ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا ہوچکا؟

تحریک انصاف حکومت کے تین سال بیت چکے، باقی کتنے رہ گئے ہیں کسی کو معلوم نہیں، اگر حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر بھی لیتی ہے تو اس قلیل عرصہ میں حکومت کس قدر ڈلیور کرے گی اس کا اندازہ لگانے کیلئے گزشتہ تین سال کی کارکردگی کافی ہے، ابتدائی سالوں میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اگلے سالوں میں ڈلیور کرے گی، وزیر اعظم عمران خان اپنی حکومت کے ایک سال گزرنے کے بعد اگلے سالوں کو خوشحالی کا دور قرار دیتے رہے ہیں، اب جبکہ عوام توقع کر رہے تھے کہ حکومت اپنے آخری سالوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرے گی تو وفاقی وزراء نے پینترا بدلا ہے اور کہنا شروع کر دیا ہے کہ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں مہنگائی کم ہے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ حکومت کا ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے نوکریوں کی فراہمی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 16 لاکھ سے زائد افراد کو حکومت نے بیرون ملک بھجوایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے محکمہ صحت نے 40 ہزار سے زائد نوکریاں دی ہیں جبکہ دیگر محکموں میں بھی لوگوں کو ملازمت ملی ہے۔ یہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وہ محض چند لاکھ کا فگر ہی بتا پائے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کورونا وبا اور معاشی ناہمواریوں کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی متاثر ہوا ہے، جس میں محنت کش سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ملازمت پیشہ اور کاروبار سے منسلک افراد کے متاثر ہونے والوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے، ہاں جن لوگوں کے پاس اثاثے تھے، انہوں نے مینو فیکچرنگ شعبے میں نئے پیدا ہونے والے مواقع سے خوب فائدہ اٹھایا، یہ طبقہ پہلے ہی سے امیر تھا ،کورونا کے ایام میں مزید امیر ہو گیا، اس طبقے کو حکومتی سرپرستی کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہونے سے حکومت کو فائدہ ہوا ہے، اسی طرح کورونا وبا کے دروان آن لائن کاروبار کے وسیع مواقع پیدا ہوئے ، لاکھوں افراد آن لائن بزنس سے منسلک ہو چکے ہیں، ایک کروڑ افراد کو نوکریاں دینے کا ہدف اس طرح پورا کیا جا رہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آن لائن کاروبار کے پھیلتے حجم کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اس پر ٹیکس لگانے کا عندیہ دیا ہے ٹیکس وصولی ہونی چاہئے تاہم یہ بھی بتایا جانا چاہئے کہ انفرادی سطح پر شروع کیا گیا کاروبار حکومت کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ حکومت کو اس سے فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ بھارت اور چین جیسے بڑے ممالک سے منسوخ ہونے والے برآمدی آرڈرز پاکستان کو مل رہے ہیں۔ اس لیے ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات اور کئی دیگر اشیا کی ایکسپورٹ میں جو بہتری دیکھی جا رہی ہے، آنے والے دنوں میں اس رجحان کے برقرار رہنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے موجودہ حکومت نے کچھ عرصہ پہلے بڑے سرمایہ داروں کے لئے جن مالیاتی رعایتوں کا اعلان کیا تھا، ان کی وجہ سے سے بھی نئی انڈسٹری لگ رہی ہے، کچھ لوگ اپنی صنعتوں کو وسعت دے رہے ہیں اور کچھ اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ اس کے ثمرات بھی جلد دیکھنے کو ملیں گے۔کورونا کے دنوں میں متاثر ہونے والے ٹرانسپورٹ، سیاحت، ہوٹلنگ اور ریسٹورنٹس کے کاروباروں میں بہتری آنے کے کافی امکانات ہیں۔ یاد رہے کہ یورپ اور امریکا کے وہ علاقے، جہاں کورونا کی وبا کی شدت کم ہونے کی وجہ سے پابندیوں میں نرمی آئی ہے، وہاں بھی صارفین کا یہی رجحان دیکھنے میں آیا تھا۔ پاکستان میں صرف ایک سال میں سافٹ ویئر کی ایکسپورٹس دگنی ہو چکی ہیں۔ اس وقت ملک میں موبائل فون بنانے والی دو درجن فیکٹریاں لگ چکی ہیں۔ پاکستان جو اپنے موبائل کا صرف بیس فیصد حصہ خود بنا رہا ہے، اگلے سال اس کا چالیس فیصد حصہ خود بنائے گا۔ پچھلے سال ملک میں دو ملین موٹر سائیکل بنے تھے، اس سال ساڑھے تین ملین بنے ہیں۔ کاروں کی نئی فیکٹریاں لگ چکی ہیں۔ توقع ہے کہ اگر حکومتی پالیسیاں درست رہیں تو ملک میں گاڑیوں کی پیداوار، جو ابھی اڑھائی لاکھ کے قریب ہے، اگلے سال ساڑھے تین لاکھ سالانہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو واقعی لوگوں کو روزگار مل رہا ہے اور چونکہ کاروبار کیلئے ساز گار ماحول بھی حکومت نے فراہم کیا ہے اس لئے وفاقی وزراء کو حق حاصل ہے کہ وہ نجی کاروبار سے پیدا ہونے والے بزنس کے نئے مواقع کا کریڈٹ حاصل کریں۔ ہمارے ہاں حکومت کی طرف سے نوکریاں دینے کے وعدے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ عوام کو سرکاری نوکری حاصل ہو گی، سرکاری نوکری کو پکی نوکری تصور کیا جاتا ہے اور سمجھ لیا جاتا ہے کہ اب گھر بیٹھ کر آرام سے کھاؤ کیونکہ نوکری پکی ہونے کی وجہ سے ان سے کوئی پوچھ گچھ کرنے والا نہیں ہے، عوام میں یہ سوچ جہاں غلط ہے اس کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کی طرف سے نوکریوں کا اعلان یا وعدہ کرنا بھی غلط ہے، اس کی بجائے مجموعی طور پر لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے سازگار موحول مہیا کیا جانا چاہئے جس سے عوام کو یکساں روزگار دستیاب ہو۔