شوگر کم۔۔ روٹی گُم

شکر ہے ہم فرانس کے باشندے ہیں نہ یہ وہ زمانہ ہے جب لوگ روٹی نہ ملنے پر احتجاج کرتے ہوئے جلوس نکال کر شہزادی کے سامنے سے گزرتے ہیں ‘ چونکہ اب نہ شہزادیوں ‘ ملکائوں اور بادشاہوں کا دور ہے نہ ابھی حالات اس نہج پر پہنچے ہیں کہ لوگ روٹی نہ ملنے کی شکایات کر رہے ہوں۔ الحمد للہ ابھی روٹی مل رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ اب روٹی کے نام پرلوگوں کو پاپڑ تھمائے جاتے ہیں وہ بھی مہنگے داموں ‘ یعنی یہ خبریں اخبارات تک اب کہیں پہنچی ہیں کہ نانبائیوں نے روٹی کی قیمت از خود پندرہ روپے کر دی ہے ‘ ممکن ہے یہ خبر پیدل چل کر آئی ہو ‘ کیونکہ ہم گل بہار والے تو گزشہ ایک سال سے پندرہ روپے پر روٹی خرید رہے ہیں حیات آباد میں بھی پندرہ روپے کی روٹی بکتی ہے’ اتنا البتہ ضرورہوا ہے کہ جب سے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے ‘ اب پندرہ روپے والی روٹی بھی اس مہنگائی سے تنگ آکر اپنا وزن مزید گھٹا لیا ہے، گزشتہ ایک سال سے ہمیں نانبائی لوٹتے رہے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہوئے کہ سب کا ایک جیسا ہی حال ہو گا ‘ مقابلتاً مہنگی روٹی خریدنے پر مجبور تھے ‘ کچھ کہنے کا یارا اس لئے نہیں تھا کہ اور کونسی چیز سرکار کے مقرر کردہ نرخوں پر دستیاب ہے جو ایک روٹی کا غم کھاتے ‘ بلکہ ”غم” کھانے سے تو بہتر یہی تھا کہ روٹی ہی کھا کر صبر شکر کرتے وقت”صابر شاکر” بن کر اللہ کا شکر بجا لاتے ‘ سو یہی ہم نے کیا ‘ مگر افسوس کہ ہماری یہ ادا بھی ”وقت کے شہزادوں” کو ایک آنکھ نہیں بھائی اور انہوں نے حکم صادر فرما دیا ہے کہ ”روٹی اور چینی کم کھائیں” یعنی 100نوالے کھاتے ہیں تو کم کر دیں ‘ چائے میں چینی سو میں سے نو دانے کم ڈالیں ‘ سبحان اللہ ‘ کیا مفید مشورہ دیا ہے اور خدا لگتی کہئے تو یہ جو نانبائیوں نے از خود روٹی کا وزن کم کر دیا ہے اور ساتھ ہی قیمت بھی بڑھا دی ہے تو شاید انہوں نے وزن کی کمی اسی بیانئے کی روشنی میں کر دی ہے کہ سو نوالے سے پہلے یہی دس نوالے کم کر دیتے ہیں تاکہ محولہ وزیر موصوف کی بات بھی رہ جائے اور عوام کی صحت بھی برقرار رہے وہ اس لئے کہ اچھی صحت کا راز یہی بتایا جاتا ہے کہ پیٹ بھر کر کھانے سے کئی قسم کی بیماریاں لگ سکتی ہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ ضرورت سے تھوڑا سا کم کھائو اس سے معدہ بھی نارمل رہتا ہے اور طبیعت پر بھاری پن بھی نہیں آتا ‘ رہ گئی سو میں سے نو دانے چینی کم کرنے کی بات تو یہاں کچھ سخن گسترانہ بات آجاتی ہے اور وہ یوں کہ آج تک ایسا کوئی پیمانہ ایجاد نہیں ہوا جو چینی کے دانے گننے میں ممد ثابت ہو ‘ اب بندہ خود بیٹھ کر ایک ایک دانہ چینی گننا شروع کردے تو پھر چائے وغیرہ کا ذائقہ تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے ‘ اور چائے تو گرم گرم ہی اچھی لگتی ہے ‘ اس حوالے سے ایک بزرگ فرما گئے ہیں کہ چائے کی پیالی لب دوز ‘ لب سوز اور لبریز ہونی چاہئے وگرنہ کیا فائدہ ؟ اگرچہ اس حوالے سے بھارت کی ایک فلم بھی یاد آگئی ہے جس میں امیتابھ بچن اور تبو نے مرکزی کردار ادا کئے تھے ‘ فلم کا نام ہی”چینی کم” تھا ‘ فلم میںامیتابھ بچن ایک ہوٹل میں ذائقہ ایکسپرٹ کے طور پرکام کرتا ہے اور ہر ڈش کو پہلے ایک چمچ یا ایک نوالہ چکھ کر اس کی کوالٹی کو پرکھنے کے بعد متعلقہ گاہگ کو پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے ‘ ہیروئن تبو اپنی ایک کزن کے ساتھ بھارت سے لندن جاتی ہے اور ہوٹل میں جا کر حیدر آبادی بریانی کا آرڈر دیتی ہے ‘ بریانی لا کر پیش کر دی جاتی ہے تو وہ ذائقے کے حوالے سے اس میں چینی کی مقدار زیادہ ہونے کی شکایت کرکے کھائے بغیر اٹھ آتی ہے ‘ امیتابھ بچن اس کے ساتھ بحث کرکے ذائقہ درست ہونے پرمصر ہوتا ہے ‘ دو چار روز بعد تبو اور اس کی کزن گھر سے خود حیدر آبادی بریانی پکا کرلاتی ہے اور ویٹر کو کہتی ہے کہ یہ اپنے ذائقہ ایکسپرٹ کو کھلا دیں ‘ وہ پلیٹ میں بریانی ڈال کر امیتابھ بچن کے پاس لاتا ہے ‘ وہ ایک چمچ منہ میں ڈال کر ذائقے کی تعریف کرتا ہے اور اسے گاہک کے سامنے پیش کرنے کو کہتا ہے تو ویٹر اسے بتاتا ہے کہ جی نہیں ‘ یہ بریانی ہمارے ہاں نہیں پکی بلکہ تبو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دورسے اسے بتاتا ہے کہ یہ بریانی اس روز والی دو خواتین اپنے گھر سے بنا کر لائی ہیں اور آپ کو پیش کرنے کو کہا ہے ‘ اس بریانی میں”چینی کم” اور ذائقہ شاندار ہوتا ہے ‘ یہیں سے کہانی میں ٹوسٹ آتا ہے اور امیتابھ اور تبو میں قربتیں پیدا ہوتی ہیں ‘ بہرحال وہاں تو چینی کم کا بریانی کے ذائقے سے تعلق ہوتا ہے جبکہ یہاں کم چینی استعمال کرنے کی ہدایت چائے کے حوالے سے کی گئی ہے ‘ مگر اسے کیا کہا جائے کہ ہمارے ہاں چائے میں کم چینی کا رواج ہے نہ اسے بطور عادت کوئی اپنانے کو تیار ہے ‘ ہاں البتہ جو بے چارے شوگر یعنی ذیابیطس کے مریض ہیں وہ چینی کم تو کیا اس سے مکمل پرہیز کرتے ہیں ‘ اس پر ہمیں اپنی ایک مرحومہ چچی یاد آگئیں جو ایک بار لاہور اپنے بچوں کے ساتھ گئی تھیں اور بچوں کے کاروباری دوستوں کے ہاں ان کی دعوت کی گئی تو وہاں سے ان پوچھا گیا کہ چائے کی پیالی میں چینی کتنے چمچ ڈالی جائے ‘ وہ سیدھی سادی عورت ‘ کہا بس جتنے پہ چائے میٹھی ہو جائے ‘ ہمارے ایک ریڈیو کے ساتھی تھے ‘ مرحوم کو شوگر کی شکایت تھی ‘ اس لئے چائے میں چینی کا استعمال تو نہیں کرتے تھے ‘ البتہ مٹھائی کو دیکھ کران کے”اوسان خطا” ہو جاتے تھے اور دوستوں کے منع کرنے کے باوجود مٹھائی کے ڈبے میں سے گلاب جامن پر فوراً حملہ آور ہو جاتے ۔ شوگر اور کچھ اور قسم کے”مریضوں” کے حوالے سے انور مسعود نے کیا خوب کہا ہے کہ
میرے پانی میں ملا اور ذرا سا پانی
میری عادت ہے کہ پیتا ہوں میں پتلا پانی
مجھ کو شوگر بھی ہے اور پاس شریعت بھی ہے
میری قسمت میں نہ میٹھا ہے نہ کڑوا پانی
بہر حال ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ جو ”شہزادے” نے چینی اور روٹی کم استعمال کرنے کا مفت مشورہ دیا ہے تو اس سے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کے چانسز بہت زیادہ ہیں ‘ اور آپ خود سوچئے کہ آج کل کی اس ”مادی دنیا” میں یوں مفت کے مشورے کون دیتا ہے ‘ ہاں اتنا خوف ضرور ہے کہ کل کلاں کہیں سو پیاز ‘ سو جوتے والے مشورے بھی عام نہ ہوجائیں ‘ کیونکہ ایسے مشورے بندے کو دونوں کھانے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘ حالانکہ جن کو کم روٹی اور کم چینی استعمال کے مشورے دیئے جا رہے ہیں ان کے بارے میں مرحوم ساحر مصطفائی نے کیا خوبصورت بات کہی تھی کہ
جو فاقہ کش ہیں ہمیشہ وہ فاقہ کش ہی رہیں
کسی کتاب میں ساحر کہیں لکھا تو نہیں