امریکہ کی بھارت نوازی اسے لے ڈوبی؟

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر امریکہ میں سوچنے اور سمجھنے والی واحد شخصیت معلوم ہوتے ہیں ۔ جنہوںنے افغانستان میں امریکی شکست کے اسباب کا قطعی غیر جذباتی انداز میں جائزہ لیا ہے۔دی اکانومسٹ میں لکھے گئے ایک مضمون میں انہوںنے افغانستان میں افغانستان میں امریکہ کے ناکام ہوجانے کی ٹھوس وجوہات بیان کی ہیں۔ چند جملے جو کسنجر سے منسوب ہو کر سوشل میڈیا میں گردش تو کر رہے ہیں مگر وہ اس مضمون میں کہیں پڑھنے کو نہیں ملے ۔ہنری کسنجر سے منسوب یہ جملے سچ ہیں یا کسی اور ذہن کی اختراع مگر یہ اس ساری کہانی کا نچوڑ ہے ۔ کسنجر نے افغانستان میں امریکہ کی شکست کے بنیادی اسباب اور وجوہات میں ایک اہم وجہ امریکہ کی بھارت نوازی کو بتایا ہے ۔کسنجر کے مطابق افغانستان میں امریکہ کی ایک بڑی حماقت کا نام بھارت ہے ۔بھارت اور انڈیا ٹھگوں کا ایک ٹولہ تھاجنہوںنے امریکہ کو گمراہ کرکے ٹیکس دہندگان کا پیسہ ضائع کیا اور پاکستان سمیت بہت سے معاملات پر جھوٹ کا سہارا لیا۔آخر پر سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے ۔یہ ہنری کسنجر کی بات یا ہمارے اپنے ماجے گامے کی مگراس بات میں اتنا وزن ہے کہ اسے قول زریں سمجھ کر لائبریوں اور تحقیقی اداروں میں سجا دینا چاہئے ۔افغانستان کی جنگ لڑنے اور جیتنے کے لئے خود افغانستان کے بعد اگر کوئی ملک اہم تھا وہ تھا پاکستان ۔اس پر پاکستان سے امریکہ تک کامل اتفاق موجود ہے ۔امریکہ نے افغانستان میں اترتے ہی افغانستان کو دبوچا اور پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگایا ۔بات یہیں تک رہتی تو کچھ نہ تھا اور امریکہ جب افغانستان میں داخل ہوا تو سند باد جہازی کی کہانی سمندر کا بُھتنا اپنے کندھے پر اُٹھائے ہوئے تھا اوراس بُھتنے کا نام بھارت تھا اور بھارت اور پاکستان کی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔امریکہ افغانستان کی جنگ جیتنا چاہتا تھا اسے معلوم تھا کہ اس کام لئے پاکستان سب سے اہم ترین ملک ہے اور کندھے پر اُٹھائے داخل ہوا بھارت کو جسکے ساتھ پاکستان کی ازلی دشمنی چل رہی ہے ۔امریکہ نے اس دشمنی کو قطعی اہمیت نہیں دی اور جو بیانیہ بھارت نے کاغذ پر لکھ کر تھمایا امریکہ اسی کا ورد کرتا رہا ۔بھارت کی اکثر باتیں اور رپورٹس حقیقت سے زیادہ پاکستان سے اپنی روایتی دشمنی اور اسے افغانستان سے بے دخل کرنے کی خواہش کے گرد گھومتی تھیں اس لئے امریکہ ایک دلدل میں دھنستا چلا گیا ۔پاکستان امریکہ کے ساتھ تعاون میں محتاط ہوگیا ۔اسے طالبان اور امریکہ کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مفاہمت کا راستہ اپنانے میں دلچسپی نہیں رہی اور بھارت نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیار القاعدہ کے ہاتھ لگنے کا افسانہ تراش کر امریکیوں کو شیشے میں اتا رلیا ۔امریکی ایک ایسے مشیر کے ہتھے چڑھ گئے جو اس زمین اور اس کے لوگوں کے مزاج سے قطعی نا آشنا اور آتش انتقام کا شکا ر تھا ۔بھارت کی پاکستان دشمنی نے امریکہ کی توجہ بانٹ دی اور امریکہ افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان پر متوجہ ہوا۔بالکل اسی طرح کہ افغانستان کا بخیہ ادھیڑنے کے دوسال بعد ہی امریکہ عراق کا محاذ کھول بیٹھا یوں عسکری طور پر امریکہ کی توجہ بٹ گئی ۔امریکہ نے افغانستان میں حاصل ہونے والی زیادہ تر سپیس بھارت کوفراہم کی اور بھارت اس سپیس کو قیام امن کے لئے نہیں بلکہ پاکستان مخالفت میں استعمال کرنے لگا۔ اب افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصوراحمد خان نے کہا ہے کہ افغانستان کے سی پیک میں شامل ہونے پر طالبان سے بات ہوئی ہے ۔علاقائی روابط افغان قیادت کے ساتھ ہماری بحث کا اہم عنصر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں روس چین او ر پاکستان کے نمائندوں کی طالبان کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے اور سکیورٹی اور معاشی ترقی اس بات چیت کے اہم موضوعات تھے ۔سی پیک چین کے ہمہ جہتی بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹو کا اہم ترین منصوبہ ہے جس کے لئے چین پاکستان میں پنسٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔افغانستان سقوط کابل کی شکل میں ایک نرم اور غیر خونیں انقلاب سے گزرا ہے۔
چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹو کے سخت گیر مخالفین یعنی امریکہ اور بھارت کی کھلی ہمنوا تھی ۔ اس حکومت کی چھتری تلے ان منصوبوں کے رنگا رنگ مخالفین جمع ہو کر اپنے مقاصد کو آگے بڑھاتے تھے ۔کبھی وہ براہ راست چین کے مفادات پر کاری وار کرتے اور کبھی ان کا نشانہ پاکستان ہوتا جس کا مقصد بہرحال ایک ہی تھا کہ پاکستان کے اعصاب توڑ کر اسے چین کے ساتھ کھڑا ہونے سے باز رکھا جائے ۔چین نے براہ راست اور پاکستان کے ذریعے متعدد بار کوششیں کیں کہ افغانستان کو اس مخالفانہ اور معاندانہ روش پر چلنے سے باز رکھا جائے مگر افغان حکومت کا ساراتکیہ امریکی فوج اور بھارت کی پس پردہ حمایت پر تھا۔ایک بار ریاست پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کابل کے حکمرانوں کو سی پیک کی مخالفت چھوڑ کر انہیں اس منصوبے میں شامل ہونے کے لئے دورہ کیا اور چند ہی گھنٹے بعد اشرف غنی نے اس دورے کے مقاصد کو کھلے بندوں بیان کرکے ایک انداز سے اس کوشش کا مذاق ہی اُڑایا ۔