سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا

ڈرامے بازیاں ہماری سیاست کا جزو لاینفک ہے اور جہاں تک ڈاکٹر (بعض لوگ اس کی ڈاکٹری کو بھی ڈرامہ بلکہ فیک قرار دیتے ہیں) عامر لیاقت حسین کا تعلق ہے یہ تو سراپا ڈراما ہے اور مختلف اوقات میں اس کی ڈرامے بازی کو اہل پاکستان دیکھتے رہے ہیں ‘ موصوف نے تازہ ڈرامہ یہ کھیلا ہے کہ ایک بار پھر قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے کر اپنے مختصر بیان(ٹویٹ) میں کہا ہے کہ استعفیٰ ارسال کر دیا ہے ‘ اب ا للہ عمران خان اور تحریک ا نصاف کا حامی و ناصر ہو ‘ اس سے پہلے بھی ایک بار موصوف نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو ارسال کرنے کا ڈرامہ رچایا تھا ‘ وہ ڈرامہ اس لئے تھا کہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ استعفیٰ وزیر اعظم یا صدر مملکت وغیرہ کو نہیں بلکہ سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجا جاتا ہے جوایک مہینے کے اندر اندر ہی اس پر کارروائی کرنے کا پابند ہوتاہے اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو محولہ استعفیٰ از خود الیکشن کمیشن کو منتقل ہوجاتا ہے جہاں سے متعلقہ ممبر کی رکنیت کے خاتمے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوجاتا ہے ‘ چنانچہ ہوا یہ تھا کہ موصوف کے وزیر اعظم کوبھیجے جانے والے استعفیٰ کے ڈرامے کا ڈراپ سین وزیر اعظم سے ملاقات اور مبینہ طور پر ”معاملات” طے ہوجانے کے بعد تب وہ استعفیٰ واپس ہو گیا تھا ‘ ممکن ہے موصوف کو کہیں سے اشارہ ملنے کے بعد اسی تنخواہ پر کام کرنے پر آمادہ ہونا پڑا ہو ‘ بہرحال ”معاملہ” حسن و خوبی سے طے پا گیا تھا اور تب سے اب تک ڈاکٹر(؟)صاحب کو حکومت سے کوئی شکایت نہیں رہی تھی ‘ حالات نارمل انداز میں چل رہے تھے کہ اب اچانک ایک بار پھر موصوف کی رگ ڈرامہ بازی ایک بار پھر پھڑک اٹھی اور انہوں نے باردگر اپنا استعفیٰ لکھ کر بھیج دیا ہے مگر اب کی بار (سابق طریقہ واردات کی شرمندگی سے بچنے کے لئے) انہوں نے اپنا استعفیٰ سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجا ہے ‘ گویا انہوں نے واقعی کشتیاں جلا ڈالی ہیں(ممکن ہے بقول بعض واقعان حال یہ بھی کسی اشارے پر کیا ہو ‘ (واللہ اعلم بالصواب) چونکہ اب کی بار استعفیٰ سپیکر کے پاس بھیجا گیا ہے اس لئے اب دیکھتے ہیں جہاں”یوٹرن” کی کوئی گنجائش اصولی طور پر تو نہیں ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایک پتلی گلی نون لیگ کے دور حکومت میں اس دور کے سپیکر سردار ایاز صادق نے ”تنگ گلی” میں سے یوں نکال لی تھی کہ جب تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے اجتماعی طور پر استعفے دیئے تھے تو سردار ایاز صادق نے ان کو منظور کرکے الیکشن کمیشن کو بھیجنے کے بجائے اراکین سے ان کی تصدیق کی پخ لگاتے ہوئے ذاتی طور پر پیش ہو کر انہیں یقین دہانی کرانے کی شرط عاید کر دی ‘ جو نہ تو آئین میں کہیں درج ہے نہ قانون کہتا ہے ‘ اس لئے اب کی بار اسی کلئے کو آزماتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کو بھی”یوٹرن” لینے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں ‘ تاہم یہ تو آنے والے دنوں میں معلوم ہو سکے گا کہ صورتحال کیا موڑ مڑتی ہے ‘ یعنی تنگ گلی میں بھی پتلی گلی نکالی جاتی ہے ‘ یا پھر ٹائیں ٹائیں فش اور استعفیٰ منظور کرکے بقول افتخار عارف
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہو گا
تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا ‘ کب تماشا ختم ہو گا
ڈاکٹر صاحب موصوف کے حوالے سے تادم تحریر کسی یوٹرن کی خبر نہیں آئی یعنی ابھی تک ان کے استعفیٰ واپس لینے ‘ سپیکر قومی اسمبلی کے ان کو بلا کر استعفے کی تصدیق وغیرہ کے بارے میں کیا پرنٹ اور کیا الیکٹرانک میڈیا مکمل خاموش ہے ‘ نہ ہی کسی وزیر مشیر کی جانب سے ان کو اپنا استعفیٰ واپس لینے کے مشورے پر مبنی کوئی بیان سامنے آیا ہے ‘ گویا جو تیر کمان سے نکل چکا ہے اس کی واپسی کے امکانات بھی معدوم ہو چکے ہیں ‘ تاہم یہ سیاست ہے اور اس کی کونسی کل سیدھی ہے اس بارے میں بھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ‘ البتہ چند برس پہلے جب موصوف اپنی پرانی جماعت یعنی ایم کیو ایم کے کوٹے پر مشرف حکومت میں وزیر مملکت تھے تو تب”بھائی” کے حکم پر بلا چون وچرا انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا ‘ کیونکہ ان دنوں”بھائی” کا طوطی بول رہا تھا اور ان کے حکم سے سرتابی کا مطلب کچھ اور ہوتا تھا ‘ جیسا کہ انہوں نے(بھائی) نے ایک بار جوش خطابت میں ایک”ادارے” کے کچھ لوگوں کو تڑی لگاتے ہوئے”ترنگ میں آکر” یہ تک کہہ دیا تھا کہ اگر ان کے ساتھ پنگا لیا تو پھر”تم جو ہو ‘ تو تم ہو نہیں ‘ تم تھے ہو جائو گے”۔
اب ظاہر ہے ان دنوں کراچی میں بھائی کے اشارے پر جو کچھ ہو رہا تھا اس کا مطلب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے زیادہ کون جان سکتا تھا اور وہ ”ہو سے تھے” بننے کا رسک لینے کو ہر گز تیار نہیں تھے ‘ اس لئے استعفیٰ دے کر چپکے سے خاموشی کی بکل اوڑھ کر”چپ سادھ لی” یہاں تک کہ دیگر سرگرمیاں بھی بند کر دیں اور کسی ٹی وی شو میں بھی نظر آنہیں آتے تھے پھر کچھ مدت بعد(شاید معافی تلافی) کے نتیجے میں ٹی وی پروگراموں میں ایک بار پھر جلوہ گر ہونا شروع ہوئے ‘ مگر مجال ہے جو اپنے مستعفی ہونے کے واقعے پر ایک لفظ تک ادا کیا ہو ‘ بلکہ اب بھی اس دور کی”تلخ یادوں” کو کریدنے کا حوصلہ ان میں نہیں ہے کیونکہ موصوف جانتے ہیں کہ ہاتھی زندہ ایک لاکھ کا اور مر جائے تو سوا لاکھ کا۔ یعنی بھائی کے منہ کو تالا ضرور لگا ہوا ہے مگر ان کے اشارہ ابرو پر اب بھی”سرگرمیاں”دکھانے والے لاتعداد لوگ کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے کسی وقت بھی فعال ہو سکتے ہیں اس لئے ان کے لئے یہی بہت ہے کہ بقول عباس تابش
مرے حروف تہجی کی کیا مجال کہ وہ
تجھے شمار میں لائیں ‘ تراحساب کریں
٭٭٭