Mashriqyiat

مشرقیات


مشرق سے ہوبیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
عقل والوں کے لئے اس شعر میں بڑی نشانیاں ہیں مگر مسلہ یہ ہے کہ ہم عقل وخرد کو کام میں کب لائیں ہیں۔اچھی بات یا شعر ہوایک واہ کرتے ہیں اور یہ چل وہ چل۔۔۔کسی نے شعر میں نثر میں موتی چن کر ہمارے گلے کیوں ڈالنے کی کوشش کی ہم اس کی پرواہ نہیںکرتے۔اپنے علامہ صاحب ایک سے ایک بڑھ کر دانائی کی بات ہمیں سمجھا بجھا گئے ہیں۔ساٹھ سال سے کچھ زیادہ ہو جیے اور انہیں گزرے ہو گئے83برس ،ان کے کل کلام کو اس عرصے میں لہک لہک کر پڑھنے کے سوا اس قوم نے کیا تیر مارا ہے ،کسی کو معلوم ہو کچھ تو جواب شکوہ کی کھلے عام اجازت ہے۔
شاید علامہ کو بھی اس چیز کا یعنی ہمارے نکمے پن کا بخوبی ادراک تھا اس لئے اپنی زندگی ہی میں فرما گئے تھے ہمارے اعمال اور شامت اعمال دیکھ کر کہ
احکام ترے حق ہیںمگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاڑند
جب اللہ کے کلام میں جگہ جگہ عقل والوں کے لئے بکھری نشانیوں پر ہماری نظر نہیں پڑ رہی تو پھر کوئی علامہ بنا پھرتا رہے اس قوم نے اسکے کلام کو قوالی بنا دینا ہے اور کچھ نہیں۔ویسے علامہ کے کلام کو قوالی بناکر جتنی دولت شہرت ہمارے ہاں کے گویوں نے سمیٹ لی ہے اتنی دولت تو خودعلامہ او ر ان کے پسماندگان کو کاپی رائٹس کے حقوق سے بھی ہاتھ نہیں آئی تھی۔بعض اوقات تو ہمیں یہی لگتا ہے کہ ان گویوں نے علامہ کی قوم کے شاہیں بچوں کو افیون دے کر سلانے کا کام ہی کیا ہے۔مذکورہ شعر ہی کو لے لیں علامہ صاحب نے شاہین بچوں کو کہا ہے کہ مشرق یا مغرب جہاں سے بھی حکمت کے سوتے پھوٹتے ہوں ان سے استفادہ کرکے اپنی قوم کے تاریک مستقبل کو روشن کرلیں۔ادھر ہم نے علم کو بھی دینی اور دنیاوی خانوں میں بانٹا ہی نہیں اس پر مستقبل بعید کی بحث کی بنیاد بھی رکھ دی۔صدیوں سے جاری اس بحث کو ختم کرنے کے لئے علامہ صاحب نے رہنمائی فرمائی تو ان کے فرما ئے گئے کو بھی ہم نے سنی ان سنی کر دیا ہے۔دنیااور دینی علوم کے خانوں میں علم کی بندر بانٹ کرنے والوں نے جس بحث میں ہمیں الجھا رکھا ہے اس کے بعد ہمارا حال احوال بقول شاعریہ ہے کہ
نہ انجن کی خوبی نہ کمالِ ڈرائیور
چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے