Shazray

بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر نہ ہو

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا حکومت سے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول 14اکتوبر تک طلب کرلیا جس کے بعد نومبر میں پہلے مرحلہ کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ متوقع ہے بعداز تاخیر بسیار بلدیاتی انتخابات کے بلاتاخیر انعقاد یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے میں بلدیاتی نمائندے زیریں سطح پرعوامی مسائل کے حل کی ذمہ داری سنبھال سکیں۔ امر واقع یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو اب تک خیبر پختونخوا حکومت نے مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کا شیڈول فراہم نہیں کیا ہے جبکہ مرحلہ وار انتخابات کرانے کا فیصلہ بھی تحریری طور پر موصول نہیں ہوا ہے بہرحال الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے تیار ہے جبکہ صوبائی حکومت نے بھی نومبر میں پہلے مرحلہ کی یقین دہانی کرائی ہے ماسوائے غیر جمہوری حکومتوں کے کسی بھی منتخب سیاسی حکومت نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کو قبول نہیں کیا اور اگر کبھی ایسا موقع بہ امر مجبوری آیا بھی تو بادل ناخواستہ یہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں دلچسپی لی کیونکہ اس کی جو وجوہات ہیں ان میں دو بڑی وجوہ ایک تو حکومتیں اپنی کارکردگی کی وجہ سے اس خوف میں مبتلا ہوتی ہیں کہ عوام ان کے حق میں ووٹ پول نہیں کریں گے یہ رویہ کسی ایک سیاسی حکومت یا دور تک مختص نہیں ہے بلکہ سابقہ ادوار میں بھی یہی رویہ اختیار کیا جاتا رہا اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا تازہ بیان صورتحال کی وضاحت کے لئے کافی ہے جنہوں نے گزشتہ روز بلدیاتی اداروں کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات تسلیم کی کہ بلدیاتی الیکشن پہلے سال نہ کرانا پی ٹی آئی حکومت کی غلطی تھی ‘ وفاقی وزیر کی بات اپنی جگہ درست سہی مگر حقیقت یہی ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی حکومت اقتدار میں آتی ہے اور بلدیاتی ادارے پہلے ہی سے موجود ہوں تو ان کی مدت کی تکمیل تک سیاسی حکومتوں کی کارکردگی اس قابل نہیں رہتی کہ وہ اس پر فخر کرتے ہوئے بلدیاتی الیکشن کرانے کے”خطرات”مول لیں اب بھی صورتحال تقریبا ویسی ہی ہے سابقہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں مگر نئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا رسک لینے کو صوبائی حکومتیں تیار دکھائی نہیں دیتیں ‘ یہ تو ا لیکشن کمیشن کی اس تنبیہ کے بعد کہ اگرصوبائی حکومتیں لوکل گورنمنٹس الیکشن کرانے کے لئے تاریخ مقرر نہیں کرتیں تو الیکشن کمیشن خود ہی شیڈول جاری کرکے انتخابات کرادے گا اس لئے اب بہ امر مجبوری اس حوالے سے پیش رفت پر صوبائی حکومتیں تیار ہو رہی ہیں بہرحال پھر بھی یہ بات غنیمت ہے کہ بالآخر بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے اقدام اٹھائے جارہے ہیں ‘ جس کے بعد عوام کے مسائل حل کی کوئی صورت نکل آئے گی۔
”دا گز دا میدان”
ایف بی آر کو پاکستان ریونیو آٹومیشن کے تعاون سے پینڈورا پیپرز میں شامل پاکستانیوں کی شناخت کرکے انکم ٹیکس گوشواروں کے ریکارڈ کی چھان بین کی ہدایات کا اجراء خانہ پری ہو تی ہے یا سنجیدہ معاملہ اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ تجربہ لاحاصل ہی ہونے کا امکان ہے کیونکہ با اثر افراد خود کو بچانے اور قوانین کو چکر دینے کا جن کے پاس نظام موجود ہوتا ہے وہاں ایف بی آر کے حکام کے پر جلتے ہیں۔ بہرحال پنڈورا پیپرز میں شامل پاکستانیوں کے ناموں کی فہرست کا ابتدائی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ذرائع کے مطابق پینڈورا پیپرز میں شامل پاکستانیوں کی شناخت کرکے انکے انکم ٹیکس گوشواروں میں دی جانے والی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ظاہر کردہ اثاثوں کی چھان بین کی جائے گی جن لوگوں نے اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں بیرون ممالک اثاثے ظاہر کئے ہوںگے اور باہر بھجوائی جانے والی رقم پر ٹیکس ادا کیا ہوگا تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے انکم ٹیکس گوشوارے ہی موجود نہیں ہونگے یا جن کے انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ جمع کروائی جانے والی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں پینڈورا پیپرز میں سامنے آنے والے اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے ہونگے تو ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایف بی آر ایف آئی اے اور نیب جیسے ادارے اگر فعال کردار ادا کریں اور حکام اپنے فرائض کی انجام دہی میں دبائو اور مفادات کی بجائے ملکی و قومی خدمت کے جذبے کے تحت غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں تو ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تجارت کی بڑی حد تک روک تھام ہو سکتی ہے ۔ایف بی آر نے جن عوامل کا عندیہ دیا ہے ان کی جامع و شفاف تحقیقات اور قصور وار عناصر کوکٹہرے میں لانا ان کے لئے بڑا امتحان ہو گا جس میں کامیاب ہو کر ہی قوم کے سامنے سرخرو ہوا جا سکے گا۔
”سپین جماعت” بارے محتاط فیصلے کی ضرورت
خیبر پختونخوا کی تاریخی مسجد اور درسگاہ”سپین جماعت” کی ازسر نو تعمیر کا معاملہ مسجد کی کمیٹی اور متولین کو اعتماد میں لیکر اور عوام کو مطمئن کرنے کے بعد ہی شروع کیا جانا چاہئے بصورت دیگر اس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے ۔یہ امر قابل غور ہے کہ 1982ء میں تعمیر شدہ عمارت اگر مخدوش قرارپا سکتی ہے تو شہر میں سوسال سے زائد عمر کی عمارتوں سے حکومت صرف نظر کیوں کر رہی ہے ۔ حکومت جہاں بعض اداکاروں کی جائے پیدائش کو تاریخی ورنہ قرار دے کر محفوظ بنانے کی سعی میں ہے تو وہاں ایک مسجد و درسگاہ کی عمارت کی مرمت اور اسے مستحکم رکھنے کے اقدامات سے گریزاں کیوں ہے ۔انتظامیہ کا مسجد و مدرسہ بارے رویہ سے قطع نظر اس مسئلے کا بہتر حل یہ ہو گا کہ انتظامیہ مسجد کمیٹی و متولین اور نمازی حضرات کے نمائندے غیر جانبدار ماہرین تعمیرات سے عمارت کا معائنہ کروائیں اور ان کی سفارشات کی روشنی میں قدم اٹھایا جائے سڑک کی توسیع کی اگر ضرورت ہے تو اس حوالے سے بھی علمائے کرام اور مسجد کمیٹی و متولین سے اتفاق رائے کی صورت مشکل نہیں مل بیٹھ کر اس کا فیصلہ ہو تو مناسب ہوگا۔