اضافی فوجی کیمپ اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مزین واچ ٹاور تعمیر کئے اور اب نئی ائر بیسز کی تعمیر کا کام زور وشور سے جاری ہے ۔یہ سلسلہ لداخ ،اتراکھنڈ اور ارونا چل پردیش کی3500کلومیٹر طویل سرحد پر جاری ہے۔لداخ میں پنگانگ جھیل ،گوگرا اور گیلوان وادی تین بڑے فلش پوائنٹ ہیں یہیں پاکستان پیپلزلبریشن آرمی کی عملی مدد کرسکتا ہے۔اب بھارتی فوج کے سربراہ منوج مکنڈ نروانے نے لداخ کے دورے کے بعد اعلان کیا ہے کہ چین متنازعہ سرحد پر بڑی تعداد میں فوج جمع کررہا ہے اس تشویشناک پیش رفت کے جواب میں اسی طرح کی تعیناتی کے لئے نئی دہلی پوری طرح تیار ہے۔چین بھارت کی حقیقت کو پوری طرح سمجھتا ہے اسے اپنی سیاسی اقتصادی اور عسکری طاقت کا بخوبی اندازہ بھی ہے اور اس کا بھارت کے ساتھ بہتر موازنہ کرنے کی پوزیشن میں بھی ہے۔اس لئے چین بھارت کو اپنے لئے پہلا خطرہ نہیں سمجھتا مگر یہ زیروجب جنوب کے پانیوں میںامریکہ کے ایک کے عدد کے ساتھ ساتھ مل جاتا ہے تو دس کا عدد چین کے لئے تشویش کا باعث ضرور بنتا ہے ۔چینی فوج بھارت کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور اسے کس حد تک اپنے لئے چیلنج سمجھتی ہے اس پر” دی ڈپلومیٹ” میں ایک بھارتی محقق ادھیراج آنند نے قلم کشائی کی ہے ۔اس مضمون میں بھی یہ ثابت کیا گیا ہے کہ چینی فوج بھارت کو خطرہ نہیں سمجھتی مگر وہ بھارت امریکہ اتحاد کو حقیقی خطرہ سمجھتی ہے ۔اس کے لئے وہ ”سائنس آف ملٹری سٹریٹجی ” کے عنوان سے اکیڈمی آف ملٹری سائنس بیجنگ کی شائع کردہ ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہیں ۔کتاب میں کہا گیا ہے کہ سرد جنگ کے بعد بھارت کی فوجی سٹریٹجی یہ ہے کہ خطے میں اپنی فوجی برتری قائم کی جائے ۔اپنے اثرات کا ایک ایک دائرہ کھینچ کر چین کو اس سے باہر رکھا جائے۔2013میں شائع ہونے والی اس کتاب میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ امریکہ اور بھارت میں تعاون غیر معمولی طور پر بڑھ جائے گا ۔چینی دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت امریکی دفاعی پالیسی میں اس کی آنکھ کا کردار ادا کر سکتا ہے ۔بھارت اسلحہ خرید کر حقیقت میں امریکہ کی حمایت خرید رہا ہے۔چینی دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی پالیسی یہ ہے کہ خطے کے بڑے ملکوں کو مشتعل کیا جائے اور چھوٹے ملکوں کو دبایا جائے۔ہمسایہ ملکوں پر کی جانے والی فوجی مشقوں کا بھی یہی مقصد ہوتا ہے۔اس مضمون میں تکرار کی گئی ہے کہ چین بھارت کو اپنا بنیادی سکیورٹی چیلنج نہیں سمجھتا بلکہ وہ بھارت کے ساتھ سرحد پر امن کے قیام پر زور دیتا رہا ہے۔گزشتہ برس کی لڑائی میں بھی پیپلزلبریشن آرمی کے زیر اثر میڈیا نے اس تصادم کی خبروں کا ڈائون پلے کیا اس کے برعکس بھارتی میڈیا پوری طرح اسی تصادم کے زیر اثر رہا ۔ چین اور بھارت کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں پاکستان پر پڑنے والے امریکی دبائو کو مستقبل کی پیش بندی کہا جا سکتا ہے ۔پاکستان کو پابندیوں سے ڈرانا حقیقت میںکسی ممکنہ ہند چین تصادم میں اسے چین کے ساتھ کھڑا ہونے اور فریق بننے سے روکنا ہے ۔1962کی ہند چین جنگ میں امریکہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کا جھانسہ دے کر یہ کھیل کھیل چکاہے ۔ امریکہ نے حیلوں بہانوں سے پاکستان کو چواین لائی کی پیشکش سے فائدہ نہیں اُٹھانے دیا ۔جو جنگ پاکستان 1962میں مفت لڑ سکتا تھا وہ جنگ اس قدر ناگزیر ٹھہری کہ محض تین سال بعد 1965میں اپنے وسائل اور تنہا زور بازو سے لڑنا پڑی اور حاصل بھی کچھ نہ ہوا۔اس بار پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اب چین بھارت جنگ میں پاکستان کو فطری فریق اور حلیف سے دوبارہ تماشائی کی سطح پر لے جانا وقت کے دھارے کو موڑنے کی کوشش ہے مگر پاکستان میں کچھ عجب نہیں ہوتا۔